وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بھارت نے پاکستان کے خلاف پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے۔
ویانا میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پائیدار ترقی ہی واحد راستہ ہے جو عالمی امن کی ضمانت دے سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کو آج جغرافیائی کشیدگی اور موسمیاتی دباؤ جیسے بڑے چیلنج درپیش ہیں، ہمسایہ ملک کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جاری ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا مزیدکہنا تھا کہ پاکستان کا ہمسایہ دریائے سندھ کے پانی کی تقسیم کے نظام کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی دھمکی دے رہا تھا، جو پاکستان کے 24 کروڑ لوگوں کی زندگیوں اور روزگار کی ضمانت ہے۔
شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ پاکستان عالمی کاربن اخراج میں 1 فیصد سے بھی کم کا ذمے دار ہے، 2022 کے سیلاب کی تباہ کاریاں اور نقصانات آج بھی ذہنوں میں تازہ ہیں۔
دوسری طرف نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں پر سختی سے کاربند ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ عالمی امن اور ترقی ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں، پائیدار ترقیاتی اہداف غربت اور عدم مساوات کے خاتمے کا بہترین فریم ورک ہیں۔
اس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف آسٹریا کا سرکاری دورہ مکمل کرکے لندن پہنچ گئے، جہاں وہ 2 روزہ قیام کے بعد امریکا روانہ ہوں گے۔