• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عہدِ حاضر کا سماج ایک عجیب تضاد کا شکار ہے۔ بظاہر ترقّی، شعور اور آزادیٔ اظہار کے دعوے سُنائی دیتے ہیں، مگر دوسری طرف، اخلاقی گراوٹ اور عدم برداشت کی جڑیں بھی گہری ہوتی جا رہی ہیں۔ اختلافِ رائے اب فکری ارتقا کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ ذاتی دشمنی، تضحیک اور نفرت میں بدل چُکا ہے۔ آج ہم جس سماج میں سانس لے رہے ہیں، وہاں اخلاقی گراوٹ اور عدم برداشت محض ایک اصطلاح نہیں رہی بلکہ روزمرّہ زندگی کا تلخ تجربہ بن چُکی ہے۔

اخبار کھولیں، اسکرین آن کریں یا گلی کوچوں پر نظر ڈالیں، ہر طرف ایسے واقعات بکھرے پڑے ہیں، جو انسان کو سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ کیا ہم واقعی ایک مہذب معاشرے کا حصّہ ہیں یا تہذیب محض الفاظ کی حد تک زندہ ہے؟ حال ہی میں ایک معمولی سے واقعے نے پورے سماج کو جھنجوڑ دیا۔ جب ایک پھل فروش کی ریڑھی پر کیلے کی خریداری کے دوران تیس روپے کے تنازعے نے دو نوجوان بھائیوں کی جان لے لی۔

یہ قتل صرف تیس روپے کا نہیں تھا، بلکہ وہ شدّت تھی، جو ہمارے مزاج کا مستقل حصّہ بنتی جا رہی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ قاتل کون تھا، سوال یہ ہے کہ وہ کون سی اندرونی شکست تھی، وہ کون سا سماجی دباؤ تھا، جس نے انسان کو انسان کا قاتل بنا دیا؟ اِسی طرح ایک عورت نے نہ صرف اپنے شوہر کو قتل کیا، بلکہ اس کے گوشت کا قیمہ بنا کر بیچ دیا۔ 

یہ واقعہ محض ایک فرد کی سفّاکی نہیں، بلکہ اُس سماج کا آئینہ ہے، جہاں رشتے اعتماد سے خالی اور انسان اندر سے اِس حد تک مر چُکا ہے کہ جسمانی قتل معمول بن گیا۔ اِسی طرح نشے کی حالت میں گاڑی چلاتے ہوئے ایک امیر کبیر خاتون کا ایک باپ اور اس کی بیٹی کو بے دردی سے کچل دینا بھی محض حادثہ نہیں، بلکہ اجتماعی بے حسی کی علامت تھا۔ یہ سب واقعات ہمیں بتاتے ہیں کہ غصّہ، لالچ، محرومی اور لاپروائی کس طرح انسانیت کو اندر سے کھا رہی ہیں۔

اخلاقی گراوٹ کا مطلب صرف اقدار کا زوال نہیں، بلکہ احساسِ ذمّے داری کا خاتمہ بھی ہے۔ جب سماج میں سچ اور جھوٹ کے درمیان حدِ فاصل مٹنے لگے، جب مفاد کو اصول پر ترجیح دی جانے لگے اور جب طاقت وَر کا ظلم معمول اور کم زور کی چیخ تماشا بن جائے، تو یہ اخلاقی گراوٹ کی واضح علامتیں ہیں۔ اس کے ساتھ عدم برداشت کا رویّہ سماج کو مزید کھوکھلا کر دیتا ہے۔ 

برداشت، دراصل دوسرے کے وجود، رائے اور احساس کو تسلیم کرنے کا نام ہے اور جب یہ صلاحیت ختم ہو جائے، تو مکالمہ دَم توڑ دیتا ہے۔ ایسے ماحول میں ادیب محض تخلیق کار نہیں رہتا، بلکہ سماج کے ضمیر کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اخلاقی گراوٹ اور عدم برداشت کے سماج میں ادیب کی ذمّے داری دو چند ہو جاتی ہے۔ ادیب محض واقعات کی تکرار نہیں کرتا، بلکہ وہ اُن کے پیچھے موجود اخلاقی خلا کو نمایاں کرتا ہے۔

وہ سوال اُٹھاتا ہے کہ انسان اِتنی شدّت، بے حسی اور ظلم میں کیوں ڈوب رہا ہے؟ ادب وہ جگہ ہے، جہاں خبر ختم ہوتی ہے اور فہم شروع ہوتا ہے۔ ایسے سماج میں ادیب کا پہلا فرض سچّائی سے وابستگی ہے۔ ادیب اگر حالات کے دباؤ، خوف یا مقبولِ عام بیانیے کے تحت سچ سے انحراف کرے، تو وہ بھی اُسی اخلاقی گراوٹ کا حصّہ بن جاتا ہے، جس پر وہ تنقید کرتا ہے۔ ادب کا کام خوشامد کرنا نہیں، سوال اُٹھانا ہے۔ یہ سوال کبھی کہانی کی صُورت میں، کبھی نظم کے استعارے میں اور کبھی مضمون کی صاف زبان میں سامنے آتا ہے، مگر اس کی بنیاد ہمیشہ سچ پر ہوتی ہے۔

عدم برداشت کے ماحول میں ادیب کی دوسری بڑی ذمّے داری زبان اور لہجے کی حفاظت ہے۔ جب سماج میں گالی دلیل بن جائے اور الزام مکالمہ، تو ادیب کا قلم تہذیب کا آخری قلعہ بن جاتا ہے۔ وہ اختلاف کرتا ہے، مگر نفرت کے بغیر۔ احتجاج کرتا ہے، مگر انسانیت کے دائرے میں رہ کر۔ اگر ادیب بھی اشتعال اور تشدّد کی زبان اختیار کر لے، تو پھر قلم اور ہتھیار میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا۔ ادیب کا کام واعظ یا مصلح ہونا نہیں، وہ براہِ راست اصلاح کے دعوے کے ساتھ نہیں لکھتا، مگر اس کی تحریر قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ 

وہ انسانی ضمیر کی حالت، اخلاقی زوال اور سماجی بے حسی کو واضح کرتا ہے۔ وہ اپنی تحریر کے ذریعے یاد دِلاتا ہے کہ انسان محض غصّے، لالچ اور خوف کا مجموعہ نہیں، بلکہ ہم دردی، شعور اور ذمّے داری کا حامل بھی ہے۔ ادب فوری طور پر سماج کو بدل نہیں سکتا، مگر یہ ذہنوں میں وہ دراڑ پیدا کر دیتا ہے، جہاں سے روشنی داخل ہو سکتی ہے۔ اخلاقی گراوٹ کے زمانے میں ادب کا ایک اہم کردار انسانی اقدار کی بازیافت ہے۔

ہم دردی، انصاف، دیانت اور احترام جیسے الفاظ اگر روزمرّہ کی گفتگو سے غائب ہو جائیں، تو ادب انہیں اپنی تخلیقات میں محفوظ کر لیتا ہے۔ کہانیاں، نظمیں اور مضامین آنے والی نسلوں کو یہ بتاتے ہیں کہ ایک وقت تھا، جب انسان محض ہجوم نہیں، ایک حسّاس وجود تھا۔ عدم برداشت کے خلاف ادیب کی سب سے مؤثر مزاحمت مکالمہ ہے۔ وہ یک طرفہ فیصلے صادر نہیں کرتا بلکہ قاری کو سوچ کی کئی راہیں دِکھاتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ادب آمریت، انتہا پسندی اور فکری جمود کے لیے ہمیشہ خطرہ رہا ہے۔ کیوں کہ ادب سوال کرنا سِکھاتا ہے اور سوال ہی وہ عمل ہے، جس سے عدم برداشت لرزنے لگتی ہے۔ دراصل، ادیب سماج کے سامنے آئینہ رکھتا ہے۔ اس آئینے میں نظر آنے والا چہرہ اکثر بدصُورت ہوتا ہے، اِسی لیے سماج اس آئینے کو توڑنے پر آمادہ ہو جاتا ہے، مگر آئینہ رکھنے کا عمل ہی ادیب کی اصل ذمّے داری ہے، چاہے اس کی قیمت تنہائی، تنقید یا مخالفت کی صُورت ہی میں کیوں نہ ادا کرنی پڑے۔

جب سماج میں تیس روپے پر قتل، رشتوں کی بے حرمتی اور نشے میں انسانوں کا کچلا جانا معمول بن جائے، تو ادیب کی خاموشی جرم بن جاتی ہے۔ مگر اس کی آواز چیخ نہیں، مکالمہ ہونی چاہیے، کیوں کہ اندھیرے میں شور نہیں، چراغ درکار ہوتا ہے اور یہی چراغ جلانا ادیب کی اصل ذمّے داری ہے۔

یہاں یہ بات بھی سمجھنی ہو گی کہ اخلاقی گراوٹ اور عدم برداشت کے سماج میں ادیب کی ذمّے داری نہ تو آسان ہے اور نہ ہی محفوظ، مگر یہی اس کی اہمیت کا ثبوت بھی ہے۔ جب معاشرہ اندھیرے میں ڈوبنے لگے تو چراغ جلانا خطرناک ضرور ہوتا ہے، مگر ضروری بھی۔

ادیب اِسی خطرے کو قبول کر کے اپنے عہد کا گواہ بنتا ہے۔ اس کی تحریر شاید فوری طور پر سماج کو بدل نہ سکے، مگر یہ ضرور ہے کہ آنے والے وقت کو بتا دے کہ اس اندھیرے میں بھی کچھ لوگ روشنی کی بات کر رہے تھے۔

سنڈے میگزین سے مزید