• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کیا میرٹ کے خلاف پولیس کمانڈ کی تقرریوں سے پولیس کی اصلاح ممکن ہے؟

وزیر اعلیٰ پنجاب نے بھی پولیس کو قانون کے دھارے میں لانے کی "خواہش" کے تحت "پولیس اصلاحات" کا اعلان کرتے ہوئے یہ مشکل ٹاسک تین ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس سنگین عوامی مسئلہ کے حل کے حوالے سے وزیر اعلیٰ کی نیت یا سنجیدگی پر شبہ تو نہیں کیا جاسکتا لیکن یہ سوچ ضرور دامن گیر ہوتی ہے پولیس کی اصلاح صرف تین ماہ میں نہیں بلکہ 30سالوں میں بھی ممکن نہیں کیونکہ صدیوں سے لگنے والے اس لا علاج مرض کی وجہ سے پورا معاشرہ کینسر جیسے کئی سنگین امراض کا شکار ہو چکا ہے جس کا علاج صرف “تھانہ کلچر” مکمل خاتمے سے ہی ہو سکتا لیکن کوئی حکومت، اپوزیشن، وڈیرہ یا انڈر ورلڈ مافیا اس کلچر کو ختم کرنے کے لئے تیار نہیں لیکن ہر حکومت اصل حقیقت سے کاعلم ہوئے بغیر “پولیس اصلاحات” کے نام پر پولیس کو “راہ راست” پر لانے کی خواہش کی بنیاد پر اور کامیاب نہیں ہو پاتی۔ان حالات میں "پولیس اصلاحات" اور "تھانہ کلچر"کی تشریح لازم ہے۔ پولیس اصلاحات کی تشریح تو وہی ہے جو وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے الفاظ میں کی ہے لیکن اسے پولیس کے حوالے سے عوامی شکایات کی تدارک یا پولیس کو عوام کے ساتھ روا رکھے جانے والے توہین آمیز رویے کی درستگی کی خواہش تو کہا جاسکتا ہے لیکن "تھانہ کلچر" کے خاتمے کی کوشش نہیں۔ "تھانہ کلچر" وردی کے غلط اور غیر قانونی استعمال کی آسان تشریح ہو سکتی کہ طاقت کے غیر قانونی استعمال سے بے آواز، بے گناہ اور مجبوریوں میں زندہ رہنے والوں کی زندگیوں میں جس طرح زہر گھولا جاتا ہے اسے بیان کرنے کے لیے بڑے دل جگرے کا کام ہے- میرٹ کو تار تار کر کے مقتدر شخصیات کی آنکھوں کا تارا ببنے کوشش کرنے والے ہجوم کو "تھانہ کلچر" کی بنیاد کہا جا سکتا ہے- پولیسنگ کے نظام میں میرٹ پر یقین رکھنے کا دعویٰ کرنے والوں میں کوئی ایسی مثال پیش کر سکتا ہے جس سے ان کے اس دعویٰ کو تقویت مل سکتی ہو کیونکہ ہر حکومت، ہر سیاستدان اور ہر وڈیرے کو اپنے غیر قانونی اقدامات کے تحفظ اور اپنے سیاسی یا ذاتی مخالفین کو ٹھکانے لگانے کے لئے پولیس آفیسر کی نہیں بلکہ ذاتی غلام کی ضرورت ہوتی ہے -

کوئی ایک پولیس آفیسر جس نے پولیس کے شعبہ میں بڑے کارنامے سر انجام دئیے ہوں لیکن وہ حکمرانوں کی بجائے ریاست کی اطاعت پر ایمان رکھتا ہو، کبھی حزب اقتدار یا حزب مخالف طاقتوں کے علاوہ وڈیروں یا انڈر ورلڈ گیمز کے لئے قابل قبول نہیں ہو سکتا۔میرٹ کا احترام نہ ہونے کی وجہ سے پولیس پلیٹیسائیز ہو چکی ہے، کم و پیش ہر پولیس آفیسر کے ماتھے پر کسی نہ کسی سیاسی پارٹی کا ٹیگ لگا دکھائی دیتا ہے۔ نظام بدلنے کی طاقت اور اختیار رکھنے والے "پولیس اصلاحات" اور "تھانہ کلچر " کی حقیقت سے آگاہ ہو کر ہی تھانہ کلچر کے خاتمے کی ضرورت کی شدت کو محسوس کر سکتے ہیں۔ سرکاری طاقت کا غلط استعمال کرنے والے پولیس آفیسر بے پناہ اختیارات کے علاوہ سرکار، وڈیروں، جاگیرداروں کی پشت پناہی اور ان کی طاقت کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے وردی کی حرمت پامال کرتے ہیں اور رشوت اور دنیاوی مراعات کے لئے اخلاقیات اور ضمیر فروشی کو ہر اعتبار سے جائز تصور کرتے ہیں۔ تھانہ کلچر غریب، کمزور اور بے سہارا طبقہ کو ناجائز طاقت سے دبا کر حکومت کے لئے نفرت کا سبب بنتے ہیں۔لیکن ہر حکومت میرٹ کے نظریہ کو مسترد کر کے پولیس کی کمانڈ کے لئے ایسے افیسر کا انتخاب کرتی ہے جو ریاست کی بجائے حکومت کی غلامی پر یقین رکھتا ہو اور حکومت اور حکومتی پارٹی کے مفادات کا تحفظ "پوری ایمانداری" سے کرتا ہو۔کسی بھی دور میں کوئی ایسا آفیسر کسی اہم منصب پر تعینات نہیں ہو سکتا جو ریاست کے حکم کو اہمیت دیتا ہو اور حکومت کی غلامی سے انکار کرتا ہو۔پاکستان کی پولیس کو دئیے گئے اندھے اختیارات کے نتیجے ملک میں تھانہ کلچر کا مضبوط نظام قائم ہوا جو وقت کے ساتھ مقتدر اور غیر مقدر سیاستدانوں کے علاوہ طاقتور وڈیرہ اور زمینداروں کی پشت پناہی میں معاشرے میں اپنی جڑیں پکڑتا گیا لیکن اس طاقتور نظام کو ختم یا قانون کے دائرے میں لانے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی ۔یہ کہنا بھی غلط نہیں کہ پولیس کے اندر بڑی تعداد ایسے افسران و اہلکاروں کی بھی ہے جو دیانت داری اور قانون کے دائرے میں رہ کر فرائض انجام دیتے ہیں، تاہم نظامی کمزوریوں کے باعث چند واقعات پورے ادارے کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں۔ انسانی حقوق کے تحفظ اور انصاف کی فراہمی کے لیے ضروری ہے کہ قانون کی عملداری سب پر یکساں ہو اور اختیارات کے استعمال پر مؤثر نگرانی یقینی بنائی جائے اور اہم عہدوں پر تورریوں کے لئے میرٹ کو اہمیت دی جائے۔

تازہ ترین