ریاستوں کی ترقی کا انحصار جہاں تعلیم کی ترقی سے منسلک ہے وہاں جدید سفری نظام سے بھی معیشت مضبوط ہوتی ہے پنجاب میں عرصہ سے سفری سہولیات کی بہتری میں کمی رہی ہے جس سے عوام تنگ تھے اور ویگنوں اور بسوں کی بندش کے سبب عوام کو سفر کرنے میں مشکلات پیش آ رہی تھیں جبکہ مہنگی سواری کی وجہ سے بے شمار تکالیف کا سامنا تھا۔ لاہور میں ٹرانسپورٹ کے نظام میں بے شمار نقائص بھی سامنے آٰئے جن کو حل کرنے کے لیے اقدامات نہ ہوئے۔ مریم نواز جب وزیر اعلیٰ بنیں تو انھوں نے ایک ایسے شخص کو وزیر ٹرانسپورٹ بنایا جس کا وژن بین الاقومی معیاری سوچ کا حامل تھا بلال اکبر خان وزیر ٹرانسپورٹ نے پنجاب بھر میں انقلابی اقدامات اٹھائے ہیں ۔ پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی صوبے میں جدید، محفوظ اور ماحول دوست عوامی ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لیے قائم ایک کلیدی ادارہ سر گرم عمل ہے۔ اس ادارے نے شہری نقل و حمل کے نظام کو عالمی معیار سے ہم آہنگ بنانے کے مشن پر کام جاری رکھا ہوا ہے جس سے پنجاب بھر میں ٹرانسپورٹ کی سستی اور معیاری سہولیات کی فراہمی ممکن ہوئی ہے۔ صوبے کے پندرہ اضلاع میں چار سو ستائیس گرین الیکٹرک بسیں چلا ئی گئی ہیں ۔ ان بسوں کے ذریعے لاکھوں مسافروں کو فوائد حاصل ہو رہے ہیں جبکہ پچاسی لاکھ سے زیادہ شہریوں کو مفت اور سبسڈی شدہ سفری سہولت فراہم کی گئی ہے یہ پیش رفت نہ صرف عوامی ریلیف بلکہ ماحولیاتی بہتری کی جانب بھی ایک مضبوط قدم ہے۔
پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی کے نمایاں اقدامات میں گرین بس سروس، ٹی کیش کارڈ اور’امپاور ہر‘ اقدام خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔ گرین بس سروس صاف توانائی پر مبنی، آرام دہ اور محفوظ سفر کی علامت ہے جو اسموگ اور کاربن اخراج میں کمی کے ذریعے صاف اور سبز پنجاب کے وژن کو تقویت دے رہی ہے۔ جدید ڈیزائن، محفوظ سفری ماحول اور باوقار سہولت نے شہری ٹرانسپورٹ کے تصور کو یکسر بدل دیا ہے۔ٹی کیش کارڈ ایک یونیفائیڈ اسمارٹ ٹریول کارڈ بھی موجود ہے جس کے لیے اب تک ایک لاکھ تیس ہزار سے زائد شہری درخواست دے چکے ہیں ۔عوام کا اعتماد اتنا بڑھا ہے کہ چھیاسٹھ ہزار سے زیادہ کارڈز جاری کیے جا چکے ہیں۔ یہ کارڈ اورنج لائن میٹرو ٹرین، میٹرو بس، سپیڈو بسوں اور گرین الیکٹرک بسوں پر یکساں طور پر قابلِ استعمال ہوتے ہیں ۔ کیش لیس اور پیپر لیس نظام نہ صرف سفر کو تیز اور سہل بناتا ہے بلکہ شفافیت اور ڈیجیٹل گورننس کو بھی فروغ دیتا ہے۔ اسمارٹ کارڈ کے ذریعے مربوط کرایہ جاتی نظام پنجاب کو جدید شہری ٹرانسپورٹ کے نئے دور میں داخل کر رہا ہے۔’امپاور ہر‘ اقدام پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی کی سماجی ذمہ داری کا عملی نمونہ ہے ۔ اس پروگرام کے تحت گرین بس اسٹیشنز پر بیوہ اور مطلقہ خواتین کو مفت ٹک شاپس فراہم کی جا رہی ہیں۔ اب تک دس ٹک شاپس مستحق خواتین کے حوالے کی جا چکی ہیں جبکہ مجموعی طور پر صوبائی دارالحکومت لاہور میں کُل33 شاپس کے قیام کا منصوبہ ہے۔ ہر شاپ میں صاف پانی، فرسٹ ایڈ، وائی فائی، موبائل چارجنگ پوائنٹس، روشنی اور پنکھوں جیسی بنیادی سہولیات فراہم کی گئی ہیں تاکہ خواتین محفوظ اور باوقار ماحول میں کاروبار کر سکیں۔ یہ اقدام خواتین کی معاشی خود مختاری اور سماجی شمولیت کی جانب ایک عملی اور بااثر قدم ہے۔پنجاب ٹرانسپورٹ کمپنی کا جدید ہیڈکوارٹر اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر اس پورے نظام کو ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ اور مربوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ اس مرکز کے ذریعے بسوں کی براہِ راست نگرانی، وقت کی پابندی، آپریشنل کارکردگی اور مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ ڈیٹا پر مبنی فیصلے اور شفاف مانیٹرنگ اسمارٹ گورننس کی نئی مثال قائم کر دی ہے ۔
ایسے تمام اقدامات وزیراعلیٰ پنجاب کے ٹرانسپورٹ وژن 2030 کا عملی اظہار ہیں، جس کا محور صاف، سبز اور دھواں سے پاک پنجاب کا قیام ہے۔ جدید انفراسٹرکچر، ماحول دوست ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل سہولت اور سماجی شمولیت پر مبنی یہ حکمت عملی صوبے میں شہری زندگی کے معیار کو بلند کرنے کی جانب ایک جامع اور پائیدار عمل ہے جس سے عوام کو براہ راست فوائد حاصل ہوں گے ۔ اگر یہ رفتار برقرار رہی تو پنجاب کا ٹرانسپورٹ نظام نہ صرف ملک بلکہ خطے کے لیے بھی ایک قابلِ تقلید ماڈل بن سکتا ہے۔ ٹرانسپورٹ کے نظام کو وسعت دے کر پورے پنجاب میں لانے کے لیے عملی اقدامات بھی جاری ہیں یورپ اور ترقی یافتہ ممالک میں ایسے نظام قائم ہیں جس سے ملک کے شہریوں کو بہتر سفری سہولیات کے فراہمی کے لیے بہت توجہ دی جاتی ہے۔ پنجاب میں بھی اسی طرز کا نظام ٹرانسپورٹ لایا گیا ہے جس سے معیشت پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ذرائع نقل و حمل کے سبب صنعتی اور زرعی ترقی ممکن ہوتی ہے جس ملک میں سڑکیں زیادہ ہوں گی وہاں معیشت کی ترقی کا پہیہ تیزی سے گھومتا ہے۔ پنجاب میں سفری نظام بدحالی کا شکار تھا جس میں اب جدید ٹیکنالوجی لائی گئی ہے اور آہستہ آہستہ یہ جدید سفری نظام پنجاب کے تمام اضلاع میں چلا جائے گا جس سے عوام کے سفری اخراجات میں بھی کمی آئےگی۔ صوبائی وزارت نقل و حمل جدید ٹرانسپورٹ نظام کو یورپی طرز پر لانے کی متمنی ہےاور اس کے لیے عملی اقدامات بھی کر رہی ہے۔ پاکستان میں تمام نظاموں کو بہتر اور جدید کرنے کی ضرورت ہے ملک کی ترقی اور خوشحالی کا راز جدیدیت میںہی ہے ۔جدید ذرائع نقل و حمل سے کسان بھی بہتری کی طرف جائے گا اور سفری مشکلات میں کمی سے عوامی فوائد بھی سامنے آتے ہیں۔ بلاشبہ وزیراعلیٰ پنجاب کے وژن نے پنجاب کو آگے لے جانے میں مدد فراہم کی ہے۔