قومی اسمبلی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے شازیہ مری کی جانب سے پیش کیا گیا قانون شہادت بل بحث کے بعد منظور کرلیا۔
اجلاس کے دوران ڈرافٹمین وزارت قانون نے بتایا کہ ترمیمی بل آرٹیکل 59، 61 اور 84 میں معمولی ترمیم کر کے پیش کیا ہے۔
اس موقع پر رکن کمیٹی سید حفیظ الرحمان کا کہنا تھا کہ فارنزک کے لیے ایکسپرٹ کی تعریف واضح ہونی چاہیے، ہر کوئی کھڑا ہو کر کہہ دیتا ہے کہ وہ فارنزک ایکسپرٹ ہے۔
اس پر نمائندہ وزارت قانون و انصاف کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 59 میں ایکسپرٹ کی تعریف واضح کی گئی ہے۔ فارنزک میں ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ کو ہم نے لازمی قرار دیا تو مسائل جنم لیں گے۔
نمائندہ وزارت قانون نے کہا کہ عدالت کو جب فارنزک ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ کی ضرورت پڑتی ہے تو وہ آرڈر کردیتی ہے۔
سیکریٹری وزارت قانون و انصاف کا کہنا تھا کہ ہم نے ہینڈ رائٹنگ ایکسپرٹ لازمی قرار دیا تو آرٹیکل 59 کو مکمل طور پر تبدیل کرنا پڑے گا۔
اس پر رکن کمیٹی شازیہ مری نے کہا کہ ہر کیس میں تو یہ چیز سامنے نہیں آتی جس پر نمائندہ وزارت قانون و انصاف نے کہا کہ ہم اس پر 200 سالوں سے کام کر رہے ہیں۔
کمیٹی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم جو 200 سال سے کر رہے ہیں ضروری نہیں ہے کہ وہ ٹھیک ہو۔
کمیٹی چیئرمین کا کہنا تھا کہ میں چاہوں گا کہ اس معاملے کا حل تلاش کرنا چاہیے۔