صحافت میں جہاں کہیں شک و شبہ ہو وہاں ’مبینہ‘ کا لفظ استعمال ہوتاہے۔تو عرض ہے کہ مبینہ طورپرپنجاب گورنمنٹ نے ای لائسنس کاایک سلسلہ متعارف کرایا ہے جسکے اشتہارات سوشل میڈیاپر دھڑا دھڑ چل رہے ہیں۔ سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ ان اشتہارات میں بغیر ڈرائیونگ ٹیسٹ لائسنس بنانے کا دعویٰ کیاگیا ہے۔ویب سائٹ کا نام dlims.punjab.gov.pk ہے اور بظاہریہ سرکاری ویب سائٹ ٹھیک ہی لگ رہی ہے۔ یہاں آن لائن پیمنٹ لی جاتی ہے اور میسج آتاہے کہ آپ کا لائسنس گھر بیٹھے دس دنوں میں ڈلیور کردیاجائے گا۔ عوام اس بارے میں نہایت شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔ جن لوگوں نے یہاں ہزاروں روپے لائسنس فیس جمع کرائی ہے وہ ٹریکر پر اپنا شناختی کارڈ نمبر داخل کرتے ہیں لیکن پھربھی انہیں اپنے لائسنس کا اسٹیٹس معلوم نہیں ہورہا۔ کچھ کا کہنا ہے کہ دو ماہ سے بھی اوپر ہوگئے ہیں ابھی تک لائسنس نہیں آیا۔کچھ کو یہ سب فراڈ لگ رہاہے۔ہوسکتاہے یہ واقعی درست ہو لیکن لوگ پریشان ہیں کہ کہاں رابطہ کریں، کس سے پوچھیں۔یاتوویب سائٹ پوری طرح ڈویلپ نہیں ہوئی یا طریقہ کار کاتعین نہیں ہوا۔اگریہ ویب سائٹ اصلی ہے تو ان سوالات کا جواب ملنا چاہیے اور اگر کوئی گڑبڑ ہے تو بھی پنجاب حکومت کو ایکشن لینا چاہیے۔اس بارے میں فوری وضاحت آنی چاہیے تاکہ وسوسے دورہوسکیں۔
٭ ٭ ٭
حکومت نے نیٹ میٹرنگ ختم کردی ہے جسکے بعد اب سولرپینل رکھنے والے ایکسٹرابجلی حکومت کو نہیں دے سکیں گے بلکہ اب انہیں غروب آفتاب کے بعد استعمال ہونے والی بجلی کا بل عام صارف کی طرح ادا کرنا ہوگا۔پہلے یہ ہوتا تھا کہ یونٹ کے بدلے یونٹ کی پالیسی چل رہی تھی جس سے سولر پینل لگوانے والوں کا بل کئی دفعہ زیرو میں اور کئی دفعہ واپڈا کی طرف Dueہوجاتاتھا۔ا ب یہ سہولت بھی ختم۔ کہاں جائیں وہ لوگ جنہوں نے ہزاروں روپے ادا کرکے گرین میٹر لگوائے؟ اس سے پہلے سی این جی کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوچکا ہے۔ماحول دوست کے نام پر کروڑوں گاڑیوں میں سی این جی کٹس لگوائی گئیں، سی این جی اسٹیشز کھلے۔پھرایک دن سب ختم۔تازہ ترین صورتحال پریہ کہاجارہا ہے کہ چونکہ سولرپینل سستے ہوگئے تھے، زیادہ لوگوں نے لگوا لیے تھے اس لیے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو بہت نقصان ہورہا تھا۔ گویاجیویامرو، بجلی ہرحال میں خریدو، اور خبردار جو اپنی بجلی بنانے کی کوشش کی۔عوام اپنا خون پسینہ ایک کرکے کوئی چھوٹی سی سہولت حاصل کرتے ہیں اور پتا چلتا ہے کہ یہ بھی سرکار کو ناگوار گزری ہے۔ا بھی تو سولرپینل والے رات کے وقت سرکاری بجلی استعمال کرنے پر مجبور ہوں گے لیکن جس تیزی سے سولر میں نئی نئی ایجادات ہورہی ہیں عنقریب ’مون لائٹ‘ بھی آنے والی ہے جو رات کو بھی دن کی طرح بجلی پیدا کرے گی تب حکومت کیا کرے گی؟ ایسے سولر پینل کی تفصیلات انٹرنیٹ پر عام ہیں۔ یہ کام شرو ع ہوا تو لوگوں نے اپنے میٹر کٹوانے شروع کردینے ہیں۔تب شائد حکومت یہ پابندی بھی لگا دے کہ ہر گھر میں بجلی کا میٹر ہونا لازمی ہے۔بجلی جتنی ضروری ہے اتنے ہی اسکی پیداوارکے نئے نئے طریقے ایجاد ہوتے جارہے ہیں۔کب تک یہ زبردستی چلے گی۔ریلیف نہیں دے سکتے تو تکلیف تو نہ دیں۔
٭ ٭ ٭
سب سے ہولناک خبر...رمضان میں سموسے کی قیمت سو روپے تک پہنچنے کا امکان۔ ہائے ہائے کبھی یہ سموسہ پانچ دس روپے کا ملا کرتا تھا۔ہمارے ہاں ہرچیز کی قیمت بڑھانے کا جواز مہنگائی کو قرار دیا جاتاہے۔پٹرول کی قیمت دو روپے بڑھتی ہے تو بسوں ویگنوں والے فی سواری دس روپے بڑھا دیتے ہیں۔ بندہ پوچھے کہ آلو اتنے سستے مل رہے ہیں تو سموسہ کیوں مہنگا؟رمضان میںبہت سے گھروں میں سموسہ پٹی سے بنے سموسے تل لیے جاتے ہیں لیکن پھر بھی عوام کی ایک بڑی تعداد بازاری سموسے کھاتی ہے۔ایک سموسے کی مجموعی لاگت میں بنیادی طورپرمیدہ، آلو، مسالے، آگ اور آئل استعمال ہوتاہے۔ایک سموسے کو زیادہ سے زیادہ کتنا میدہ لگتاہوگا؟ ایک سموسے والے صاحب سے تفصیل پوچھی تو پتا چلا کہ ایک تگڑاسموسہ سارے اخراجات سمیت لگ بھگ بیس روپے میں تیار ہو جاتا ہے۔
یاد رہے کہ بازاری سموسے میں جو آئل یا ’ڈیزل‘ استعمال ہوتاہے وہ اکثرپورے ہفتے کیلئے ہوتا ہے۔ ثواب کامہینہ شروع ہوتے ہی کئی لوگوں کی کمائی کا مہینہ شروع ہوجاتاہے۔کھجور وں کی دکان پہ یہ تو لکھا نظر آتاہے کہ ’کھجور کھانا سنت ہے‘ لیکن یہ نہیں لکھاہوتاکہ مہنگی کھجوربیچناکیسا ہے؟رمضان میں ہی پچھلے دس پندرہ برسوں سے ایک نیا ٹرینڈ متعارف ہوا ہے ’راشن دینا‘۔ یہ اُن لوگوں نے شروع کیا جوپیسے والے تھے۔ اچھی بات ہے۔لیکن اب یہ لوگوں کا معمول بنتا جا رہا ہے۔ باقی دنوں میں فقیردس روپے خیرات مانگتے ہیں اور رمضان میں راشن کا تقاضاکرنے لگتے ہیں۔اس بدترین مہنگائی میں کتنے لوگ ہیں جو اپنے گھر کا راشن پوراکرنے کی بجائے دوسروں کے راشن ڈلوانے کی استطاعت رکھتے ہیں۔گھروں میں کام کرنے والی ماسیاں ہر گھر سے راشن اینٹھتی ہیں اورپھربھی ان کا منہ بنا رہتاہے کہ فلاں باجی نے تو یہ چیز بھی دی تھی۔ابھی کچھ دنوں تک سرکاری راشن بانٹنے کابھی اعلان متوقع ہے۔اُن میں بھی یہی غریب حق دار پائے جائیں گے جن کی اکثریت پہلے ہی مختلف گھروں سے راشن کے ڈبے وصول کرچکی ہوگی۔کبھی آپ نے کوئی ایسا بندہ بھی دیکھا ہے جو کہے کہ میراراشن رہنے دیں مجھے مل چکا ہے۔آپ ان کو سو ڈبے بھی دیں گے تو یہ پھربھی لائن میں لگے نظر آئیں گے۔مدداُن کی کریں جو ایک ایک کلو آٹا خریدتے ہیں اور گن گن کر لقمے کھاتے ہیں۔ غریبوں کی مدد توسب کرتے ہیں،سفیدپوش بس دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں۔ غریب اپنی غربت کارونا رو کر کچھ نہ کچھ حاصل کرلیتاہے،سفیدپوش تو یہ ہنر بھی نہیں جانتے۔یہ حسرت سے اُن غریبوں کودیکھتے رہ جاتے ہیں جن کی خواتین چنگ چی رکشے پر اپنے مردوں کے ساتھ گلی گلی پھرتی ہیں اور دوتین گھنٹے میں پورا رکشہ راشن کا بھر کے آرام سے نکل جاتی ہیں۔اس ملک میں غریب اُسے ہی تسلیم کیا جاتاہے جو خود کو علی الاعلان غریب کہے۔