• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسرائیلی F-35 نے ایرانی Yak-130 طیارہ تباہ کر دیا، وجہ کیا بنی؟

--فائل فوٹو
--فائل فوٹو

اسرائیل کے جنگی جہاز F-35I نے تہران میں ایرانی طیارہ Yak-130 مار گرایا، یہ F-35 کی جانب سے انسانی پائلٹ والا دشمن طیارہ تباہ کرنے کا پہلا واقعہ ہے۔

اس واقعے کی تصدیق اسرائیلی دفاعی افواج نے 4 مارچ کو کی اور بتایا کہ امریکی ساختہ اسٹیلتھ لڑاکا طیارے نے روسی ڈیزائن شدہ ایرانی Yak-130 کو تباہ کر دیا۔

Yak-130 کیا ہے؟

 Yak-130 ایک سب سونک، دو نشستوں والا جدید تربیتی اور حملہ کرنے والا طیارہ ہے جسے روس کے یکوولیو Yakovlev ڈیزائن بیورو نے تیار کیا ہے۔

یہ طیارہ ایران کو پہلی بار 2013ء میں فراہم کیا گیا تھا اور اسے روسی فورتھ جنریشن کے لڑاکا طیاروں جیسے Su-30 اور Su-35 کی خصوصیات کو نقل کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا، تاہم بنیادی طور پر یہ ان پائلٹس کی تربیت کے لیے استعمال ہوتا تھا جو مزید جدید لڑاکا طیاروں میں منتقل ہو رہے ہوں۔

یہ طیارہ زیادہ سے زیادہ 3000 کلو گرام ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس میں رہنمائی یافتہ بم، راکٹ اور R-73 قریبی فاصلے کے میزائل شامل ہیں۔

طیارہ کیوں تباہ ہوا؟

Yak-130 کے تباہ ہونے سے ایران کی فوجی پوزیشن میں بڑے خلل کا انکشاف ہوتا ہے، جس میں حکمتِ عملی کی غلطی، پائلٹ کی تربیت میں کمی، فضائی دفاعی خلاء اور روسی ساز و سامان میں نقص شامل ہیں۔

چونکہ Yak-130 ایک تربیتی طیارہ ہے اور یہ F-35 جیسی فضائی برتری کا حامل طیارہ نہیں ہے، اس لیے اس کے نقصان کا مطلب صرف ایک طیارہ نہیں بلکہ متعدد پائلٹس کی تربیتی صلاحیت میں کمی بھی ہے، ایران کے فلیٹ میں صرف درجن بھر طیارے ہیں، اس لیے ہر نقصان اس کی قابلیت کو شدید متاثر کرتا ہے۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید