• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سانحہ اسلام آباد کو بھارتی اسپانسر ڈدہشت گردی کہا جارہا ہے۔ وزیر داخلہ نے کھلے بندوں اس حقیقت کا برملا اعتراف کیا ہے کہ ’’ خود کش عملہ آور دہشت گردوں کی جانب خود کشی کا ریٹ پانچ سو ڈالر سے بڑھاتے پندرہ سو ڈالر کردیا گیا ہے جس کے عوض اپنی جان گنوانے والے دہشت گردوں کو انڈیا مالی مدد فراہم کررہا ہے۔‘‘ اس حقیقت سے سب بخوبی آگاہ ہیں کہ داعش نامی عالمی دہشت گرد تنظیم کیسے تخلیق ہوئی تھی، جس نے کئی ممالک سے گزر کر اب افغانستان میں مستقل ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔

پہلے یہ امریکہ کے لیے شدید خطرہ تھی اور اب ہمارے معصوم لوگوں کی جانوں کے درپے ہوگئی ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے درست کہا ہے کہ ’’بھارت پس پردہ رہ کر پاکستان میں دہشت گردی کے نیٹ ورک آپریٹ کر رہا ہے، بھارتی مالی معاونت اور سرپرستی، ہر قسم کی دہشت گردی کی مالی معاونت بھارت سے کی جاتی ہے۔ ہم حالت جنگ میں ہیں، شہری بھی مدد کریں تو فائدہ ہوگا۔‘‘ پانچ دس نہیں اکیس دہشت گرد تنظیمیں افغانستان سے آپریٹ ہو رہی ہیں۔ اس میں کیا شک رہ جاتا ہے کہ بھارت پاکستان کو ایک بار پھر دہشت گردوں کے ذریعے کمزور کررہا ہے۔ بلوچستان میں اس کے نمک حرام دہشت گردوں کی کمر مسلسل توڑی جارہی ہے اور دہشت گردوں کو نشان عبرت بنا کر انہیں ان کے بلوں سے نکال کر ختم کیا جارہا ہے۔ گمشدہ افراد کا پنڈورا باکس بھی اب ان کے بہی خواہوں کا ہتھیار نہیں رہا اور حقائق نے یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ جنہیں گمشدہ افراد قرار دے کے عالمی سطح پر چیخ و پکار کی جاتی رہی ہے وہ بلوچستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث پائے گئے ہیں، یہ عناصر فی الحقیقت گمشدہ افراد نہیں تھے بلکہ دہشت گردوں کے پاس تربیت پارہے تھے۔ اگرچہ بھارت پر ایک بار پھر امریکی صدر کی نوازشات شروع ہوچکی ہیں اور اس کے ساتھ کیے گئے معاہدے کی گرہیں تو وقت گزرنے کے بعد ہی کھلیں گی تاہم یہ حقیقت ہے کہ پاکستان، امریکہ کو وہ قیمت نہیں دے سکتا جس کی امریکہ کو توقع ہے۔ پاکستان، روس کے خلاف امریکہ کے لیے کھڑا نہیں ہوسکتا، بھارت نے روسی تیل کی فراہمی کو روک کر ایسا کردیا ہے تاہم مستقبل میں اس کی وہ کیا قیمت ادا کرے گا اس سے بھارتی حزب اختلاف بخوبی آگاہ ہے اسی لیے امریکہ کی نوازشات کو وہ نقصان کا سودا سمجھ رہے ہیں۔

سچی بات تو یہ ہے کہ دیگر ممالک کو بھارت کی وجہ سے درد ہوگا توہی بھارت کے خلاف آواز اٹھے گی اور ایک دن ہر ملک بھارت کے خلاف بولے گا۔ اس دفعہ بلوچستان میں جتنے حملے ہوئے جو آیا وہ بچ کر نہیں گیا، بی ایل اے ویڈیوز بناتی ہے جو بھارتی میڈیا پر چلتی ہیں۔ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’’دشمن دشمن ہے، دشمن کی کیٹیگریز نہیں بنتیں، پاکستان کے خلاف جنگ کرنے والے کو کیٹیگریز میں تقسیم نہ کریں، دنیا نے آواز نہیں اٹھائی تو دیکھ لے اس کا نقصان کتنا ہوگا، دہشت گرد تنظیمیں مل کر کارروائیاں کررہی ہیں، ہم نے بہت سارے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پکڑے ہیں جو دہشت گرد بھی استعمال کر رہے ہیں، ہم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو کہا ہے کہ اگر وہ یہ اکاؤنٹس بند نہیں کریں گے تو کچھ اور آپشن اختیار کریں گے، ہم نے کبھی دہشت گردی کو سپورٹ نہیں کیا۔‘‘ وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’’میں سکیورٹی اداروں کی چھوٹی سی ضرورت کو بھی پورا نہیں کر پارہا، اسلام آباد کے ترانوے داخلی راستے ہیں، پھر ریڈ زون ہے، اسلام آباد پولیس کی اسی فیصد نفری پچاس سال سے زیادہ عمر کی ہے۔‘‘ سچ تو یہ ہے کہ جب تک اسلام آباد کے تمام داخلی راستوں کو حفاظتی نظام کے تابع نہیں لایا جاتا اور داخلی و خارجی راستوں کی حفاظت کو فول پروف نہیں بنایا جاتا تب تک دہشت گرد یونہی دندناتے رہیں گے۔ نیز یہ کہ ان داخلی راستوں پر تعینات اہل کاروں کی فوج کی طرز پر تربیت بھی از بس لازم ہے، جہاں جہاں بھی کینٹ کے علاقوں میں سیکورٹی فورسز کے جوان تعینات ہیں وہاں جانچ پڑتال سخت ہے اور امن بھی ہے، پولیس ناکوں پر جومبینہ گل کھلائے جاتے ہیں ان سے سب بخوبی واقف ہیں۔ ایمان داری، دیانت داری اور قانون کی پاس داری کے تین رہنما اصول حرز جاں بنالیے جائیں تو کوئی دہشت گرد ملک کے کسی کونے میں بھی نہیں رہ سکتا۔ دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ ’’اسلام آباد میں ہونے والے دھماکے کے سہولت کاروں اور ہینڈلرز کا پتا لگا لیا، جلد ہی عوام کو ان کے بارے میں آگاہ کردیا جائے گا۔‘‘ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’یہ کلیئر ہوچکا ہے کہ دہشت گرد افغانستان جاکر ٹریننگ لے کر آیا تھا، پاکستان کے خلاف افغان سر زمین کے استعمال کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی، ریاست کا پیغام بالکل واضح ہے کہ دہشت گردی کے لیے کوئی جگہ نہیں، امن کا پیغام لے کر نکلے ہیں، فرقہ واریت اور نفرت کی کوئی گنجائش نہیں، پیغام امن کمیٹی کا مقصد دہشت گردوں کے بیانیہ اور سوچ کا مقابلہ کرتے ہوئے قوم کو یکجا کرنا تھا‘‘ کمیٹی کے اندر مسیحی، ہندو، سکھ کمیونٹی سے بھی نمائندگی موجود تھے۔

اس وقت سیاسی مخالفین کو بھی ساتھ ملا کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ مل کر مسائل کو حل کی طرف لے جایا جائےاور ملک میں امن و سلامتی کی فضا قائم کی جاسکے۔ ذاتی مفاد کو ایک طرف رکھ کر ملکی مفادات کے بارے میں سنجیدگی کے ساتھ سوچنے کا وقت آگیا ہے۔ خدارا سوچئے اور سمجھئے۔ اللہ ہمارا اور وطن عزیز کا حامی و ناصر ہو، آمین۔

تازہ ترین