• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

غزہ امن بورڈ کا پہلا اجلاس امریکہ میں ہو گیا! بہت سے ملکوں نے اس خدشے کے باعث کہ یہ بورڈ اقوامِ متحدہ کے متبادل کے طور پر ہے اس میں شمولیت نہیں کی جبکہ رکنیت کے پہلے سال میں ایک ارب ڈالر کی فیس پر بھی بہت سوں کو اعتراض ہے۔ اجلاس میں صدر ٹرمپ نے غزہ امن بورڈ کو 10 ارب ڈالر دینے کا اعادہ کیا اور امن قائم رکھنے والی فوج کے کمانڈر امریکی جنرل جیسپر جیفرز کی تعیناتی کا بھی اعلان کیا۔ اس فوج کے لیے انڈونیشیا، مراکش، قازقستان،کسوو اور البانیہ 20,000 ہزار فوجی دیں گے جبکہ اُردن اور مصر غزہ کے لیے 12 ہزار پولیس کی تربیت کریں گے۔ علاوہ ازیں 9 ممالک نے7 ارب ڈالر بورڈ کو دینے کا اعلان کیا ہے جو اتفاقاً سب مسلمان ملک ہیں۔ بہرحال جب تک فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں نہیں آتا ایسی سطحی کوششیں بےکار ہیں۔ صدر ٹرمپ اقوامِ متحدہ کی کارکردگی پر ہمیشہ کڑی تنقید کرتے ہیں اسی لئے اقوامِ متحدہ کی 66 کمیٹیوں سے امریکہ مستعفی ہوگیا ہے۔ اب ٹرمپ نے اقوامِ متحدہ کو غزہ امن بورڈ کے زیرِ نگرانی رکھنے کا انوکھا خیال متعارف کرایا ہے جس کیلئے امریکہ نے اقوامِ متحدہ کو اپنے حصے کے 2 ارب ڈالر کی ادائیگی جان بوجھ کر لٹکا دی ہے۔ بظاہر ٹرمپ اقوامِ متحدہ کو پانچویں ٹائر کے طور پر صرف بوقتِ ضرورت استعمال کیا کریں گے اور غزہ امن بورڈ کا شاید مستقبل میں نام تبدیل کر کے اقوامِ متحدہ کے متبادل کے طور پر سامنے لائیں گے۔ صدر ٹرمپ امریکی 22ویں آئینی ترمیم کے تحت تیسری دفعہ صدر بننے کے لیے انتخاب نہیں لڑ سکتے لیکن انہوں نے ابھی سے 2028 کی انتحابی مہم شروع کر دی ہے جس کے لئے" ٹرمپ 2028" کی ٹوپیاں متعارف کرائی گئی ہیں۔ان کے بیٹے نے ایسی ٹوپی پہن کر تشہیر بھی کی ہے۔اب تو یہ اشارے بھی دیے جا رہے ہیں کہ آئینی ترمیم کے لیے مطلوبہ اکثریت نہ ہونے کے باوجود کسی قانونی سقم کے سہارے حل تلاش کر لیا گیا ہے۔ ٹرمپ اور ان کی ٹیم کے انداز سے بھی یہی لگتا ہے کہ وہ 2028 میں تیسری دفعہ صدر بننے کا ارادہ کر چکے ہیں۔ اُدھر غزہ میں 10 اکتوبر 2025 سے جنگ بندی کے بعد سے اسرائیل نے 603 فلسطینی شہید اور 1618 افراد زخمی کیے ہیں۔ اسرائیلی ہوائی حملے،سنائپر اور دیگر حملے صدر ٹرمپ کی کرائی گئی جنگ بندی کے باوجود روزانہ کی بنیاد پر جاری ہیں۔ تاہم اب تک 1620 اسرائیلی خلاف ورزیوں اور بنیادی اشیائے ضرورت کی غزہ تک رسائی نہ دینے کے باوجود اسرائیل کی کوئی سرزش نہیں ہوئی اور امریکہ ان خلاف ورزیوں کے باوجود جنگ بندی کو قائم تسلیم کرتا ہے ۔ اسرائیل اعلانیہ طور پر فلسطینی ریاست کے قیام کے خلاف ہے تاہم امریکہ تاحال اسرائیل کو بھاری تعداد میں اسلحہ فراہم کر رہاہے جبکہ غزہ کے مستقبل اور فلسطینی ریاست کے حوالے سے امریکی بیانات اب بھی ابہام سے بھرپور ہیں۔

اُدھر امن کے داعی، 8 جنگیں روکنے والے، خود کو امن کے نوبل انعام کے حقدار قرار دینے والے صدر ٹرمپ، ایران پر خوفناک جنگ مسلط کرنے کیلئے پر تول رہے ہیں۔ ان کے قول و فعل میں اس تضاد کو دنیا دیکھ اور جانچ رہی ہے لیکن امریکہ کی طاقت کے سامنے کسی کی مجال نہیں کہ کسک بھی سکے۔ دنیا کو ایک مبنی بر انصاف نظام اور قانون کے تحت چلانے کی دعویدار واحد سپر طاقت امریکہ کی اب سے پہلے اپنی من مانیوں اور زیادتیوں پر اصولوں و ضوابط اور جمہوری اقدار کا ایک باریک پردہ پڑا تھا۔ اسی لیے جمہوریت کا خواب دنیا کے بیشتر ممالک کے عوام کی آنکھوں میں بسا اور امید کی کرن بنا رہا۔ سابق امریکی صدر بائیڈن نے اس پردے کو برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کی لیکن اسرائیل کے معاملے میں وہ چوک جایا کرتے تھے ۔البتہ صدر ٹرمپ نے تو عنانِ حکومت سنبھالتے ہی اس گرتے نظام کی لٹیا ڈبو دی اور کھل کر اسرائیلی درندگی کا ساتھ دیا۔ ڈنکے کی چوٹ پر کمزور حکمرانوں کو بلیک میل کیا، دوسرے ممالک میں من پسند حکومتیں بنانے، رجیم چینج کرنے اور اپنے مقاصد حاصل کرنے کیلئے ہر قسم کے ہتھکنڈے آزمائے۔ انسانیت، انصاف اور عالمی نظام وغیرہ سب پسِ پشت ڈال دیے۔ اسرائیل کی فرمائش پر ایران پر جوہری افزودگی روکنے کیلئے دباؤ ڈالنے کے واسطے جون 2025 میں اسرائیلی ایماء پر کانگرس کی منظوری کے بغیر ایران پر حملہ کر دیا۔ جواباً ایران نے اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور اس کی 20 فیصد عمارتوں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔صیہونیوں کیلئے یہ حیران کن اور پریشان کن ردِ عمل تھا کہ اس سے پہلے وہ ہمیشہ کمزوروں، لاچاروں اور نہتوں پر حملہ آور ہو کر ناقابلِ تسخیر ہونے کے دعوے کیا کرتے تھے۔ اسرائیل میں اب مار کھانے اور نقصان برداشت کرنے کی سکت نہیں اسی لئے وہ امریکہ کو میدان میں کھینچ لایا ہے۔ امریکہ ایران کے شدید ردِ عمل کے پیشِ نظر حربی ساز و سامان سے لیس خطے میں جنگ کی بھر پور تیاری شروع کر چکا ہے۔ البتہ ایران نے دھمکی دی ہے کہ اگر اس پر حملہ ہوا تو وہ خطے میں امریکی مفادات کو نشانہ بنائے گا۔ایرانی قیادت تنگ آمد بجنگ آمد کی اُس ذہنی سطح پر پہنچ چکی ہے کہ وہ اب مارنے مرنے پر تیا ر ہے۔ وہ کسی بھی حد تک جا کر اپنے نظریات کا تحفظ کرے گی چاہے اسے خود یا دشمن کو خون میں ہی کیوں نہ نہلانا پڑے۔ ممکنہ جنگ سے قبل امریکہ نے ایران میں رجیم چینج کے لیے عوامی احتجاجات کروائے، ایرانی عوام پر کساد بازاری سے خوفناک مہنگائی کا عفریت چھوڑا، حکومت کے خلاف عوام کو مشتعل کیا لیکن کمال سمجھداری سے ایرانی حکومت نے سب معاملہ سنبھال لیا۔ پھر امریکہ نےجوہری افزودگی روکنے پر بات چیت کا آغاز کر کے، بیلسٹک میزائل پروگرام پر اعتراض اٹھا دیا۔اب ایرانی مزاکرات کی خواہش کو کمزوری سمجھتے ہوئے بات ولایت فقہی نظام تبدیل کرنے تک جا پہنچی ہے ۔


یہ جنگ ایران کی جوہری صلاحیت یا افزودگی کم کرنے کے لئے نہیں، نہ ایرانی بیلسٹک میزائل پروگرام کے خلاف ہے۔ یہ جنگ ایرانی حکومت کی تبدیلی پر بھی موقوف نہیں ہوگی۔ در حقیقت یہ ولایت فقہی نظام کے خلاف عالمی اور امریکی سازش ہے جو کسی ملک کو خود مختار ہونے کی اجازت نہیں دیتی۔ ایران دنیا کا واحد ملک ہے جو دوسرے ممالک کی نسبت خود مختار ہے۔ 47 سال کی عالمی پابندیوں اور سازشوں کے باوجود وہ اپنے نظریات اور نظام پر آ ج بھی قائم ہے اور کسی عالمی بینکنگ نظام یا سودی نظام کا حصہ نہیں ۔ ایران کو امریکہ یا اسرائیل سے جنگ جیتنے کی نہیں بلکہ دشمن کو جنگ میں بھاری نقصان پہنچانے کی ضرورت ہے۔یہ بزدل،موت کے خوف میں مبتلا، اندرونی طور پر کمزور ہیں۔بہت سے کمزور و مجبور ممالک ظاہراً نہیں لیکن دل میں امریکہ و اسرائیل کی ایران کے ہاتھوں شکست کے خواہاں ہیں تاکہ ناانصافی کا یہ نظام اپنے انجام کو پہنچے۔ جیسا کہ علامہ اقبالؒ نےفرمایا: اقوامِ مشرق کی جمیّت کا نقش ثبت کر اور ان شیاطین (اقوامِ مغرب) کے تسلّط سے اپنے آپ کو آزاد کرا لے۔

نقشے از جمعیت خاور فگن

واستاں خود را ز دستِ اہرمن

تازہ ترین