غالباً 1995ء کی بات ہے۔ میں ایک نمایاں اردو اخبار کے ہفت روزہ میگزین کیلئے بطور فیچر رائٹر کام کر رہا تھا۔ ایڈیٹر صاحب مجھے مختلف موضوعات فائنل کرکے دیئے جاتے جن پر میں نے تحقیق کرنی ہوتی، تصاویر بنانی ہوتیں اور رائٹ اپ تحریر کرنا ہوتا۔ اسی سلسلے میں ایک دن مجھے لاہور کے مشہور قبرستان میانی صاحب پر فیچرتیار کرنے کیلئے کہا گیا۔ میں کیمرہ سنبھالے وہاں پہنچ گیا۔ گورکن سے گفتگو ہوئی، وہاں موجود نشئیوں سے باتیں ہوئیں۔ بیشمار معروف لوگوں کی قبروں کی تصاویر بنائیں۔ قبرستان کمیٹی سے بات ہوئی۔ اسی دوران قبرستان میں گھومتے ہوئے مجھے ایک قبر نظر آئی جو زمین میں دھنس چکی تھی، کتبہ ٹوٹ چکا تھا اوربدترین حالت تھی۔ یہ کوئی نئی بات نہیں تھی کیونکہ کئی قبروں کی یہی حالت تھی۔ میں نے بلاارادہ ایک قبر کے ٹوٹے ہوئے کتبے کو سیدھا کیا تو جس نام پر میری نظر پڑی اس نے مجھے چونکا دیا۔ میں جس اخبار کیلئے فیچر تیار کر رہا تھا یہ اُس کے بانی کی قبرتھی۔میں نے فوراً قبر کی تصویر کھینچی اورفیچر میں قبرستان کمیٹی کو ہدف تنقید بنایا کہ وہ قبروں کی دیکھ بھال ٹھیک سے نہیں کر رہی۔ یہ تصویر اخبار کے دفتر پہنچی تو ایک ہڑبونگ سی مچ گئی۔ جس بانی کی برسی کے موقع پراخبارکے بڑے بڑے صفحات شائع کئے جاتے تھے اسکی قبر کی یہ حالت۔ نتیجہ یہ نکلا کہ فیچر تو شائع ہوگیا لیکن یہ تصویر اور اس سے متعلق مواد کاٹ دیا گیا۔ بتایا گیا کہ ادارے نے تصویر روک لی ہے۔ کچھ دنوں بعد میرا دوبارہ قبرستان کا چکر لگا تو دیکھاکہ وہی قبر بہترین حالت میں موجود تھی اور نیا کتبہ لگا ہوا تھا۔ گورکن نے بتایا کہ دو روز قبل دوبارہ درست ہونے سے پہلے اس قبر پر کوئی نہیں آیا تھا۔
٭ ٭ ٭
تازہ ترین خبرکے مطابق بھارت میں ایک یوٹیوبر نے سبسکرائبر نہ ملنے سے دلبرداشتہ ہوکر اپنے دس لاکھ کے سٹوڈیومیں خود کو اور اہلخانہ کو بند کرکے آگ لگا دی۔ پڑوسیوں کے شور پر زندگیاں تو بچا لی گئیں لیکن معاملہ یہ سامنے آیا کہ یوٹیوبر نے یوٹیوب پراپناچینل بنایا اور اسٹوڈیو کو جدید ترین بنانے کیلئے اپنی آبائی زمین بیچ کر بہترین سامان خریدا لیکن جب کئی مہینوں تک بھی اسے چینل مونٹائزیشن کیلئے مطلوبہ واچ ٹائم اور سبسکرائبر نہ مل سکے تو اس نے یہ انتہائی قدم اٹھالیا۔ یہ سوچ کئی یوٹیوبرز کے ذہن میں ہوتی ہے کہ وہ جدید سامان اور جدید سٹوڈیو بنائینگے تو لوگ بہت جلد انکے چینل کی طرف متوجہ ہو جائینگے جبکہ سوشل میڈیا کونٹینٹ کو دیکھتا ہے۔ اگر کونٹینٹ دلچسپ اور معلوماتی ہو تو ایک سادہ سے موبائل سے بنی وڈیو بھی ملین ویوز لے جاتی ہے۔ زیادہ تر لوگ کونٹینٹ سے بے بہرہ ہوتے ہیں لہٰذا وڈیو کی خوبصورتی پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔
یہی چیز تباہی کا باعث بنتی ہے۔ کونٹینٹ سب سے اہم چیز ہوتی ہے۔ ہر انسان کے پاس ایسی معلومات یا ایسا ہنر ضرور ہوتا ہے جسے وہ اگر تھوڑے سے بہتر طریقے سے یوٹیوب پر پیش کرے تو لوگ اسکی طرف آسانی سے متوجہ ہوسکتےہیںلیکن اس کا فیصلہ اُس نے خود کرنا ہوتا ہے، جو اکثر اوقات نئے یوٹیوبر سے نہیں ہو پاتا۔ وہ روٹین کے موضوعات منتخب کرتے ہیں یا ٹرینڈنگ وڈیوز کوہی فالو کرنے لگتے ہیں۔ دنیا کے ہر موضوع پر تو وڈیوز موجود ہیں لہٰذا بڑا مسئلہ بن جاتاہے کہ نیا کونٹینٹ کیسے تلاش کیا جائے۔ یہیں سے یوٹیوبر کی محنت کا آغاز ہوتاہے۔ کونٹینٹ کے لیے نیا ہونا اتنا ضروری نہیں جتنا دلچسپ ہونا ضروری ہوتا ہے۔ ایک ہی موضوع پر ہزاروں وڈیوز مل جاتی ہیں اور سب کو ویوز بھی ملے ہوتے ہیں۔ چنانچہ پہلے کونٹینٹ، پھر وڈیو، پھر صبر اور پھر پھل کی امید رکھنی چاہئے۔ ویسے کوئی بعیدنہیں کہ نوجوان نے اپنے اسٹوڈیو کو آگ بھی اسی لیے لگائی ہو کہ شاید اس عمل سے اسے ویوز مل جائیں۔ ملنے تو چاہئیں۔
٭ ٭ ٭
پاکستان کی لگ بھگ تمام یونیورسٹیز میں ماس کمیونیکیشن کے شعبہ جات قائم ہیں۔ یہاں فلم اور ٹی وی سے لیکر جرنلزم کی مختلف اقسام پڑھائی جاتی ہیں۔ مجھے اکثر کہیں نہ کہیں میڈیا اسٹیڈیز کے اسٹوڈنٹس سے بات کرنیکا موقع ملتا رہتا ہے اور حیرت کی ایک نئی دنیا آشکار ہوتی رہتی ہے۔ نئے بچوں کی اکثریت ڈائریکٹر بننا چاہتی ہے اور ان کے ذہن میں یہی ہے کہ ڈائریکٹر سب سے بڑا ہوتا ہے۔ ان بچوں کی اکثریت لٹریچرنہیں پڑھتی، کتابوں سے دور ہے اور انہوں نے اپنے ذہن میں ڈائریکٹر کا تصور یہ بنایا ہوا ہے کہ وہ بس سب کو ہدایات دیتا ہے۔ ہمارے ہاں میڈیامیں زیادہ تر ڈائریکٹر ہوتے بھی ایسے ہیں جن کو خود لٹریچر سے کوئی شغف نہیں ہوتا۔ لیکن وہ بھی ہیں جو صحیح معنوں میں ڈائریکٹر کہلوانے کے مستحق ہیں۔
انہی میں سے ایک ہی کاشف نثار۔ بہت سے ڈرامے انکے کریڈٹ پر ہیں لیکن حال ہی میں انکا سپرہٹ ڈرامہ ’ایک اور پاکیزہ‘ جیوٹی وی پر بھرپور کامیابیاں سمیٹ رہا ہے۔ کاشف نثار نہایت زیرک،کتابیں پڑھنے والے اور جملوں کی باریکیوں سے آشنا ہیں۔میوزک کابھی اچھا علم رکھتے ہیں اور بات سمجھنے اور سمجھانے کی قدرت بھی۔ ان سے اکثر بھرپور ملاقاتیں رہتی ہیں اور میں میڈیامیں آنیوالے نئے بچوں کو بھی انکے بارے میں بتاتا رہتاہوں کہ ان سے ضرور کچھ نہ کچھ سیکھیں۔ کاشف نثار کہانی کو سکرین پر پیش کرنیکا ہنر جانتے ہیں اور یہ بھی کہ نئے موضوعات کو ٹریٹ کس طرح کرنا ہے۔آپ ’ایک اور پاکیزہ‘ دیکھیں گے تو آپ کو احساس ہوگا کہ انہوں نے کس حساس موضوع کو ڈرامے کی شکل میں پیش کیا ہے۔ یہ اُن ڈائریکٹرزمیں سے ہیں جو نہ صرف ڈرامے کوحقیقی رنگ میں پیش کرتے ہیں بلکہ دیکھنے والوں کی ذہنی صلاحیت کو بڑھانے کیلئے بھی کوشاں ہیں۔ پڑھے لکھے، ادب وثقافت سے آشنا لوگ ہی اس انڈسٹری کا مان ہیں اورانہی جیسے ڈائریکٹرز کی بدولت پاکستانی ڈرامہ پوری دنیا میں ذوق و شوق سے دیکھا جاتاہے۔ فلم کے میدان میں ہمارے ہاںپڑھے لکھے ڈائریکٹرزتو آرہے ہیں لیکن وہاں بھی موضوعات کا تنوع مسئلہ بنا ہوا ہے۔فلم انڈسٹری کوبچاناہے تو ایسے ڈائریکٹرز کو آگے آنا ہوگا جو سکرپٹ، میوزک، احساسات، ڈائیلاگ ڈلیوری اور پیشکش کا انداز جانتے ہوں۔