قارئین! پاکستان میں امن و امان کا قیام ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ناگزیر ہے۔ معاشی اصلاحات، تعلیمی منصوبے اور انفراسٹرکچر کے منصوبے تب تک مؤثر نہیں ہو سکتے جب تک ملک میں دہشتگردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ نہ کیا جائے۔اس سلسلے میں وفاقی حکومت نے ملک بھر میں کالعدم تنظیموں کے خلاف گرینڈ آپریشن کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ ہفتے کے روز اسلام آباد میں وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت ملکی سلامتی کے پیش نظر اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں داعش کی پاکستان میں ممکنہ موجودگی کا خدشہ بھی زیر غور آیا۔ کالعدم تنظیموں کے سلیپر سیلز کے خلاف کارروائیوں کی حکمت عملی پر مشاورت جاری ہے۔اجلاس میں چاروں صوبوں کے آئی جی پولیس نے شرکت کی اور صوبوں میں امن و امان سے متعلق اجلاس کو بریفنگ دی۔ یہ امر واضح ہے کہ جب تک کالعدم تنظیمیں اور ان کے سہولت کار ملک میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں گے،حقیقی امن قائم نہیں ہو سکتا اور معاشرتی استحکام خطرے میں رہے گا۔ کسی بھی ریاست کی مضبوطی کا انحصار اس کے داخلی امن، قانون کی بالادستی اور عوام کے تحفظ پر ہوتا ہے اور جب یہ بنیادی عناصر متاثر ہوں تو ریاستی نظام کی کار کردگی بھی کمزور پڑ جاتی ہے۔ دہشتگردی کے صرف دفاعی اقدامات یا انکے حملوں کو روکنا کافی نہیں، بلکہ ضروری ہے کہ انکے تمام حامی،سلیپر سیلز اور معاونین کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے۔ اس ضمن میں کوئی رعایت یا سیاسی مفادات کی بنیاد پر استثنا قابل قبول نہیں ہونا چاہیے۔ دہشتگردی کے خطرے کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے لازمی ہے کہ آپریشن کے دوران نہ صرف کالعدم تنظیموں کے مرکزی ارکان کو نشانہ بنایا جائے بلکہ ان کے تمام مالی، سماجی اور سیاسی سہولت کاروں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے۔ کسی بھی کالعدم تنظیم کو ملک میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دینا نہ صرف قومی سلامتی کیلئے خطرہ ہے بلکہ معاشرتی ترقی اور شہری تحفظ کیلئے بھی نقصان دہ ہے۔ یہ حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ دہشتگردی صرف ایک سیکورٹی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی، معاشی اور نظریاتی چیلنج بھی ہے۔ جب تک شدت پسند سوچ کے فروغ کے اسباب کا سدباب نہیں کیا جائے گا،تب تک پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں ہو گا۔ اس لئے ضروری ہے کہ ریاستی اقدامات کے ساتھ ساتھ تعلیمی اصلاحات، سماجی شعور کی بیداری اور قومی بیانیے کے فروغ پر بھی توجہ دی جائے تا کہ نوجوان نسل کو انتہا پسندی کے اثرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔ تعلیمی اداروں، مذہبی مراکز اور سماجی تنظیموں کو بھی اس ضمن میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا۔ تا ہم یہ بھی لازمی ہے کہ یہ کارروائی صرف دہشتگردوں اور انتہا پسندوں تک محد و در کھی جائے۔ کسی طرح بھی اس کارروائی کو کوئی سیاسی رنگ دینے کی اجاز ت نہیں دی جانی چاہیے۔ اگر کارروائیوںمیں شفافیت اور انصاف کے اصولوں کو مد نظر رکھا جائے تو نہ صرف ریاستی اداروں کی ساکھ مضبوط ہوگی بلکہ عوام کا تعاون بھی حاصل ہو گا۔ ملک کے مستقبل کیلئے یہ فیصلہ ایک مثبت قدم ہے، کیونکہ بلا تعطل اور مؤثر کارروائی سے نہ صرف دہشتگردی کی جڑیں کاٹی جاسکتی ہیں بلکہ یہ عوام کو اعتماد بھی دلاتا ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کے تحفظ کیلئے سنجیدہ ہے۔ یہ بات بھی ذہن میں رکھنی ہوگی کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف کارروائی صرف وقتی یا جزوی اقدامات تک محدود نہیں ہو سکتی۔ یہ ایک مستقل اور مربوط حکمت عملی ہونی چاہیے جس میں نہ صرف مرکزی دہشتگرد عناصر بلکہ ان کے تمام سہولت کار، مالی معاونین اور مقامی حمایت یافتہ نیٹ ورک کو بھی شامل کیا جائے۔ اس طرح ملک میں دہشتگردی کیلئے محفوظ جگہ نہیں رہے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں کی بحالی، روزگار کے مواقع کی فراہمی اور عوامی فلاح کے منصوبوں پر بھی خصوصی توجہ دی جانی چاہیے تا کہ محرومی اور بے چینی کے عوامل کم ہوسکیں۔
دوسری جانب فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے ترجمان ڈاکٹر خالد قدومی نے کہا ہے کہ غزہ امن بورڈ کے خدوخال ابھی تک واضح نہیں، تاہم پاکستان کے کردار پر انہیں اطمینان ہے۔ ڈاکٹر خالد قدومی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب غزہ کی صورتحال بدستور تشویشناک ہے اور بین الاقوامی برادری اس مسئلے کا مستقل اور منصفانہ حل تلاش کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔ غزہ میںگزشتہ سوا2 سال سے زائد عرصے سے غاصب صہیونی سکیورٹی فورسز کے فضائی حملوں، زمینی آپریشنز اور سخت ناکہ بندی نے معصوم فلسطینیوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ دہشتگرد صہیونی ریاست کی سفاکانہ کارروائیوں سے رہائشی عمارتیں، اسپتال، اسکول اور پناہ گزین کیمپ بھی محفوظ نہیں رہے۔ غزہ میں بنیادی سہولیات جیسے پانی، بجلی اور ادویہ کی قلت نے انسانی بحران کو مزید سنگین کر دیا ہے۔اس سلسلے میں غاصب صہیونیوں کو اسلحہ اور گولہ بارود کے علاوہ سفارتی اعانت مہیا کر کے امریکا اور یورپ کے کچھ ممالک بدترین کردار ادا کر رہے ہیں۔ اس مسئلے کے حوالے سے پاکستان کا موقف تاریخی طور پر واضح اور دوٹوک رہا ہے۔ قیامِ پاکستان کے بعد سے اب تک ہر حکومت نے فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت کی ہے۔ پاکستان نے نہ صرف سفارتی سطح پر بلکہ اقوام متحدہ سمیت مختلف عالمی فورمز پر فلسطینی موقف کی تائید کی ہے۔ ڈاکٹر خالد قدومی کا یہ کہنا کہ پاکستان کے کردار سے وہ مطمئن ہیں، اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان خطے میں ایک بااعتماد آواز سمجھا جاتا ہے۔ اگر پاکستان اس فورم پر فعال کردار ادا کرتا ہے تو وہ نہ صرف انسانی بنیادوں پر امداد اور جنگ بندی کی حمایت کر سکتا ہے بلکہ ایک منصفانہ سیاسی حل کیلئے بھی سفارتی کوششیں تیز کر سکتا ہے۔