صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کو ہم بناتے رہے ہیں، ملک کے حالات پہلے سے بہتر ہیں، مکمل بہتر ہونے میں وقت لگے گا۔
وہاڑی میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس شخص کو روز بھاشن دینے کی عادت تھی، ہر ٹی وی پر اس کی تقریر آتی تھی تو باقی تقریریں بند ہو جاتی تھیں، ڈیڑھ سال نہیں ہوا کہ وہاں سے آواز آ رہی ہے، بیٹا کہہ رہا ہے کہ اسے ملنے نہیں دیا جا رہا، میں نے 14 سال جیل کاٹی، اپنے بچوں سے جب ملا تو وہ مجھ سے قد میں بڑے تھے۔
صدرِ مملکت نے کہا کہ یہ تکالیف تو آپ نے برداشت کرنی ہیں، یہ تو زندگی کا حصہ ہیں، اگر نہیں برداشت کر سکتے تو کوئی اور آسان کام کرو نا، یہ کام کرنا ضروری ہے؟ تم مدر ٹیرسا بن جاتے، کرکٹ کے گاڈ بن جاتے، ہر جگہ کرکٹ کلبس بناتے، تم ایک شعبے کو لے لیتے، اگر سیاست ہے تو اس میں ہر شعبہ آتا ہے۔
صدر آصف زرداری کا کہنا ہے کہ قومی ترقی کا انحصار کسانوں کو مضبوط بنانے، جدید زرعی طریقوں کے فروغ میں ہے، پاکستان کے معاشی چیلنجز کا واحد پائیدار حل زراعت ہے، 50 فیصد میرے پارٹنر کسان ہیں۔
اِن کا کہنا ہے کہ کسانوں کو سہولت کی فراہمی وقت کا تقاضہ ہے، زرعی شعبے کی بہتری سے ملک ترقی کر سکتا ہے، ملک میں ہر قسم کی نعمت موجود ہے، تسلسل اور سوچ نہیں، ہمیں پانی کا مؤثر استعمال یقینی بنانا ہو گا، پنجاب کے لوگوں سے کہہ کہہ کر تھک گیا ہوں کہ اپنا پانی راوی سے نکالو۔
صدرِمملکت کا کہنا ہے کہ مجھے معلوم ہے کہ بلوچستان کے عوام میں درد ہے، ہم تو سندھ اور بلوچستان تک محدود ہیں، پنجاب میں ہماری حکومت نہیں، کے پی کی اپنی سوچ ہے، کے پی حکومت مار کٹائی پر اتری ہوئی ہے، ملک ان کو بنانا نہیں، لوگوں کا کام کرنا نہیں، کے پی حکومت نے کوئی کام نہیں کیا، ملک 1 سال رک جائے تو 10 سال پیچھے چلا جاتا ہے، یہ ملک 4 سال رک گیا تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ججز کی تنخواہیں میں نے 3 گنا کر دیں، میں ہر کام سمجھ اور سوچ کر کرتا ہوں، ہم ایسی لیڈر شپ چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں جو پاکستان سنبھال سکے، دعا ہے کہ آنے والے ہمیں اچھی سوچ سے یاد کریں۔
اِن کا یہ بھی کہنا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، اس کے ایک انچ پر بھی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا، شہید بھٹو نے علاقائی خطرات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا، حکمرانی کے لیے لچک اور سیاسی بلوغت ضروری ہے، سیاسی تعاون انتہا پسندانہ رجحانات کو روکنے میں مدد دیتا ہے۔