بلال غوری ایک غیرجانبدارا ور محنتی صحافی ہیں۔گزشتہ دنوں وہ صحافیوں کے ایک گروپ کے ہمراہ بنگلہ دیش کے الیکشن کور کرنے گئے اور کراچی ائیرپورٹ پر روک لیے گئے۔انہیں نہ صرف آف لوڈ کردیا گیا بلکہ ہتھکڑی لگی ایک تصویر بھی سامنے آئی۔شدید دُکھ اور حیرت ہوئی کہ بلال غوری جیسے صاف ستھرے انسان کے ساتھ ایسا کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ اس سے بھی زیادہ تکلیف اس بات سے ہوئی کہ دیگر صحافی بنگلہ دیش روانہ ہوگئے۔ اس گروپ میں کئی سچائی کے علمبردار اور حق سچ پر کھڑے ہونے کے دعویدار صحافی بھی موجود تھے لیکن کسی نے یہ نہیں کہا کہ ہم بلال غوری کے بغیر بنگلہ دیش نہیں جائیں گے۔ ہاں یہ ضرور ہوا کہ ادھراُدھرفون گھمائے گئے،ٹویٹس ہوئیں اورسوشل میڈیا پر خبر چلائی گئی۔کیاہی اچھا ہوتا کہ سارے صحافی بلال غوری کے ساتھ مل کر کھڑے ہوتے اور سب کے سب آف لوڈ ہوجاتے۔بلال غوری کی ہتھکڑی لگی تصویر دیکھ کر ایک لمحے کیلئے گویاکسی نے دل مٹھی میں جکڑ لیا۔اس بے ضرر انسان نے کسی کا کیا بگاڑا تھا۔
یہ تصویر رہتی زندگی تک غوری صاحب کو یاد دلاتی رہے گی کہ جتنے مرضی طاقتور دوست ساتھ ہوں جب برا وقت آتا ہے تو ہر کوئی اپنا دامن بچا کر نکلنے کی کوشش کرتاہے۔ساتھ جانے والے کئی دوست صحافی شاید بنگلہ دیش جانے کا موقع ہاتھ سے کھونا نہیں چاہتے تھے اس لیے بلال غوری کو وہیں چھوڑ کردعائیں دیتے ہوئے نکل گئے۔بلا ل غوری نے تو رہا ہوہی جانا تھا لیکن احباب کے سرخروہونے کا یہ سنہری موقع تھا۔بعدمیں توبلال غوری بھی بنگلہ دیش روانہ ہوہی گئے لیکن اب انہیں یاد رکھنا ہوگا کہ دوست ہوتانہیں ہر ہاتھ ملانے والا۔
٭ ٭ ٭
کل ویلنٹائن ڈے تھا۔ پھول دیے گئے، لال رنگ پہنا گیا۔محبت تین قسم کی ہوتی ہے۔اصلی محبت، وہم والی محبت اور ضدی محبت۔ اصل والی محبت کا تو پتا نہیں لیکن معاشرے میں وہم والی اور ضدی محبت کا چلن عام ہے۔ وہم والی محبت میں لگتاہے گویا ہمیں محبت ہوگئی ہے لیکن یہ وہم بہت کم عرصے میں ختم ہوجاتاہے۔ضدی محبت شادی تک چلتی ہے کیونکہ دل و دماغ ضد پکڑ لیتے ہیں کہ یہیں شادی کرنی ہے۔گزشتہ سال طلاق کے کیسز دیکھیں تو اس میں 80فیصد کے قریب وہ ہیں جن کی محبت کی شادیاں ہوئی تھیں۔ شادی ہوئی، سسپنس ختم ہوااورساتھ ہی محبت گئی اچارلینے۔کیاوجہ ہے کہ جس سے ہم شدید محبت کرتے ہیں، جان دیتے ہیں، شادی کے بعد اس سے دل اچاٹ ہوجاتاہے۔ شائد اس لیے کہ محبت کے نام پر عجیب سی دھوکا دہی جاری ہوتی ہے جو شادی کے بعد کھل جاتی ہے۔رومینٹک فلموں میں بھی ہیرو ہیروئین کے افیئر سے لے کر شادی تک کی فلم دکھائی جاتی ہے اسکے بعد کا احوال گول کر دیا جاتاہے۔گئے وقتوں میں شادی سے پہلے دولہا دلہن ایک دوسرے کو جانتے تک نہیں تھے، پھر شادی ہوتی تھی اور محبت ہوجاتی تھی۔ آج کل یہ سارا کام الٹ چل پڑا ہے۔محبت ہوتی ہے، شادی ہوتی ہے اور پھر فریقین یوں ہوجاتے ہیں گویا ایک دوسرے کو جانتے ہی نہیں۔ہیررانجھابھی آج زندہ ہوتے اور ان کی شادی ہوچکی ہوتی تو شائدکسی عدالت میں ان کی طلاق کا کیس بھی لگا ہوتا۔عاشقوں کی لائن لگی ہوئی ہے، محبتیں تھوک کے حساب سے دستیاب ہیں لیکن پھربھی لہجوں میں زہر بھرا ہوا ہے۔ویلنٹائن بھائی کو بھی محبت مل گئی ہوتی، گھربسا لیا ہوتا تو آج اس کا دل بھی کسی اور پر آجانا تھا۔
٭ ٭ ٭
سردیوں کی رخصتی قریب ہے اور دل خوف سے کانپ رہا ہے۔ عنقریب پنکھے اوراے سی چلنے شروع ہوجائیں گے اورچہرہ جھلساتی دھوپ ہر ذی روح کو ادھ مواکرکے رکھ دے گی۔ جن دکانوں پر گیزر فروخت ہورہے تھے وہاں ائیرکولر سجا دیے گئے ہیں۔کینومالٹے آخری دموں پر ہیں۔ جس تیزی سے موسم تبدیل ہورہا ہے لگتا ہے کہ ہاف رمضان میں ہی فل گرمی پدھار جائے گی۔ابھی توجی بھر کے ہاتھ بھی نہیں سینکے تھے، ابھی توگرم کپڑوں کا سوادبھی پورانہیں ہواتھا۔ابھی تو کمبل کی گرمائش سے ہی دل نہیں بھرا تھا کہ گرمی نے الارم بجا دیا۔ سن رہے تھے کہ اس دفعہ سردی زیادہ دیر رہے گی۔کہاں رہی ہے؟ دسمبر میں جاکے صحیح سردی پڑی اور ڈیڑھ ماہ بعد ہی ہانپنے لگی۔مجھے تو یہ سوچ سوچ کر ہول آرہے ہیں کہ چند ہفتے پہلے جوگرم کپڑے نکالے تھے وہ واپس رکھنے پڑیں گے۔سردی رومینٹک موسم ہوتاہے۔گرمیوں میں تو آدھا سگریٹ پنکھا پی جاتاہے۔ترس ترس کر سردیاں آتی ہیں اور منتیں ترلے کرنے کے باوجود نہیں ر کتیں۔
٭ ٭ ٭
طاہرانوار پاشاپنجاب کے سابق آئی جی رہ چکے ہیں۔ بہت نفیس، باذوق اور نہایت منفرد انداز کے سفرنامہ نگار ہیں۔ان کی کتابوں میں ’ترکی میں پاشا، ازبکستان، نیل کی سنگ‘ شامل ہیں۔ تحریر میں دلچسپی اوربانکپن ہے اور قاری کو ساتھ ساتھ لیے گھماتے ہیں۔ کافی دنوں سے ان کی کوئی نئی کتاب دیکھی نہ سوشل میڈیا پر نظر آئے تو فون کر کے خیریت پوچھی۔ انہوں نے عجیب سی بات کی کہ میں نے لکھنا چھوڑ دیا ہے۔ وجہ کچھ نہیں تھی لیکن وہ کچھ اداس لگ رہے تھے۔ پاشاصاحب سے گزارش ہے کہ پلیزمیدان میں واپس آئیں۔
سفرنامہ نگار ویسے ہی نہ ہونے کے برابر ہیں ایسے میں آپ جیسے خوش باش ادیب بھی قلم روک لیں گے تو بہت کچھ پڑھنے سے رہ جائے گا۔پاشا صاحب کی کتابیں اگر آپ نے نہیں پڑھیں تو ایک دفعہ ضرور پڑھئے اور خود اندازہ کیجئے کہ ان کی تحریر میں کیسی شرارت اور برجستگی ہے۔انہیں یہ بھی شکوٰہ ہے کہ کتاب خریدکرپڑھنے والے کم ہوتے جارہے ہیں۔ بجا فرمایا لیکن سر! جوآپ کو پڑھتے ہیں ان کا کیا قصور ہے۔ تشریف لائیے اور اپنے خوبصورت سفرناموں سے ہمیں دنیا کی سیر کرائیے بلکہ میں تومشورہ دوں گاکہ یوٹیوب چینل شروع کیجئے تاکہ نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے آپ کی گفتگو بھی لوگوں تک پہنچے۔