بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ بشریٰ بی بی کی بھابھی اور بیٹی نے آج ملاقات کی اور بتایا کہ بانی کی آنکھ ٹھیک نہیں ہے۔
بنی گالہ میں علیمہ خان نے دونوں بہنوں کے ہمراہ پریس کانفرنس کی اور کہا کہ آج اڈیالہ اس امید سے گئے کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق جان سکیں، چکری کے قریب ہمیں روک لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ سلمان صفدر نے سپریم کورٹ میں ہمیں انتہائی تشویشناک خبریں بتائیں، انہیں بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ 2 ہفتے تک انہیں نظر نہیں آرہا تھا اور وہ یہ بات کہتے رہے۔
علیمہ خان نے میڈیا کو بتایا کہ بانی نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم اور ڈاکٹر فیصل کو ان تک رسائی دی جائے، میرا بلڈ ٹیسٹ کروایا جائے اور رپورٹ سامنے لائی جائے۔
اُن کا کہنا تھا کہ بانی کہہ رہے ہیں بہنیں میری صحت کے حوالے سے آواز اٹھائیں، بانی کو کہاں کہاں سے مانیٹر کیا جا رہا ہے، اتنے زیادہ کیمرے نصب ہیں۔
علیمہ خان نے مزید بتایا کہ بانی پی ٹی آئی نے سلمان اکرم راجہ کو کہا کہ حکام کے خلاف ایف آئی آر کروائیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہمیں کہا گیا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو شفاء انٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد منتقل کررہے ہیں اور کہہ دیا گیا کہ جس ڈاکٹر کا آپ نام دے رہے ہیں وہ قبول نہیں۔
علیمہ خان نے کہا کہ ہم نے تعاون کرتے ہوئے 2 مزید ڈاکٹر کے نام دے دیے، جیل انتظامیہ نے کہا قاسم زمان کو بھیج دیں ہم نے کہا وہ ڈاکٹر نہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ جب اہلخانہ کے ڈاکٹر قبول نہیں تھے تو ہم نے ڈاکٹر برکی کا نام دیا، ہم نے واضح کیا کہ ایک ڈاکٹر اور اہل خانہ کو ملنے دیا جائے، لیکن انکار کردیا گیا اور کہا گیا کہ ڈاکٹر کا نام بھی قبول نہیں۔
عظمیٰ خان نے میڈیا کو بتایا کہ ہمیں کسی سرکاری یا کسی ادارے کے ڈاکٹر پر اعتبار نہیں، یہ جو رپورٹ ہے میں نے پہلے کہا تھا یہ رپورٹ آئے گی۔
انہوں نے کہا کہ دوپہر کو مجھے ایک پی ٹی آئی رہنما کی کال آئی کہا کہ آپ کہیں تو قاسم زمان کو بھیج دیں، وہ بانی چیئرمین سے باتیں کریں گے۔
عظمیٰ خان نے کہا کہ ہم نے کہا کہ ہم کسی پر اعتماد نہیں کرتے کسی ڈاکٹر کو بھیجا جائے،جو رپورٹ آئی وہ مذاق ہے، اس میں ٹریٹمنٹ پلان نہیں لکھا گیا تھا۔