• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میزائل پروگرام پر کوئی بات نہیں ہوگی: ایران کا دو ٹوک مؤقف

فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا، چاہے امریکا کے ساتھ مذاکرات ہوں یا دباؤ بڑھایا جائے۔

عرب میڈیا کے مطابق ایران کے سپریم لیڈر کے مشیر، علی شمخانی نے اسلامی انقلاب کی 47ویں سالگرہ کے موقع پر کہا ہے کہ ایران کی میزائل صلاحیتیں ناقابلِ مذاکرات ہیں، ایران صرف جوہری پروگرام پر بات کرنے کو تیار ہے، دفاعی صلاحیتوں پر نہیں۔

ایران کی جانب سے یہ مؤقف عمان میں امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے حالیہ بالواسطہ مذاکرات کے بعد سامنے آیا ہے جن میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ 

واضح رہے کہ امریکا چاہتا ہے کہ مذاکرات میں ایران کے میزائل پروگرام اور خطے میں اس کے اتحادیوں پر بھی بات ہو جبکہ ایران اس مطالبے کو مسترد کر رہا ہے۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کے پُرامن ہونے کا ثبوت دینے کو تیار ہے مگر غیر ضروری اور حد سے زیادہ مطالبات قبول نہیں کیے جائیں گے۔ 

اِن کا کہنا تھا کہ ایران جارحیت کے آگے نہیں جھکے گا تاہم خطے میں امن کے لیے بات چیت جاری رکھے گا۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات پر ملے جلے بیانات دیے ہیں۔

اُنہوں نے ایک طرف بات چیت کو مثبت قرار دیا ہے تو دوسری جانب فوجی کارروائی کی دھمکی بھی دی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں ایران کی جانب دوسرا بحری جہاز بھیجنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید