• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زمانے کی اقدار تیزی سے بدل رہی ہیں۔ اس تبدیلی نے لباس اورکھانے پینےکے آداب کو بھی اپنی لپیٹ میںلے لیا ہے، جو نہ صرف تنزل کا شکار ہو گئے ہیں، بلکہ انسانی صحت کیلئے بھی خطرےکی گھنٹیاں بج اُٹھی ہیں۔ اس جدیددور میں گھریلو باورچی خانہ سکڑ رہا ہے، لیکن گلیوں،بازاروں، سیاحتی مقامات، سیرگاہوں پر قائم پھٹے، کھابہ خانے، ریسٹورنٹس اور فاسٹ فوڈز مراکز آباد ہو رہے ہیں۔ جہاں سے چائے، کافی، مشروبات، گرم کھانے پلاسٹک کی تھیلیوں میں ملفوف ہو کر ہر روز گھروں میں استعمال ہو رہے ہیں اور یوں اپنے ساتھ خطرناک بیماریاں بھی جسموں کو منتقل کر رہے ہیں۔ اکیسویں صدی میں پلاسٹک کا یہ عفریت نہ صرف گھروں، بلکہ سمندروں، ندی نالوں، میدانوں اور فضائوں میں تباہیاں پھیلا رہا ہے۔ اگر اقوامِ عالم نے اس عفریت کے تدارک کیلئے فوری اور منظم اقدامات نہ کئے تو نسل انسانی کو انسان ہی کے ایجاد کردہ بارود سے بھی زیادہ نقصان پہنچ سکتا ہے۔ سمندروں میں جمع ہونے والے پلاسٹک فضلےکی وجہ سے تقریباً دو ہزار قسم کی آبی مخلوق خطرات سے دوچار ہے۔سمندروںکے اندر موجودیہ پلاسٹک انکے اعضائے متحرک کو باندھ دیتا ہے۔ اس پلاسٹک کی وجہ سے گرین ہائوس گیسز کا انخلا تیز ہو جاتا ہے جو بعدازاں زمینی حدت میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے۔ پلاسٹک کے ٹکڑے آبی مخلوق یعنی مچھلیاں نگلتی ہیں تو اس کے ذرات انسانی جسموں تک میں زہرآلودگی کا باعث بنتے ہیں۔ پلاسٹک اور خالی بوتلوں کا سیلاب آبی بہائو کو روک دیتا ہے، نکاسی آب کے نظام کو بند کر دیتا ہے۔چنانچہ بعدازاں شہروں اور قصبوں میں سیلابی کیفیات میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ آبی ذخائر، دریائوں اور نکاسی آب کے نظام میں پلاسٹک کی آمد پلاسٹک کے ایک مرتبہ استعمال (signle use) کی وجہ سے ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال دو کروڑ ٹن پلاسٹک کا فضلہ آبی ماحولیات میں پھینک دیا جاتا ہے۔ نہ صرف دریا اور سمندر خطرناک پلاسٹک کی آماجگاہ بن گئے ہیں، بلکہ یہ زمینوں کیلئے بھی عذاب ناک بن چکا ہے۔ پلاسٹک کے بے دردی سے پھینکے گئے ٹکڑوں کی وجہ سے زرخیز اور نرم زمین پتھر کی طرح سخت ہو جاتی ہے جسکی وجہ سے پانی کی زمین میں نفوذ پذیری اور پودوں کی جڑوں کی آزادانہ حرکت رُک جاتی ہے۔ زرخیز زمین کے اندر جراثیمی افزائش بڑھ جاتی ہے جس سے خطرناک گرین ہائوس گیس نائٹرس آکسائیڈ کی پیدائش تیزی سے بڑھتی ہے۔ زمین میں پیوست ہونے والے مائیکرو پلاسٹک ذرات زمین کے ہاضمے میں نہیں آتے، وہ تحلیل نہیں ہوتے۔ چنانچہ زمین کے پیٹ میں بائی سیفی نول زہر بنتا ہے۔ بعدازاں زمین سے پودوں میں سرایت کرتا ہے تو انسانی جسموں میں کینسر کا باعث بن جاتا ہے۔ پلاسٹک کا فضلہ انسانی اور دیگر حیوانی بیماریوں کے پھیلائو میں ویکٹر کا کردار بھی ادا کرتا ہے۔ چنانچہ جب اس کو جلایا جاتا ہے تو ٹاکسن ڈائی آکسائیڈ پیدا ہوتی ہے۔ تب اس کیفیت میں فضائی آلودگیاں پھیلتی ہیں۔ نظر آنیوالے پلاسٹک کے فضلہ جات آبی، زمینی اور فضائی آلودگیاں تو پھیلاتے ہیں۔ اس کے نہ نظر آنے والے ذرات بھی کچھ کم نہیں۔ ایک مائیکروپلاسٹک جو انسانی بال سے بھی زیادہ باریک ہوتا ہے۔ یہ انسانی جسم کے اندر خوراک کے ذریعے، سانس کے ذریعے، معدے اور پھیپھڑوں میں داخل ہو جاتے ہیں۔ انسانی جسم میں ان کا دخول جھریوں کو ختم کرنے والے کاسمیٹکس کے ذریعے بھی ہوتا ہے جو جلد سے خون میں شامل ہوتے ہیں۔ یوں یہ مائیکرو پلاسٹک جگر، گردوں، تلی، بریسٹ، دل اور دماغوں میں تیزی سے سرایت کرتے ہیں۔ جہاں یہ ناقابل تحلیل صلاحیتوں کی وجہ سے دائمی مہمان بن جاتے ہیں اور یوں سوجن، اعضاءکے افعال میں تعطل اور کیمیائی توڑ پھوڑ کا باعث بن رہے ہیں۔ پلاسٹک فضلہ کو جلانے سے انتہائی مضر صحت گیسز یعنی فیوران، پی سی بی، وی اوسیز، ڈائی آکسن کا اخراج ہوتا ہے جنکی وجہ سے کینسر پھیل رہا ہے اور دودھ دینے والے جاندار مع انسان بانجھ پن کا شکار ہو رہے ہیں۔ آج کا انسان اپنی بے مہار صنعتی اور تجارتی عادات اور کیمیکلز کی وجہ سے صحت کی تباہ کاریوں کا شکار ہے اور اس کھیل سے جان بھی نہیں چھڑا سکتا، لیکن اپنی صنعتی پراڈکٹس کا متبادل تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس سے وہ صحت اور زمینی ماحولیات کو دوبارہ قدرتی حالت میں مراجعت دلا سکتا ہے۔ چنانچہ ضروری ہے کہ وہ فوری طور پر پلاسٹک سے نجات کیلئے عالمی منصوبہ پر عملدرآمد شروع کر دے۔ پلاسٹک کے متبادل ایسے ماحول دوست میٹریلز کا استعمال شروع کر دے جو قابل تجدید (renewable) ہوں۔ ایسے قدرتی میٹریل کو کٹلری، خوراک کے تحفظ اور Containers میں استعمال کر سکتے ہیں۔ اس مقصد کیلئے بائیوپلاسٹکس جو مکئی اور گنے کے پھوک سے تیار ہوتے ہیں، انہیں استعمال کیا جائے۔ جو جلد بائیوڈی گریڈ ہو جاتے ہیں اور سولڈ ویسٹ میں اضافہ بھی نہیں کرتے۔ جیوٹ، کپاس اور زرعی فصلوں کے فضلہ سے تیارکردہ کاغذ کی مدد سے تھیلوں اور ڈبوں میں اشیاء کو پیکنگ کیلئے استعمال کیا جائے۔ پولی تھین بیگز، سامانِ خور و نوش کے پھینکنے پر سخت پابندی ہونی چاہئے۔ ڈائون گریڈ پلاسٹک کو کارخانوں میں بطور ایندھن جلانے والوں کو سخت تادیبی کارروائی کے سپرد کیا جائے اور بسنت جیسی پابندیوں کی ایس او پیز کیلئے انتظامی مشینری کو متحرک کیا جائے۔ پلاسٹک اشیاء بنانیوالے، درآمد کرنیوالے اور استعمال کنندگان کو ایسے نظام کا حصہ بنایا جائے جس میں پلاسٹک اشیاء کی خرید و فروخت، ان کی دوبارہ وصولی اور ری سائیکلنگ کی پابندی شامل ہو۔ ایسا انفارمیشن سسٹم تیار کیا جائے جو تمام مراحل کو SOPs کے ذریعے کنٹرول کرے۔ ایسی کمپنیاں جو پلاسٹک کو دوبارہ استعمال کر سکیں، ان کیلئے ٹیکس میں رعایت ہو۔ ملکی سطح پر پلاسٹک کے خلاف عوامی شعور بیدار کرنےکیلئے پروگرام وضع کئے جائیں، تاکہ پلاسٹک فضلےکی پیداوار کو عالمی ٹارگٹ یعنی 2040ء تک 75% کم کیا جا سکے۔

تازہ ترین