آج کل ایک نیا ٹرینڈ چلاہواہے’آرگینک فوڈ‘۔ آسان الفاظ میں کہیں تودیسی چیزوں کا استعمال فیشن بنتا جارہاہے۔چونکہ لوگوں کو دیسی چیزوں کے نام پر پھنسانا زیادہ آسان ہے لہٰذا ہر چیز کے شروع میں ’آرگینک‘ کا لفظ لگا کر نیا چونا لگایا جارہا ہے۔چکن کے متعلق سب سے زیادہ واویلا مچایاجاتاہے کہ جو مرغی خود کھڑی نہیں ہوسکتی وہ کھانے کے بعد کسی کو کیا طاقت بخشے گی۔ یہ دلیل سن کر لگتاہے گویا ہرن کا گوشت کھانے والے ہرن کی طرح قلانچیں بھرنے لگتے ہیں اور شترمرغ کھانے سے قد لمبا ہوجاتا ہوگا۔سائنسی تحقیق کے مطابق دیسی اور ولایتی مرغی کے گوشت کی افادیت میں زیادہ فرق نہیں۔اسی طرح دیسی انڈے ا ور سادہ انڈے دونوں فائدہ مند ہیں۔مچھلی دریائی ہویا فارمی دونوں قوت بخش ہیں البتہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ کس تیل میں پکائی گئی ہیں۔ دیسی گھی اورآئل کے نقصان اور فائدوں میں بھی کوئی خاص فرق نہیں۔ کہاجاتاہےکہ گاؤں میںبڑی خالص غذائیں ہوتی ہیں لیکن آپ کبھی موازنہ کرکے دیکھئے گا، گاؤں کے دیسی غذائیں کھانے والے بہت جلد اپنی عمر سے بڑے نظر آنے لگتے ہیں حالانکہ گاؤں کابندہ محنت کش ہوتاہے، زیادہ سخت حالات میں پرورش پاتاہے۔یہ درست ہے کہ شہروں میں سوفٹ ڈرنک اور کیمیکل ملادودھ بہت سی بیماریوں کا باعث بنتاہے لیکن مجموعی طور پر آپ کو آرگینک غذائیں نہ کھانے والے بھی صحت مند نظر آتے ہیں۔صرف صحت مندغذاہی ضروری نہیں بلکہ غذا کاصاف ستھراہونا، ماحول اور دیگر بہت سی احتیاطیں ہی اسے صحت بخش بناتی ہیں۔
٭ ٭ ٭
لاہورکی بسنت اپنے عروج پرہے۔لمبے عرصے بعد شہر میں رونق لگی ہے۔لاہورکی سڑکیں میلے کا سماں پیش کر رہی ہیں۔ ساری ساری رات چھتوںپر پکوان بن رہے ہیں اور محفلیں سجائی جارہی ہیں۔حادثات بھی ہورہے ہیں لیکن ان میں زیادہ قصور خودلوگوں کانظر آرہاہے۔یاد کیجئے بچپن میں ہم میں سے اکثر ڈورکومانجھالگایا کرتے تھے۔ سارا دن پتنگیں اڑاتے تھے،تب بھی حادثات ہوتے تھے۔اگرکوئی پتنگ لوٹنے کے چکر میں سڑک پر ’چانبا‘لیے دوڑتا پھرے تو سرکار اس میں کیا کرے؟ سوشل میڈیاپر ایک وڈیو دیکھی کہ گھر کی چھت پر ایک صاحب منہ میں پٹرول ڈال کر لمبی سی آگ کی لپٹیں پیدا کر رہے تھے، اسی چکرمیں خود انہیں آگ لگ گئی جو بہت مشکل سے بجھائی گئی۔ اس حرکت پر قصور وار کون ہے؟ بقرعیدپرکتنی ہی وڈیوز آتی ہیں جن میں جانور رسی تڑواکر بھاگ جاتے ہیں، راہگیروں کو زخمی کر دیتے ہیں، کئی لوگ جان سے جاتے ہیں لیکن اس کی ذمہ دار عید نہیں ہم خود ہوتے ہیں۔ا سپین میں آج بھی بل فائٹنگ ہوتی ہے جو نری موت ہے لیکن اسے پورے جوش و خروش سے منایا جاتاہے۔ پتنگ اڑاناخطرناک نہیں‘ اس رنگ میں بھنگ ڈالنا خطرناک ہے۔سڑکوں پر حادثات کی شرح بڑھ جائے تو احتیاطی اقدامات کیے جاتے ہیں گاڑیاں چلانے پر پابندی نہیں لگا دی جاتی۔لوگ خوش ہوناچاہتے ہیں اور انہیں خوش ہونا بھی چاہیے۔چھوٹے چھوٹے تہواروں کو روکنے کے چکر میں ہم نے خود کومشینی چکرمیں قید کررکھا ہے۔ کبھی کبھی اس روٹین سے نکل کر انجوائے بھی کرنا چاہیے۔حادثات کاامکان ہر جگہ ہوتاہے خواہ وہ پتنگ بازی ہو یا کبوتربازی۔اپنی احتیاط خود کریں اور خوشی کو ایسے منائیں کہ خوشی کا اختتام بھی خوشی پر ہو۔
٭ ٭ ٭
برادر ملک میں اونٹوں کو باقاعدہ پاسپورٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔یوں سمجھ لیجئے کہ ہر اونٹ کا ایک شناختی کارڈ ہوگا جس پر اس کا رنگ، نسل، تاریخ پیدائش،جنس وغیرہ درج ہوں گے۔تاہم یہ نہیں پتا کہ اونٹوں کو کسی دوسرے ملک کا ویزہ لگوانے کے لیے خود ایمبیسی جانا پڑے گا یا ایمبیسی خود اونٹ کے پاس آئے گی۔یہ بھی پتانہیں چل سکا کہ اونٹوں کی ولدیت کے خانے میں کیا لکھا جائے گا۔میراخیال ہے چونکہ اونٹ اس معاملے میں ’ایک پیج‘ پر ہیں لہٰذا جو اونٹ جس کو اپنا ’پاپا‘ قرار دے اسی کو مان لیا جائے۔اونٹوں کو پاسپورٹ بنوانے میں انسانوں والی مشکلات کاسامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ نہ انہیں برتھ سرٹیفکیٹ کی ضرورت ہوگی، نہ میٹرک کی سند ساتھ لگانی پڑے گی، نہ اوتھ کمشنر سے فارم تصدیق کروانا پڑیں گے، نہ بائیو میٹرک ہوگی اور نہ کسی شناختی نشان کاجھنجٹ ہوگا۔عین ممکن ہے اگر کسی اونٹ کا پاسپورٹ گم ہوجائے تو وہ بھی اخبار میں اشتہار دے کہ میرا پاسپورٹ نمبرفلاں گم ہوگیا ہے جس کو ملے فلاں پتے پر بھیج دے، فقط جیلا صحرائی۔میری تجویز ہے کہ اونٹوں کو بھی گاڑیوں کی طرح نمبر پلیٹ لگانی چاہیے تاکہ اگر کوئی اونٹ کسی کو کاٹ لے تو بندہ ہسپتال میں بتا تو سکے کہ مجھے LXT 1288نے کاٹاہے۔نمبرلگانے کا ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ انسانوں کی طرح ان کی ’اونٹ شماری‘ بھی آسانی سے ہوسکے گی۔چونکہ اونٹوں کے پاسپورٹ پرتمام تفصیلات درج ہوں گی لہٰذا ان کے رشتوں میں بھی آسانی ہوگی۔آرام سے پتا چل جایا کرے گا کہ کون سااونٹ خاندانی ہے۔ اونٹوں کے بچوں کا بھی ب فارم بننا چاہیے۔ تاہم ایک چیز مجھے پریشان کررہی ہے کہ جس اونٹنی کے شوہر نامدار عید الاضحی پر قربان ہوں گے اس کا کیا بنے گا؟ اس کا نیا پاسپورٹ بنے گا یا وہ اکلاپاقبول کرے گی۔یہ بھی ایک سوال ہے کہ کیا اونٹوں کے شناختی کارڈ پر ان کی تصویر بھی ہوگی۔ اگرہوگی تو کیسے پتا چلے گا کہ یہ کون سا اونٹ ہے۔اونٹ تو سارے ایک جیسے ہی ہوتے ہیں۔ لیکن ہوسکتاہے اونٹوں کے مالکان کو ان کی شکلوں کی پہچان ہو جس طرح گائے بھینسیں رکھنے والے اپنے مویشی آسانی سے پہچان لیتے ہیں۔اونٹوں کے پاسپورٹ بن گئے تو یہ بھی دھیان رکھنا ہوگا کہ کوئی اونٹ کسی دوسرے کے پاسپورٹ پر فلائی کرکے کسی دوسرے ملک جاکر اسائلم نہ اپلائی کردے۔مجھے لگتاہے کہ برادری میں ہر اُس اونٹ کی بڑی قدر ہوگی جسکے پاس ڈوئل نیشنیلٹی ہوگی۔ایسے اونٹ کے لیے رشتے بھی دھڑادھڑ آئینگے اور گھروالے بھی بات بات پرکہیں گے کہ ہمارا ’لڑکا‘ تولاکھوں میں ایک ہے۔ پاسپورٹ بننے کے بعد اِن صحرائی جہازوں کو پہلی بار ہوائی جہازوں میں بیٹھنے کا موقع ملے گا اور یہ دیکھنے کا بھی کہ آدھی سے زیادہ دنیا پر گدھے قابض ہیں۔