بسنت محض ایک تہوار نہیں بلکہ لاہور کی تہذیبی شناخت، اس کی تاریخ اور اس کے رنگوں کی علامت ہے۔ ہر معاشرے کی Creed اور Culture اس کی پہچان ہوتی ہے، اور جب یہی پہچان مثبت سرگرمیوں کے ذریعے فروغ پاتی ہے تو انتہا پسندی خود بخود پسپا ہونے لگتی ہے۔ ایک طویل وقفے کے بعد لاہور میں بسنت کی واپسی اس حقیقت کا اعلان ہے کہ معاشرے کو خوشیوں سے محروم رکھ کر نہ تو امن قائم کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی سوچوں کو اعتدال کی طرف لایا جا سکتا ہے۔یہ ایک جرات مندانہ اور دور اندیش فیصلہ ہے جس کا کریڈٹ وزیراعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز کو جاتا ہے، جنہوں نے ثقافت کو شدت پسندی کے مقابل ایک مثبت قومی بیانیے کے طور پر پیش کیا۔ اسی طرح پنجاب کی سینئر وزیر اور ایک بہادر و مدبر خاتون رہنما محترمہ مریم اورنگزیب کا کردار بھی لائقِ تحسین ہے، جنہوں نے ثقافتی آزادی اور ذمہ دار ریاستی عمل کے درمیان توازن قائم رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ایسے فیصلے اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ قیادت اگر باہمت ہو تو خوف کی فضا کو بھی امید میں بدلا جا سکتا ہے۔
بسنت کی بحالی دراصل اس سوچ کی نفی ہے جو ہر خوشی کو خطرہ اور ہر روایت کو جرم بنا دیتی ہے۔ رنگ برنگی پتنگیں، چھتوں پر گونجتے قہقہے، سرسوں کے زرد لباس اور لاہور کی فضاؤں میں بکھری مسرت یہ سب اس بات کا ثبوت ہیں کہ زندگی کو زنجیروں میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ مثبت ثقافتی سرگرمیاں انتہا پسندی کے خلاف سب سے مؤثر ہتھیار ہوتی ہیں کیونکہ یہ معاشرے میں خوف نہیں بلکہ اُمید، برداشت اور ہم آہنگی کو جنم دیتی ہیں۔بسنت نے نہ صرف لاہور بلکہ پورے پنجاب میں خوشیوں کی لہر دوڑا دی ہے۔ دعا ہے کہ یہ دن پورے صوبے کے لیے خوشحالی، امن اور ترقی کا پیامبر ثابت ہو۔
ایک طویل عرصے بعد دنیا بھر سے لوگ اس تہوار میں شرکت کے لیے پنجاب کا رخ کر رہے ہیں، جس سے پاکستان اور خصوصاً لاہور کا نرم، مہذب اور ثقافتی چہرہ عالمی سطح پر اُجاگر ہو رہا ہے۔یہ بھی ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ برسوں تک بسنت پر پابندی نے ایک تہذیبی روایت کے ساتھ ساتھ ہزاروں خاندانوں کے روزگار کو بھی متاثر کیا۔ پتنگ سازی، ڈور کی صنعت، دستکار، چھوٹے تاجر، ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ اور سیاحت سے وابستہ شعبے اس تہوار سے براہِ راست منسلک ہیں۔ بسنت کی واپسی نے ان تمام شعبوں میں ایک بار پھر معاشی سرگرمی کو جنم دیا ہے، جو پنجاب کی معیشت کے لیے خوش آئند پیش رفت ہے۔
تاہم خوشیوں کے اس ماحول میں ذمہ داری اور احتیاط کا پہلو بھی اتنا ہی اہم ہے۔ ماضی کے تلخ تجربات ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ کسی بھی تہوار کی کامیابی کا انحصار مؤثر انتظامات اور ریاستی ذمہ داری پر ہوتا ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ انتظامیہ، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور متعلقہ محکمے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے، حفاظتی ضابطوں پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ہر صورت مقدم رکھا جائے گا۔بسنت کسی ایک طبقے یا شہر کا نہیں بلکہ پورے پنجاب کا تہوار ہے۔ یہ وہ موقع ہے جہاں امیر و غریب، مقامی و غیر ملکی، سب ایک ہی خوشی میں شریک نظر آتے ہیں۔ اگر ہم نے ثقافت کو ذمہ داری کے ساتھ اپنایا تو یہ رنگ صرف آسمان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ہماری اجتماعی سوچ، رویوں اور مستقبل میں بھی بکھر جائینگے۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ بسنت کی واپسی محض ایک تہوار کی بحالی نہیں بلکہ ایک فکری اور سماجی تبدیلی کی علامت ہے۔ دعا ہے کہ یہ دن پورے پنجاب کے لیے امن، خوشحالی اور ترقی کا پیش خیمہ ثابت ہو۔