• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اٹھارہ بیس برس کی طویل پابندی کے بعد جب بسنت نے ایک بار پھر سانس لی تو یوں محسوس ہوا جیسے لاہور نے برسوں بعد مسکرا کر آنکھیں کھولی ہوں۔ چھتوں پر چڑھتے لوگ، گلیوں میں بکھرا پیلا رنگ اور فضا میں وہی ”بوکاٹا“ کا پرانا شور، جیسے شہر خود اپنے ماضی سے گلے مل رہا ہو، یہ صرف پتنگ بازی کا نہیں بلکہ اجتماعی نفسیاتی بحالی کا جشن تھا ،یہ ایک ایسا لمحہ تھا جس میں خوف، حادثات اور پابندیوں کی یادیں پیچھے رہ گئیں اور زندگی نے ایک بار پھر اپنی ضد دکھا دی۔ طویل پابندی کے بعد جب اس شہر کے آسمان پر دوبارہ پتنگیں دکھائی دیں تو یہ محض رنگوں کا منظر نہیں بلکہ ہماری اجتماعی نفسیاتی کیفیت کا کھلا اظہار تھا۔ لاہورنے ثابت کیا کہ کچھ روایتیں ریاستی فیصلوں، انتظامی پابندیوں اور وقت کی گرد کے باوجود زندہ رہتی ہیں ، بسنت کی واپسی دراصل اس شہر کی خوب صورت یادوں کی واپسی تھی، ایسی یادیں جو نسل در نسل منتقل ہوتی رہیں۔ بسنت پر لاہوریوں کا روایتی جوش و خروش ویسا ہی تھا جیسا بزرگوں کے قصوں کہانیوں میں سنایا جاتا رہا۔ فرق صرف یہ تھا کہ اب چھتوں پر صرف پرانے لاہوریئے ہی نہیں تھے بلکہ جین زی بھی موجود تھی، جس نے پابندی کے بعد بسنت کو کبھی براہ راست نہیں دیکھا۔ ان کیلئے بسنت کسی ذاتی تجربے کے بجائے ایک متنازع حوالہ تھی جسے وہ خبروں، حادثات کی رپورٹس یا سوشل میڈیا کلپس میں ہی دیکھتی رہی۔ اس نسل کے ذہن میں بسنت ایک سوالیہ نشان تھی، کیا یہ تہوار واقعی خوشی کی علامت تھا یا صرف خطرات کی ایک یاد۔ جب پچیس برس بعد بسنت نے دوبارہ سانس لی تو دراصل یہی سوال عملی تجربے میں بدل گیا۔ جین زی اور ملینیئز کے درمیان بسنت ایک خاموش مگر طاقتور رابطہ بن گئی ایک طرف وہ لوگ تھے جنہوں نے بسنت کے عروج کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، جن کیلئے پتنگ کٹنا محض کھیل نہیں بلکہ انا کا مسئلہ ہوا کرتا تھا، دوسری طرف وہ نوجوان تھے جو حفاظت ،ماحول اور شہری نظم و ضبط کے سوالات کے ساتھ پروان چڑھے، یہی فرق بسنت کے دن سیکھنے اور سکھانے کا خوب صورت ذریعہ بن گیا، ملینیئز، جین زی کو بتا رہے تھے کہ خوشی میں حد کیسے رکھی جاتی ہے اور جین زی، ملینیئز کو سمجھا رہے تھے کہ جدید دور میں روایت کو کس طرح محفوظ انداز میں جیا جا سکتا ہے، یہ لمحے صرف چھتوں تک محدود نہیںتھے یہ وہ مکالمہ تھا جو دونسلوں کے درمیان برسوں سے رُکا ہوا تھا، ایک بزرگ جب جین زی کے کسی نوجوان کو یہ بتاتا کہ کیسے ایک زمانے میں پورا محلہ ایک دوسرے کی چھتوں پر چڑھ جاتا تھا تو جواب میں نوجوان اسے بتاتا کہ اب کمیونٹی صرف گلی محلوں تک محدود نہیں رہی، پوری دنیا اسکرین پر موجود ہے۔ بسنت نے دونوں نسلوں کو ایک دوسرے کا نقطہ نظر سننے ، سمجھنے کا بھرپور موقع فراہم کیا، بغیر لیکچر ،بغیرتنقید، صرف تجربے کی زبان میں، پچیس سال کی پابندی نے بسنت کو خطرناک کم اور قیمتی زیادہ بنا دیا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار بسنت کے جشن میں ایک ٹھہراؤ بھی محسوس کیا گیا، جین زی نے پتنگ کو صرف مقابلہ نہیں بلکہ ثقافت سمجھ کر تھاما، سیلفی کے فریم میں پتنگ ،پیلا دوپٹہ، پس منظر میں لاہور کی پرانی عمارتیں، حویلیاں اور دل ہوا بو کاٹا کی گونج، یہ سب کچھ دراصل ایک شناخت کی تلاش تھی، وہ شناخت جومکمل طور پر مغربی ہے نہ ہی ماضی میں جمی ہوئی، بسنت نے انہیں یہ سبق سکھایا کہ روایت اور جدیدیت کبھی ایک دوسرے کے دشمن نہیں ہوتے، ملینیئز،اس پورے منظر میں قدرتی استاد بن کر سامنے آئے وہ جین زی کو بتاتے کہ خوشی کے ساتھ ذمہ داری کیسے نبھائی جاتی ہے اور خود نوجوانوں سے یہ سیکھتے رہے کہ اظہار کے نئے طریقے کیا ہوتے ہیں۔ یہ باہمی سیکھنے کا عمل کسی حکومتی ورک شاپ یا سیمینار میں ممکن نہیں تھا۔ بسنت کے دن شہر کا منظر یہ بھی بتا رہا تھا کہ ثقافت کو زندہ رکھنےکیلئے اسکا نئی نسل تک منتقل ہونا کتنا ضروری ہے، اگر بسنت کو صرف ماضی کی رومانوی یاد کے طور پر پیش کیا جاتا تو شاید جین زی اسے سمجھ نہ پاتی مگر جب اسے سوالات، ذمہ داری اور جدید اظہار کیساتھ پیش کیا گیا تو وہ اسے اپنانے پر آمادہ ہو گئی یہ روایتی ثقافت کی واپسی ریاستی پالیسیوں کیلئے بھی ایک پیغام تھی کہ ثقافتی معاملات میں صرف پابندی کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتی اگر معاشرتی نفسیات، زمینی حقائق اور نسلوں کے فرق کو سمجھے بغیر فیصلے کئے جائیں تو وہ دیر پا ثابت نہیں ہوتے۔ بسنت کے دن اِکا دُکا واقعات کے باوجود جو نظم و ضبط نظر آیا اس بات کا ثبوت تھا کہ ہمارا معاشرہ سیکھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے بشرطیکہ اسے موقع دیا جائے ، جین زی کیساتھ گزرے یہ لمحات محض یادگار نہیں بلکہ ہمارے روشن مستقبل کی ایک جھلک تھی، یہ لمحات اس بات کی علامت تھے کہ آنیوالی نسلیں روایت کو دشمن نہیں سمجھتیں، مگر اسے سوال سے بالاتر بھی نہیں رکھتیں، وہ توازن چاہتی ہیں ، خوشی کیساتھ ذمہ داری، آزادی کیساتھ احتیاط اور روایت کے ساتھ جدیدیت ، بسنت نے دونسلوں کے درمیان موجود وہ خاموشی توڑ دی جو اکثر معاشرتی مباحث میں نظر آتی ،اس دن ملینیئز نے سیکھا کہ نئی نسل صرف تنقید نہیں کرتی وہ شرکت بھی کرنا چاہتی ہے اورجین زی نے یہ جانا کہ روایت محض بوجھ نہیں بلکہ شناخت کا ایک اہم حصہ ہے۔ یہ خوش گوار لمحات ایک بنیادی سوال چھوڑ جاتے ہیں کیا ہم اپنی ثقافت کو خوف کی نظر سے دیکھیں گے یا اعتماد کے ساتھ؟ کیا ہم نئی نسل کو صرف خطرہ سمجھیں گے یا اسے شراکت دار بنائیں گے، بسنت نے اس کا جواب دے دیا ۔ پتنگیں صرف آسمان میں نہیں اُڑیں بلکہ دونسلیں ایک مضبوط ڈور کیساتھ بندھی ہیں، ایسی ڈور جو اگر ذمہ داری سے تھامی جائے تو روایت اور جدیدیت کو ایک ساتھ جوڑ سکتی ہے ، یہ بسنت صرف تین دن کا جشن نہیں سماجی تبدیلی کا ایک واضح اشارہ ہے کہ ہماری ثقافت زندہ ہے اور جب ہم اسے نئی نسل کے ہاتھ میں دیں گے تو وہ اس ذمہ داری کو سنبھالنا بھی خوب جانتی ہے۔

تازہ ترین