وزیراعظم شہباز شریف نے ایکسپورٹ انڈسٹری کو درپیش دیرینہ مسائل حل کرنے کیلئے اقدامات کا آغاز کرکے برآمدات میں اضافےکیلئے اپنے عزم کا واضح اظہار کیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب انڈسٹری کا پہیہ مکمل طور پر جام ہونے کا اندیشہ پیدا ہو گیا تھا۔ انکے اس اقدام سے ناصرف انڈسٹری کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی مسابقت میں نمایاں بہتری آئیگی۔ صنعتوں کیلئے بجلی کے نرخوں میں 4.4 روپے فی یونٹ کی کمی، صنعتوں کے درمیان اضافی بجلی کی فروخت کو آسان بنانے کیلئے وہیلنگ چارجز میں 9 روپے فی کلو واٹ تک اور ایکسپورٹ ری فنانس ریٹ میں 7.5 فیصد سے4. 5فیصد تک کمی سے پاکستانی برآمدکنندگان کی عالمی مسابقت میں نمایاں بہتری کی امید پیدا ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں وزیر اعظم نے برآمدات کے شعبے میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی کمپنیوں کے سربراہان کو بلیو پاسپورٹ جاری کرنے اور دیگر مراعات کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس موقع پر وزیراعظم کے خطاب نے معاشی سمت میں بنیادی تبدیلی کی نشاندہی کی ہے کیونکہ انہوں نے صنعتی ترقی میں رکاوٹ بننے والے دیرینہ مسائل کو ناصرف کھلے دل سے تسلیم کیا ہے بلکہ انکے حل کیلئے عملی اقدامات کا آغاز بھی کر دیا ۔ اس پیشرفت سے برآمد کنندگان کو درپیش لاگت میں اضافے کے چیلنج میں نمایاں کمی آئیگی اور خاص طور پر ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل اور ہوزری کے شعبے کو ریلیف ملے گا جو بجلی کی قیمت، مالیاتی اخراجات اور سرمائے کی قلت کے باعث مسابقت کی دوڑ سے باہر ہوتا جا رہا تھا۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مشکل ترین حالات کے باوجود ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل بالخصوص نٹ وئیر سیکٹر نے برآمدات بڑھانے میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسلئے اگر حکومت اس سیکٹر کو درپیش مسائل حل کرنےکیلئے ’’ڈی ایل ٹی ایل‘‘ کی سکیم بحال کرکے ریفنڈز کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانے کیساتھ ساتھ فائنل ٹیکس رجیم کو بحال کر دے تو اس سے برآمدات میں فوری طور پر نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ علاوہ ازیں ایکسپورٹ فیسلی ٹیشن اسکیم کو 2021ء کی طرح اسکی اصل شکل میں بحال کرنا بھی ضروری ہے تاکہ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری خطے کے دیگر حریف ممالک کے مقابلے میں اپنی کھوئی ہوئی مسابقت کو بحال کر سکے۔ گزشتہ کچھ برسوںکے دوران پاکستان میں بجلی کی قیمت میں بے تحاشہ اضافے کی وجہ سے انڈسٹری کی پیداواری لاگت میں بہت زیادہ اضافہ ہو گیا تھا۔ تاہم وزیراعظم کے اعلان کردہ حالیہ پیکیج میں صنعتوں کیلئے وہیلنگ چارجز کو 9 روپے فی کلو واٹ تک کم کر دیا گیا ہے۔ یہ قدم توانائی کے موثر استعمال کی حوصلہ افزائی کرئیگا اور صنعتوں کو اس قابل بنائیگا کہ وہ ایک دوسرے کیساتھ اضافی بجلی بانٹ سکیں جس سے مجموعی صنعتی پیداوار میں بہتری آئیگی۔ اس حوالے سے وزیراعظم کو چاہیے کہ برآمدات کو بڑھانے، سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور روزگار میں اضافے کیلئے اس پالیسی کو مستقل شکل دی جائے۔ وزیر اعظم کی طرف سے برآمدات میں اچھی کارکردگی دکھانے پر ایوارڈ حاصل کرنیوالوں کیلئے بلیو پاسپورٹ اور ایمبیسیڈر ایٹ لارج اسٹیٹس کا اعلان بھی ایک مثبت پیشرفت ہے۔ اس اقدام سے ناصرف برآمد کنندگان کی قومی معیشت میں شراکت کا مثبت اعتراف کیا گیا ہے بلکہ اس سے معاشرے میں کاروباری طبقے کے حوالے سے پائی جانے والی منفی ذہنیت کو بھی ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ اس حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ وزیر اعظم کی طرف سے اعلان کردہ اقدامات پر فوری اور موثر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ علاوہ ازیں وزیر اعظم نے برآمد کنندگان کیساتھ مشاورت کا جو سلسلہ شروع کیا ہے اسے مزید توسیع دینے کی ضرورت ہے تاکہ تمام سٹیک ہولڈرزنہ صرف براہ راست اپنی رائے حکومت تک پہنچا سکیں بلکہ وہ حکومت کی ٹیم کا حصہ بن کر برآمدات میں اضافے کے طے شدہ ہدف کا حصول بھی ممکن بنا سکیں۔ اس سلسلے میں جس محاذ پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ امریکہ کی طرف سے عائد ہونیوالے اضافی ٹیرف کو ختم کروانے اور یورپی یونین کیساتھ انڈیا کے فری ٹریڈ ایگریمنٹ کے تناظر میں پاکستانی برآمدات پر پڑنے والے منفی اثرات سے نمٹنےکیلئے قومی حکمت عملی کی تیاری ہے۔ اس سلسلے میں ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل انڈسٹری بالخصوص نٹ وئیر سیکٹر کو بھی مشاورت میں شامل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وزیر اعظم کے حالیہ اقدامات کے نتیجے میں برآمدکنندگان کو حاصل ہونیوالے مسابقتی فوائد کو برآمدات میں اضافے کے ذریعے قومی معیشت کے استحکام کا ذریعہ بنایا جا سکے۔ اس حوالے سے امید کی جا رہی ہے کہ ایکسپورٹ انڈسٹری پر عائد بے جا ٹیکسوں کے خاتمے اور برآمدات سے متعلق فریم ورک میں مزید بہتری سے ایکسپورٹ انڈسٹری کو فروغ دینے اور روزگار کی فراہمی بڑھانے میں مدد ملے گی اور ملک میں اندرونی و بیرونی سرمایہ کاری کو بہتر طور پر راغب کیا جا سکے گا۔ نجی شعبے کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ پیداواری صلاحیت میں اضافے کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری اور ویلیو ایڈیشن پر خصوصی توجہ دے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں موجودہ حکومت نے سالہا سال سے ایکسپورٹ انڈسٹری کی طرف سے کئے جانیوالے مطالبات کا مثبت جواب دیتے ہوئے برآمدات بڑھانےکیلئے اصلاحات کے ایجنڈے پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔ یہ سلسلہ اگر یونہی مستقل مزاجی سے جاری رہا تو پاکستان برآمدات کے حوالے سے بہت جلد عالمی سطح پر ایک اہم مقام حاصل کر لیگا۔ اس طرح نہ صرف ملک کی معیشت مضبوط ہو گی بلکہ روزگار کی فراہمی میں بھی بہتری آئے گی اور ہمارا عالمی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک پر معاشی انحصار بھی کم ہو جائیگا۔