جسٹس آغا فیصل کی سربراہی میں سانحۂ گل پلازا پر جوڈیشل کمیشن کا پہلا اجلاس ہوا، جس میں کمشنر کراچی، سیکریٹری قانون و داخلہ نے شرکت کی۔
جوڈیشل کمیشن نے تحقیقات سے متعلق پبلک نوٹس جاری کر دیا۔
کمیشن کا کہنا ہے کہ سانحۂ گل پلازا سے متعلق عوام شواہد دیں، کسی بھی شہری کے پاس سانحے سے متعلق اہم معلومات ہوں تو کمیشن سے رابطہ کر سکتا ہے۔
کمیشن نے پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کو پبلک نوٹس اخبارات میں شائع کروانے کی ہدایت کی، پبلک نوٹس میں کمیشن کے ٹی او آر بھی شامل ہیں۔
پبلک نوٹس میں کہا گیا ہے کہ سانحے سے متعلق معلومات رکھنے والے افراد بذریعہ ای میل کمیشن سے رجوع کر سکتے ہیں، سانحے سے متعلق حقائق، واقعاتی معلومات جوڈیشل کمیشن کو فراہم کی جا سکتی ہیں، جوڈیشل کمیشن سے 20 فروری سے قبل بذریعہ ای میل gpi-coi@shc.gov.com پر رجوع کیا جا سکتا ہے۔
چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس ظفر احمد راجپوت نے کمیشن کے لیے سیکریٹریٹ فراہم کر دیا، سیکریٹریٹ سندھ ہائی کورٹ میں ہی قائم کیا گیا ہے۔
جوڈیشل کمیشن کے جج جسٹس آغا فیصل نے کمشنر کراچی کو اسٹاف نوٹی فائی کرنے کی ہدایت کی ہے، اسٹاف میں رجسٹرار کمیشن، فوکل پرسن اور ماہرین شامل ہوں گے۔