آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
گزشتہ کالم میں موجودہ جمہوریت پر اپنا نقطہ نظر پیش کیا گیا۔ اسے راقم ایسے عام آدمی کا تجزیہ کہا جا سکتا ہے ۔ آج اس مسئلے پر غیر جانبداری سے اہل دانش کی آراء پر غور کرتے ہوئے ان کی روشنی میں موجودہ جمہوریت کی حقیقت جاننے اور اس کی ’’صحتیابی ‘‘ کے ممکنہ طریقوں پر بات کریں گے ۔
ہمارے دانشوروں کے دو طبقے اس جمہوری نظام پر دومختلف آراء رکھتے ہیں ۔ ایک طبقے کا خیال ہے کہ ہمارے تمام مسائل کا حل اسی جمہوریت کے تسلسل میں پنہاں ہے ۔ وہ رائج الوقت نظام کو آئیڈیل تو نہیں سمجھتے لیکن اسے مصنوعی ،دو نمبر یا فراڈ جمہوریت بھی نہیں کہتے۔ وہ خلوص نیت سے سمجھتے ہیں کہ بیڈ گورننس اور عوامی مسائل سے عدم توجہی جیسے مسائل کی ذمہ دار سیاسی قیادت سے زیادہ جمہوری نظام کے رستے میں حائل رکاوٹیں ہیں ۔ ان ’’رکاوٹوں‘‘ نے یہاں کبھی جمہوریت کو پنپنے نہیں دیا اور روزِ اول سے ریاستی امور میں مقتدر اداروں کی طرف سے حدود سے تجاوز ہمارے مسائل کی جڑ ہیں ۔ انہوں نے کبھی براہِ راست اقتدار پر قبضہ کیا اورکبھی بالواسطہ امور مملکت میں مداخلت کر کے اسے گائیڈڈ جمہوریت جیسا کوئی نظام بنائے رکھاہے۔ مراد یہ ہے کہ سیاسی قیادت کو کبھی کھل کر پرفارم کرنے کا موقع نہیں دیا گیا ورنہ حالات اتنے دگرگوں نہ ہوتے ۔ ان کا خیال ہے کہ سیاستدانوں کے

خلاف مسلسل پروپیگنڈے کے ذریعے جمہوریت کے پانی کو گدلا کیا جاتا ہے تاکہ وہ دبائو میں رہیں اور من مرضی کے نتائج حاصل کئے جا سکیں۔ نیز ملکی حالات اتنے بھی خراب نہیں ،جتنا شور برپا کروایا جاتا ہے ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر اسٹیبلشمنٹ کا ’’دست شفقت‘‘ سر پر نہ ہو تو ہماری سیاسی قیادت اتنی با شعور اور پختہ ہو چکی ہے کہ ملک کو سیدھے رستے پر گامزن کر سکے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ ان کے نقطہ نظر کی رو سے اگر عدم مداخلت کی پالیسی کے تحت موجودہ جمہوری نظام کو جاری رہنے دیا جائے تو معاملات خود بخود سدھرتے چلے جائیں گے ۔
ہمارے دانشور وں کے دوسرے طبقے کے دو حصے ہیں۔ ایک حصہ تو وہ ہے جو اس نظام کو ’’ مغربی جمہوریت ‘‘کا نا م دے کر سرے ہی سے اس کا منکر ہے ۔ ان لاعلاج ہستیوں کا تذکرہ وقت کا ضیاع ہے ۔ دوسرا حصہ جینوئن دانشوروں کا ہے ۔یہ لوگ جمہوریت کے حامی ہیں مگر اس کے حقیقی ثمرات سے بہرہ مند ترقی یافتہ ملکوں کی طرز کا جمہوری نظام چاہتے ہیں ۔ وہ صدق دل سے ہمارے موجودہ نظام کو مصنوعی ، فراڈ، لولی لنگڑی ، چیچک زدہ اور موروثی جمہوریت سمجھتے ہیں ، جو حقیقی جمہوریت کا بھونڈا اور بد ترین چربہ ہے ۔ وہ اسے جمہوریت سے زیادہ بادشاہت کہتے ہیں ، جس میں باپ کے بعد بیٹی اور ماں کے بعد بیٹا یہ لیڈر شپ سنبھالتا ہے ، کوئی دوسر اپارٹی لیڈر یا ورکر اس کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ ان کے خیال میں موجودہ نام نہاد جمہوری نظام قومی وسائل کی لوٹ مار کا لامتناعی سلسلہ ہے ، جس میں دھونس دھاندلی سے برسرِ اقتدار آنے والے اپنی اپنی باریاں لیتے ہیں اور ایک دوسرے کی چوریوں کو تحفظ فراہم کرتے ہیں ۔ ان کا موقف ہے کہ اس کوڑھ زدہ نظام میں امیر ،امیر تر اور غریب ، غریب تر ہوتا جا رہا ہے ، جہاں اختیارات کا ارتکاز ’’شاہی خاندانوں‘‘ تک محدود ہے ۔ ان کے کلام کا حاصل یہ ہے کہ جب تک بے رحم احتساب اور انقلابی قسم کی انتخابی ریفارمز نہیں ہوتیں ، تب تک اگر ہزاروں سال بھی ایسی مکروہ انتخابات کی پریکٹس جاری رہی تو بھی ان کی کوکھ سے نسل در نسل یہی لٹیرے برآمد ہوتے رہیں گے اور قوم کا خون چوستے رہیں گے ۔
یہ ادنیٰ قلم کار ذہنی طور پر طبقہ اول کے قریب ہے اور فقط اس جمہوریت (چاہے جیسی بھی ہے ) کے تسلسل ہی کو ملک و قوم کے ہر درد کا درماں اور ان کی بقا کا ضامن ، نیز بہترین آمریت کے مقابلے میں بد ترین جمہوریت ہی کو بہتر سمجھتا ہے ۔ تاہم ایک متوسط دیہاتی طبقے کا فرد ہونے کی حیثیت سے روزمرہ زندگی میں بے شمار ایسے سوالات اٹھتے ہیں ، جن کے جواب کیلئے یہ کج فہم اپنے استاد دانشوروں کا محتاج ہے ۔ لوگ سوال کرتے ہیں کہ ضیاء الحق کے بعد بحال ہونے والی جمہوریت نے خود اب تک کتنا ڈیلیور کیا ہے ؟ بجا کہ منتخب حکومتوں کو اپنی مدت پوری کرنے نہیں دی گئی اور ان کی کارکردگی میں رکاوٹیں بھی حائل تھیں ۔نیز درمیان میں پرویز مشرف کا مارشل لاء بھی آیا ۔تاہم دوران اقتدار ہماری منتخب سیاسی قیادت کو عوامی فلاح و بہبود سے کس نے روکے رکھا ہے اور سیاست کو تجارت بنانے اور میگا کرپشن سے سرے محل ، مے فیئر فلیٹس، دبئی محلات، آف شور کمپنیاں، منی لانڈرنگ اور سوئس اکائونٹس جیسے اعمال پر انہیں کس نے مجبور کیا ؟ پرویز مشرف کے بعد تو پیپلز پارٹی کی حکومت نے پانچ سال پورے کئے اورن لیگ بھی تین سال حکومت کر چکی ۔کیا اس عرصے کے دوران انہیں سب سے بڑے عوامی مسئلے یعنی لوڈ شیڈنگ سے نمٹنے کیلئے کسی مقتدر ادارے نے روکے رکھا ہے ؟ کیا سیاسی جماعتوں کے اندر انتخابات بھی طاقتور حلقے نہیں ہونے دیتے اور باپ کے بعد بیٹی کو جانشین بنا کر موروثی جمہوریت کی راہ بھی وہی ہموار کرتے ہیں ؟ عوامی ٹیکسوں سے مغلیہ طرز کی شاہانہ زندگی اور کروفر بھی کسی سازش کا نتیجہ ہے اوراپنے بچوں اور رشتہ داروں کو قومی خزانے میں حصہ دار بنا لینا بھی کسی ایسی سازش کا شاخسانہ ہے ؟ لوگ پوچھتے ہیں کہ ریاستی اداروں کی یہ کیسی ’’ رکاوٹیں‘‘ ہیں جو سرکاری دفتروں اور اسپتالوں میں عوام کی عزت نفس مجروح کرنے اور شہریوں کے ساتھ ذلت آمیز سلوک کی راہ تو ہموار کرتی ہیں مگر اپنی نا پسندیدہ سیاسی قیادت کو عوامی ٹیکسوں سے کھلواڑ کرنے سے نہیں روکتیں؟ وہ کہتے ہیں کہ عوام نے اگر آمریت میں جوتے کھائے ہیں تو جمہوریت میں بھی پیاز ہی ان کے حصے میں آئی ہے۔
ہم جمہوریت کا مقدمہ لڑتے رہیں گے اور آمریت سے انکار کا پرچم بلند رکھیں گے کہ اس ملک میں حکمرانی کا حق صرف اور صرف عوام کے منتخب نمائندوںکو حاصل ہے ۔ تاہم ہمیں سوچنا چاہئے کہ ہر دفعہ نئے ولولے اور امیدوں کے ساتھ ووٹ ڈالنے کے بعد یہ جمہوریت ہمارے لئے سوہانِ روح کیوں بن جاتی ہے ؟ اگر جمہوریت عوام کے فیصلے کا نام ہے تو پھر آمریت کے ظہورپذیر ہونے پر عام آدمی اور ملک کی خاموش اکثریت احتجاج کرنے کی بجائے سکھ کا سانس کیوں لیتی ہے ؟
گزشتہ آٹھ سالوں سے جمہوریت کے تسلسل کے باوجود اگر آج پسا ہوا اور محروم عام آدمی جنرل راحیل شریف کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھتا ہے یا کسی امام خمینی کا انتظار کرتا ہے تو یہ ہمارے جمہوری رہنمائوں کیلئے لمحہ فکریہ ہے ۔ لوگوں کی اس سوچ کو جاہلیت قرار دے کر اس سے صرفِ نظر کرنا کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے کے مترادف ہے ۔ یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ اگرکبھی کسی طالع آزمانے آ کر حقیقی ، کھرا،بلا امتیاز اور بے رحم احتساب کیا اور لوٹی ہوئی ہماری دولت واپس لے کر چوروں اور ڈاکوئوں کو چوراہوں پر لٹکایاتو اس ملک کے عوام اسے قومی ہیرو کا درجہ دیں گے ۔ یقینا ایسی صورتحال ہم جیسے جمہوریت پسندوں کیلئے ناقابل قبول ہو گی لیکن سوال ہے کہ آخر ہمارے حالات کیسے سدھریں گے ؟ کیا مسلسل انتخابات سے روشنی کی کوئی کرن پھوٹے گی ، انقلابی قسم کی انتخابی ریفارمز ہمارے لئے عوام دوست جمہوریت کا سنگ میل ثابت ہوں گی ، عمران خان کی احتجاجی سیاست ہمیں منزل کا پتہ دے گی …یا پھر کوئی طاقتور آ کر چوراہوں پر تھوک کے حساب سے پھانسی گھاٹ تعمیر کر کے ، ایک بڑی چھانٹی کے بعد ایسی جمہوریت بحال کرے گا ، جسے کوئی جعلی، فراڈ، چیچک زدہ اور موروثی جمہوریت نہیں کہے گا؟


.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں