انسانی حرص و ہوس اور بے لگام تجارت نے عالمی ماحولیات اور بقا کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ یہ نظام ِقدرت کا بھی خاصہ ہے کہ ایسی تباہ کن سرگرمیوں کے مقابل انسانوں میں سے اصلاح کار لوگوں کو آگے لے آتا ہے۔ جو ارضی نظام کے بگاڑ کے آگے دیوار بن جاتے ہیں ۔ خدا نخواستہ انسانی کاوشیںبرائے اصلاح ناکام ہوتی نظر آئیں تو خالق اپنے چھپے خزانوں سے مخلوقات کو متبادل قدرتی وسائل اورنظام عطا کر دیتا ہے ۔ بالکل اس ماں کی طرح جو شریر بچوں کے ہاتھوں کھانے یاکھلونے کی بربادی کے پیش نظر متبادل پیش کردیتی ہےاور خالق کی اپنی مخلوق کیساتھ حتمی محبت تو ہزار ماؤں سے بھی فزوں تر ہے۔
انسانوں کے ہاتھوں بے تحاشا زمینی ایندھن یعنی کوئلہ، تیل اور گیس کے استعمال کی وجہ سے عالمی حدت اور گلوبل وارمنگ نے مخلوق کو مضمحل کردیا ہے۔ لیکن خرابیٔ بسیار کے باوجود گرین لینڈ کے خفیہ وسائل رحمت ثابت ہوسکتے ہیں اور عالمی گلیشیرز کے پگھلنے سے جن ماحولیاتی تباہ کاریوں کی شروعات نظر آرہی ہیں۔ گلیشیرز کے پگھلنے کے اس عمل سےBlessing in disguiseکی صورت میں گرین لینڈ کے چھپے ہوئے وسائل آشکار ہورہے ہیں۔ انسانی عقل و دانش اجتماعی مفادات پر مرتکز ہوگئی تو گرین لینڈ پوری ارضی مخلوق کے لئے رحمت ثابت ہوسکتا ہے۔ دنیا کے دوسرے حصوں میں گلوبل وارمنگ کی وجہ سے پگھلتی پرتیں اگرچہ ماحولیات پر منفی اثرات ڈال رہی ہیں۔ لیکن گلیشیر پگھلنے کا یہی عمل گرین لینڈ میں چھپی ماحول دوست دھاتوں کو انسانوں کیلئے سطح دہن پر نمودار کر رہا ہے۔ جوں جوں ماحول دوست توانائی کا شعور بیدار ہورہا ہےتوں توں زیرِ گلیشیرز نایاب دھاتیں یعنی نیو ڈی میم، ڈائی پروزیم اور پریزو ڈیمیم وغیرہ دریافت ہورہی ہیں۔ یہی وہ دھاتیں ہیں جن کے استعمال سے برقی موٹر کاریں ہوائی ٹربائین اور مہنگے دفاعی ہتھیار کے استعمال میں بے تحاشا فوائد ہیں۔
جب سے اقوامِ عالم نے ڈالر وابستگی سے بیزاری کا اظہار شروع کیا ہے۔ علاقائی تجارت اور معیشتیں غیر یقینی حالات سے دوچار ہوگئی ہیں۔ چنانچہ اکثر ممالک نے اپنے محفوظ اثاثہ جات اور تجارتی لین دین کو زمینی دھاتوں سونا، چاندی وغیرہ کی شکل میں بطور متبادل کرنسی استعمال شروع کردیا ہے۔ چین کی اس قائدانہ حکمت عملی کے توڑکیلئے امریکہ اور مغربی اقوام گرین لینڈ کی خفیہ دھاتوں کو عالمی مقابلے کیلئے پیش کرنے کا پروگرام بنا رہی ہیں۔ گرین لینڈ میں نایاب اور بنیادی دھاتوں کی بہتات کے ساتھ زنک، کاپر، گریفائٹ اور یورینیم کے خفیہ خزانے بھی آشکار ہورہے ہیں۔ گلیشیرز کے تیزی سے پگھلنے کے بعد گرین لینڈ اور براعظم انٹارکٹیکا میں نئے نئے بحری روٹوں کی دریافت تجارتوں کو آسان کرنے کے قریب ہے چنانچہ شمال بحری راستے اور شمال مغربی آبی درے جو سال کے بیش تر ایام انجماد کا شکار رہتے ہیں گلوبل وارمنگ نے وہاں تجارتی اوقات میں بے حد اضافہ کر دیا ہے۔ یوں یہ بحری تجارتی سفر پوری دنیا کی تجارت کا عرصہ سفر کم از کم 20روز تک کم کر رہا ہے۔ یوں نقل و حمل کے اخراجات میں قابل ذکر کمی ہو رہی ہے۔ جھینگا مچھلی (Shrimps) ہیلی بٹ اور کاڈ کی افزائش کھلے ٹھنڈے پانیوں میں کثرت سے ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے یورپ ، امریکہ اور ایشیائی ممالک میں اس کی برآمد بڑھ گئی ہے۔
تیزی سے پگھلتے گلیشیرز کے اثرات پر تحقیقات نے حیرت ناک انکشافات کئے ہیں۔ چنانچہ سائنسدان اس بات پر متفق ہیں کہ برف پگھلنے کے بعد اس کی تہہ میں موجود Rock Flour یعنی برفانی راکھ کی مدد سے کرۂ ارض پر موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ گلوبل وارمنگ کے زیراثر گرین لینڈ پر برف پگھلنے کے عمل نے نئے دریائوں کی صورت میں آبی بہائو میں اضافہ کر دیا ہے۔ اس سے آبی توانائی اور ماحول دوست بجلی پیدا کرنے کے امکانات پر منصوبہ بندی شروع ہوگئی ہے۔ جومعدنیاتی تیل اور کوئلہ وغیرہ کے استعمال کو کم کرنے میں مدد دے گی۔ شدتِ موسم میں کمی کی وجہ سے گرین لینڈ میں سیاحوں کی آمد میں خاطر خواہ اضافہ ہوگیا ہے۔
مقامی سیاستدانوں کو یقین ہے کہ جوں جوں سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا توں توں وہ ڈینش دولت مشترکہ سے آزادی کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ 2010ء کے بعد چین کی جانب سے اس خطےمیں سرمایہ کاری نے پوری عالمی طاقتوں کو اس خطے کی جانب راغب کر دیا ہے۔ بالخصوص امریکی صدر کے حالیہ بیانات نے یہاں کی تجارتی سرگرمیوں میں ایک تنائو پیدا کر دیا ہے۔ چین کی بیرونی عدم مداخلت کی پالیسی نے جہاں پوری دنیا کی تجارت کو متاثر کیا ہے اور عالمی اقوام تجارتی محاذ پر اسے ستائش کی نظروں سے دیکھتی ہیں اس پالیسی کی وجہ سے اس خطے میں بھی چین کے تجارتی اثرات بڑھ رہے ہیں ۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ پر تازہ ترین موقف نے کئی خدشات کو جنم دیدیا ہے۔ وہ کثیر خطہ ٔارض جو عالمی حدت اور ماحولیاتی بدحالیوں کے اثرات کم کرنے کے لئے خدائی مدد کا ذریعہ بن رہا ہے۔ جہاں سے کم وقت اور سستی تجارتی راہداریوں کے امکانات پیدا ہو رہے ہیں۔ کہیں عالمی طاقتوں کی پنجہ آزمائی کا مرکزنہ بن جائے۔