بھارت کی سیاست انگلینڈ کے ڈومیسٹک ٹورنامنٹ دی ہنڈریڈ کو بھی آلودہ کرنے لگی ہے اور اس میں پاکستانیوں کھلاڑیوں کے پک نہ کیے جانے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق دی ہنڈریڈ میں آئی پی ایل سے منسلک ٹیموں کا پاکستانی پلیئرز کو نہ پک کرنے کا خدشہ ہے۔
پاکستانی کرکٹرز کو صرف وہ ہی پک کرسکتے ہیں جن کی ملکیت میں آئی پی ایل فرنچائز حصہ دار نہ ہوں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ انگلش بورڈ کے ایک اہم افسر نے اس حوالے سے ایک پلیئر ایجنٹ کو آگاہ کردیا ہے اور بتایا ہے کہ آئی پی ایل ٹیموں کی ملکیت والی ٹیمیں پاکستانی پلیئرز سے دور رہ سکتی ہیں۔
علم میں رہے کہ انگلینڈ کے ڈومیسٹک ٹورنامنٹ دی ہنڈریڈ کی 8 ٹیموں میں سے 4 کی 49 فیصد ملکیت آئی پی ایل ٹیموں کے پاس ہے۔ مانچسٹر سپر جائنٹس، ایم آئی لندن، سن رائزر لیڈز اور سدرن بریو میں بھارتی سرمیہ کاری آچکی ہیں۔
ایک ایجنٹ نے شکوہ کیا کہ انڈین ملکیت میں کام کرنے والی ٹیموں کا پاکستانی پلیئرز کا نہ لینا ایک غیر اعلانیہ قانون بن چکا ہے۔
بی بی سی رپورٹ کے مطابق یہ ٹرینڈ جنوبی افریقہ کی ایس اے ٹی ٹوینٹی اور یو اے ای کی آئی ایل ٹی ٹوئنٹی میں بھی دیکھا گیا ہے۔
اس سال ہونیوالی دی ہنڈریڈ کا پلیئڑ آکشن 11 اور 12 مارچ کو منعقد ہوگا، پاکستان کے حارث رؤف سمیت متعدد کھلاڑی دی ہنڈریڈ کے آکشن میں شامل ہوں گے۔