امریکی فوج نے ایران پر حملے سے ایک روز قبل کان کنی کی کمپنیوں سے 13 اہم معدنیات کی مقامی فراہمی بڑھانے میں مدد طلب کی۔
دستاویز کے مطابق امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے گزشتہ جمعے کو ڈیفنس انڈسٹریل بیس کنسورشیم کے اراکین سے منصوبوں کی تجاویز طلب کیں۔
اس کنسورشیم میں 1500 سے زائد کمپنیاں، جامعات اور دیگر ادارے شامل ہیں جو امریکی فوج کو سامان فراہم کرتے ہیں۔
پینٹاگون نے کمپنیوں سے کہا کہ وہ 20 مارچ تک ایسے منصوبوں کی تجاویز جمع کرائیں جن کے ذریعے مخصوص معدنیات کی کان کنی، پراسیسنگ یا ری سائیکلنگ ممکن ہو سکے۔
یہ درخواست اس وقت سامنے آئی جب ایک روز بعد امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملے کیے، تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس اقدام کا وقت حملوں کے ساتھ دانستہ طور پر مربوط تھا یا نہیں۔
دستاویز میں جن 13 معدنیات کا ذکر کیا گیا ہے ان میں آرسینک، بسمتھ، گیڈولینیم، جرمنیم، گریفائٹ، ہیفنیئم، نکل، سامیریم، ٹنگسٹن، وینیڈیم، یٹریئم اور زرکونیم شامل ہیں۔
یہ معدنیات سیمی کنڈکٹرز، ہتھیاروں اور دیگر دفاعی مصنوعات کی تیاری میں استعمال ہوتی ہیں، امریکا ان میں سے زیادہ تر معدنیات کے لیے درآمدات پر انحصار کرتا ہے جبکہ چین ان سب کا بڑا عالمی پروڈیوسر ہے۔
دستاویز کے مطابق منصوبوں کے لیے 100 ملین سے لے کر 500 ملین ڈالر سے زائد تک کی ترقیاتی فنڈنگ دی جا سکتی ہے، پینٹاگون نے کمپنیوں سے کان یا پراسیسنگ پلانٹ بنانے کے لیے درکار لاگت، مزدوری اور مواد کی تفصیلات بھی طلب کی ہیں۔
امریکی کمپنی گارڈین میٹل ریسورسز کے ایگزیکٹو چیئرمین جے ٹی اسٹارزیکی نے رائٹرز کو بتایا کہ کمپنی نیواڈا میں ٹنگسٹن کے دو منصوبوں کے لیے فنڈنگ حاصل کرنے کی درخواست دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔
دوسری جانب امریکن ٹنگسٹن کے سی ای او کے مطابق ان کی کمپنی بھی آئندہ ہفتے فنڈنگ کے لیے درخواست دینے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یٹریئم کی کمی خاص طور پر ایرو اسپیس صنعت کے لیے تشویش کا باعث بن رہی ہے کیونکہ یہ ان کوٹنگز میں استعمال ہوتا ہے جو انجن اور ٹربائن کو انتہائی درجہ حرارت پر پگھلنے سے بچاتی ہیں۔
ادھر ٹرمپ انتظامیہ اس سے قبل بھی اہم معدنیات کی فراہمی بڑھانے کے لیے اقدامات کر چکی ہے، جن میں 12 ارب ڈالر کے معدنی ذخیرے کا منصوبہ اور اتحادی ممالک کے ساتھ ترجیحی معدنی تجارتی بلاک کی تجویز شامل ہے۔