سمندر کے کنارے ایک باریک سی پٹی ہے جسے دنیا غزہ کے نام سے جانتی ہے۔ کبھی یہاں لہروں کی آواز شام کے وقت کسی پرکشش قدیم لوری کی طرح سنائی دیتی تھی۔بچے ریت پر اپنے ننھے قدموں سے ایسے نقش بناتے تھے جیسے وقت کی پیشانی پر کوئی معصوم دعا لکھ رہے ہوں۔وہی ساحل بارود کی بو میں لپٹا ہوا ہے۔ افق پر اڑتی ہوئی گرد اس طرح معلق ہے جیسے کسی عظیم سانحے کی راکھ ابھی تک فضا میں تحلیل نہ ہو سکی ہو۔شہر کی گلیاں جو کبھی بازاروں کی چہکار اور دستکاروں کی صداؤں سے آباد تھیں ،اب ٹوٹے ہوئے دروازوں اور بکھرے ہوئے شیشوں کی خاموشی اوڑھے کھڑی ہیں۔ مکانوں کی دیواریں محض اینٹوں اور پتھروں کا انبار نہیں ہوتیں وہ نسلوں کی یادداشت کا حوالہ بھی ہوتی ہیں۔ یہ دیواریں گرتی ہیں تو ان کے ساتھ بزرگوں کی کہانیاں، ماؤں کی دعائیں اور بچوں کے خواب بھی زمیںبوس ہو جاتے ہیں۔اسرائیل اور فلسطین کے مابین یہ کشمکش تاریخ کے اوراق میں کئی دہائیوں سے ثبت ہے۔ تقسیمِ زمین کے فیصلے، ہجرتوں کی اذیت، شناخت کے سوالات اور اقتدار کی کشاکش۔سب عوامل مل کر ایک ایسی گرہ بن چکے ہیں جسے کھولنے کیلئے محض عسکری قوت کافی نہیں۔ اس وقت جو منظرنامہ ابھرا ہے، اس میں طاقت کی گھن گرج انسانی فریاد کو دبا دینے کی کوشش کرتی محسوس ہوتی ہے۔صبح کے دھندلکے میں جب کوئی ماں اپنے بچے کو سینے سے لگا کر دروازے کی چوکھٹ پر بیٹھی ہوتی ہے تو اس کی آنکھوں میں وہی سوال تیرتا ہے جو صدیوں پہلے جنگ زدہ بستیوں کی عورتوں کی آنکھوں میں نظرآتاتھا: آخر ہمارے نصیب میں یہ آزمائش کیوں لکھی گئی؟ ان دنوں ایک نہایت ہولناک دعویٰ بھی عالمی منظرنامے پر گردش کر رہا ہے کہ مبینہ طورپرامریکہ کی سرپرستی یا معاونت سے ایسے مہلک ہتھیار استعمال کیے گئے جن میں کیمیائی نوعیت کے اجزا شامل تھے اورانکے اثر سے انسانی جسم اس طرح منتشر ہوئے کہ شناخت تک دشوار ہو گئی۔ بعض رپورٹس میں تین ہزار سے زائد فلسطینیوں کی شہادت کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ یہ الزامات اگر سچائی پر مبنی ہوں تو یہ صرف ایک جنگی کارروائی نہیں بلکہ انسانی شرف کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔ کیمیائی ہتھیاروں کا تصور ہی مہذب دنیا کیلئے باعثِ نفرت رہا ہے۔انھیں ممنوع قرار دینےکیلئے عالمی معاہدے وجود میں آئے، اقوام نے عہد کیا کہ انسان کی تخلیق کو یوں مسخ نہیں کیا جائے گا۔اگر واقعی ایسے ہتھیار استعمال ہوئے ہیں تو یہ عمل تاریخ کے سیاہ ترین ابواب میں درج ہوگا۔ انسانی جسم کو اس حد تک فنا کر دینا کہ شناخت کے آثار بھی باقی نہ رہیں، تہذیب کے چہرے پر ایک ایسی کالک اورایسا داغ ہے جسے محض سیاسی بیانات سے دھویا نہیں جا سکتا۔ اس امر کی آزاد اور شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں تاکہ حقیقت کی روشنی اندیشوں کے اندھیرے کو چیر سکے۔ الزام بے بنیاد ہے تو دنیا کو یقین دلایا جائے، اور اگر درست ہے تو ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔ خاموشی یا ابہام دونوں ہی صورتیں عالمی ضمیر پر بوجھ بن جائیں گی۔غزہ کی فضا میں اس وقت جو کرب تحلیل ہے وہ محض حال کا قصہ نہیں بلکہ مستقبل کی تمہید بھی ہے۔ بچے، جو ابھی حروفِ تہجی سیکھنے کی عمر میں تھے، دھماکوں کی آوازوں کو پہچاننےلگے ہیں۔ ان کے کھیل میں ٹینکوں اور پناہ گاہوں کے استعارے شامل ہو گئے ہیں۔ ماہرینِ نفسیات کہتے ہیں کہ مسلسل خوف انسان کے باطن میں ایک مستقل سایہ چھوڑ جاتا ہے۔ ایک ایسی نسل جو بچپن ہی سے تباہی کا مشاہدہ کرے اس کیلئے اعتماد اور امن کا تصورفقط کتابی سطر بن سکتا ہے۔عالمی برادری کی ذمہ داری اس مقام پر دو چند ہو جاتی ہے۔ بڑے دارالحکومتوں میں سفارتی بیانات جاری ہوتے ہیں، قراردادیں پیش کی جاتی ہیں، لیکن زمینی حقائق ان الفاظ سے بے نیاز اپنی سمت میں بڑھتے رہتے ہیں۔ بین الاقوامی قوانین واقعی مؤثر ہیں تو انہیں یہاں اپنی معنویت ثابت کرنا ہوگی۔ شہری آبادی کا تحفظ، طبی مراکز کی سلامتی اور بنیادی ضروریات کی فراہمی کسی بھی تنازع میں اولین ترجیح ہونی چاہیے۔اسرائیلی مظالم کےخلاف دنیا بھر میں عوامی سطح پر احتجاج ہو رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ گواہیاں فیصلہ ساز ایوانوں تک اسی شدت سے پہنچ رہی ہیں؟اگر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا شائبہ بھی موجود ہے تو عالمی سطح پر پوری دنیا کوبلا تردد اس کی مذمت کرنی چاہیے۔ یہ مسئلہ کسی ایک قوم یا خطے کا نہیں پوری انسانیت کا ہے۔ ایسے قبیح اورانسانیت سوز اقدامات پرپردہ ڈال دیا گیا تو کل کو یہ نظیر خدانخواستہ دوسرے میدانوں میں بھی دہرائی جا سکتی ہے۔حالات یقیناًاس بات کےمتقاضی ہیں کہ فوری جنگ بندی کے ساتھ ،ساتھ ایک غیر جانبدار بین الاقوامی کمیشن تشکیل دیا جائے جو اس تناظر میں تمام پہلوؤں کا جائزہ لے۔ اس سب کے بیچ یہ حقیقت بھی مسلمہ اور اپنی جگہ قائم ہے: طاقت کا غرور ہمیشہ عارضی ہوتا ہے جب کہ مظلوم کی فریاد تاریخ کے حافظے میں دیر تک محفوظ رہتی ہے۔ غزہ کے ملبے میں دبے ہوئے یہ مکانات نہیں عالمی ضمیر کی ساکھ بھی ہے۔ ہر گرتی ہوئی دیوار کے ساتھ یہ سوال بلند ہوتا ہے کہ کیا انسان کی حرمت واقعی آفاقی قدر ہے یا سیاسی مفادات کی تابع؟پائیدار امن کا راستہ عسکری برتری سے نہیں بلکہ انصاف، مکالمے اور باہمی احترام سے ہموار ہوتا ہے۔ جب تک بنیادی حقوق کی ضمانت اور باوقار زندگی کا یقین فراہم نہیں کیا جائے گا، تب تک یہ خطہ بے چینی کے حصار میں رہے گا۔