قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس میں پولی کلینک اسپتال میں ادویات کی خریداری میں بےضابطگیوں کا آڈٹ اعتراض سامنے آیا۔
پولی کلینک کی طرف سے 21 کروڑ 47 لاکھ روپے کی ادویات ریپیٹ آرڈر پر خریدنے کا انکشاف پوا۔
آڈٹ حکام کے مطابق سب سے کم بولی دینے والی کمپنی کو ٹھیکہ نہ دینے سے 3 کروڑ 7 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ ادویات خریداری میں پبلک پروکیورمنٹ رولز 2004 کی خلاف ورزی ہوئی۔
آڈٹ حکام نے قومی اسمبلی کی ذیلی کمیٹی کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 15 فیصد حد سے زائد ریپیٹ آرڈرز جاری کیے گئے۔ 08-2007 میں ادویات کی خریداری پر 21 کروڑ سے زائد اخراجات ہوئے۔ کم بولی دہندہ کو نظر انداز کر کے دیگر فرموں سے خریداری کی گئی۔
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسسز کے حکام نے کہا کہ ہم نے بار بار وزارت خزانہ کو خط لکھے لیکن جواب نہیں ملا۔
وزارت خزانہ کے حکام نے کہا کہ پہلے کے خطوط کا مجھے معلوم نہیں، ان کو پتہ کرنا پڑے گا۔ ذیلی کمیٹی نے وزارت خزانہ اور پمز حکام کو ایک ماہ میں معاملہ سیٹل کرنے کی ہدایت کی۔