سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے پچھلے دنوں دیا گیا ایک حکم اس اعتبار سے خاص اہمیت کا حامل کہا جاسکتا ہے کہ اس میں درخواستوں میں طویل عرصے سے جاری ایسی اصطلاحات کی حوصلہ شکنی کی گئی جن سے سرکاری افسر اور عام قانون پسند شہری کے درمیان مساوات کا وہ تصور مجروح ہوتا ہے جس کا دستور پاکستان متقاضی ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل تین رکنی بنچ نے، سندھ میں عام طور پر استعمال ہونے والی’’ بخدمت جناب ’’ایس ایچ او‘‘جیسی اصطلاحات کا نوٹس لیتے ہوئے حکم دیا کہ ان کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہئے کیونکہ ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، سادہ طور پر ’’جناب‘‘ کالفظ استعمال کرنا کافی ہے۔ عدالت عظمیٰ کا کہنا تھا کہ اس قسم کی اصطلاحات اس نوآبادیاتی ذہنیت کی عکاسی کرتی ہیں جس میں ریاست کے عام شہری سرکاری حکام کے پاس حق کے طور پر نہیں بلکہ مہربانی کے طلب گار بن کرجاتے تھے۔ یہ تفصیلی فیصلہ ایک فوجداری مقدمے کے حوالے سے سامنے آیا جس میں عدالت عظمیٰ کے بنچ نے2جولائی2021 ء کو سندھ ہائی کورٹ حیدرآبادبنچ کے اس فیصلے کے خلاف اپیل کی سماعت کی جس میں درخواست گزار محمد بخش عرف شاہزیب کو اگست2017ء میں محمد عباس کے قتل کے جرم میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ302(بی) کے تحت عمرقید کی سزا برقرار رکھی گئی۔ جسٹس ہاشم خاں کاکڑ کی سربراہی میں قائم بنچ نے مذکورہ اپیل مسترد کردی تھی۔ دوران سماعت سپریم کورٹ نے پولیس کارروائیوں میں’’ بخدمت جناب ایس ایچ او‘‘ ،فریادی‘‘ اور ’’ مدعی‘‘ جیسے الفاظ کا نوٹس لیا اور حکم دیا کہ پولیس کے طریق کار کو آئین کے آرٹیکل A10,9,4اور14کے مطابق بنایا جائے۔ یہ بات واضح ہے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت کے فیصلے اور متعین کردہ رہنا اصول تمام ماتحت عدالتوں کے لئے فیصلہ سازی کے خطوط کی حیثیت رکھتے ہیں۔
فیصلے میں، جو جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا، عدالت نے قرار دیا کہ پولیس کی کارروائیوں میں فریادی یا مدعی کی اصطلاحات کا استعمال بندکیا جائے۔ ان کی بجائے قانونی طور پر درست اور موزوں متبادل استعمال کئے جائیں جیسے سندھی میں اطلاع دیہندار یاشکایت کندھار اور اردو میں اطلاع دہندہ کے الفاظ، تاکہ اطلاع فراہم کرنے والے شخص کی اصل قانونی حیثیت کی عکاسی ہو۔ فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی شہری کو فریادی کہنا قانونی طور پر غلط اور ناقابل قبول ہے کیونکہ یہ الفاظ شہری کوحق رکھنے والے فرد کی بجائے مہربانی کے طلب گار کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ عدالت کے بموجب ایسی اصطلاحات شہری کی عزت ووقار کو مجروح کرتی ہیں جسے آئین کے آرٹیکل14کے تحت ملحوظ رکھنا ضروری ہے ۔ ان اصطلاحات کا استعمال قانون کے تحت مساوی تحفظ کے تصور کو کمزور کرتا ہے۔عدالتی آبزرویشن نشاندہی کر رہی ہیں کہ پولیس افسران عوامی خدمت گار ہیں جنہیں آئینی اور قانونی فرائض سونپے گئے ہیں۔ وہ زندگی، آزادی اور فرد کے تحفظ کے پابند ہیں جو دستور پاکستان کے آرٹیکل9کے بنیادی اصول ہیں۔
30۔ جنوری2026ءکو سامنے آنے والا یہ فیصلہ عوامی حقوق اور پولیس سمیت سرکاری ملازمین کے لئے ایسی رہنمائی کا ذریعہ ہے جسے پیش نظر رکھ کر برصغیر جنوبی ایشیا میں برطانوی استعماریت کے طور طریقوں کا خاتمہ کرکے خود مختار مملکت کے باوقار تقاضوں کے مطابق ملکی نظام کو چلایا جاسکتا ہے۔ برطانوی راج کے دور میں عرائض نویسی کے جو سانچے بنائے گئے وہ کتابوں میں محفوظ تھے اور ان کے مطابق ہی پولیس سمیت مختلف محکموں میں درخواستیں دی جاتی تھیں۔ برطانوی استعمار نے غلام قوم کو ہر لمحے نفسیاتی طور پر یہ باور کرانے کا اہتمام کیا تھا کہ وہ آزاد اقوام کی طرح حقوق کے نہیں،سرکار برطانیہ اور اس کے قائم کردہ اداروں کی مہربانی کے طالب ہوسکتے ہیں۔ اس دور میں سرکاری ضروریات کی تکمیل کے لئے بنائے گئے کلرکوں یا بابوؤں کے نظام اور بعد ازاں اعلیٰ ملازمتوں کے لئے برطانوی افرادی طاقت کی کمی پوری کرنے کے لئے انڈین سول سروس میں جو مقامی لوگ منتخب کئے جاتے تھے، ان کی تربیت اور طور طریق میں یہ اہتمام ملحوظ رکھا جاتا تھا کہ وہ دفاتر میں ہی نہیں، گھریلو زندگی میں بھی غیر ملکی آقاؤں کے طور طریق پر کار بندنظر آئیں۔ان کے ہر انداز سے اس برتری کا اظہار ہو کہ وہ سرکار برطانیہ کے قائم کردہ نظام کا حصہ ہیں جبکہ غلام قوم کے دوسرے افراد آقاؤں کے تیار کردہ ’’خاص غلاموں کے‘‘ طبقے کی نسبت حقیر تر ہیں۔ برطانوی تسلط کے دور میں تشکیل دئیے گئے ادارے اور وضع کردہ قوانین دراصل نو آبادیاتی تقاضوں کے وہ سانچے تھےجن میں مقامی لوگوں کو فنکاری سے ڈھالا جارہا تھا۔ عرائض نویسی کواس باب میں خاص اہمیت حاصل تھی جس کے تحت پولیس ،عدالتوں اور دوسرے محکموں کے افسران کو لکھی گئی درخواستوں میں ایسے الفاظ کا بطور خاص اہتمام ہوتاتھا جن سے برطانوی استعمار کے کارندے کے طور پر ان کی بالا دستی اور عام شہری کی کم مائیگی کا احساس نمایاں ہو۔ اسی طرح متعلقہ اہلکاروں کی تربیت میں سخت کلامی سے لیکر رعیت کو محکومیت پر قانع رکھنے کے دیگر نفسیاتی ہتھکنڈے شامل تھے۔
اس باب میں یہ بات پیش نظر رہنی چاہئے کہ چونکہ کاغذ پر مسلسل لکھے اور گفتگو میں بار بار سامنے آنے والے الفاظ کسی نہ کسی انداز میں درخواست ہندہ اور وصول کنندہ دونوں کی نفسیاتی کیفیت کا حصہ بنتے چلے جاتے ہیں اس لئے برٹش انڈیا میں تعینات بعض انگریز افسران اپنے وطن واپس پہنچنے پر آزاد ملک میں ملازمت کے اہل نہیں سمجھے جاتے تھے۔ 1947ء میں برٹش انڈیا کے کئی ضروری مسائل نمٹائے بغیرانگریز حکام کو قبل از وقت یہاں سے بلالیا گیا تو جہاں کئی انتظامی پیچیدگیاں سامنے آئیں وہاں دفتری زبان کی اس کیفیت سے بھی تاحال پوری طرح پیچھا چھڑانا ممکن نہیں ہوا جو نوآبادیاتی دور کی عرائض نویسی کی کتابوں کا حصہ بنیں۔ حکمرانوں اور اعلیٰ حکام کو پیش کئے گئے سپاس ناموں میں بھی عرصے تک معلی القاب، عالی جناب،جیسے الفاظ کی گونج سنائی دیتی رہی۔ غیر ملکی استعمار کی رخصتی کے بعد بھی سول سروس اتنی طاقتور رہی کہ اس کی ہیئت قومی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے دعوے لیپا پوتی تک محدود رہے۔ اب وزیر اعظم شہباز شریف نے وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کی سرکردگی میں قائم سول سروس اصطلاحات کمیٹی کی جن سفارشات کی منظوری دی ہے، ان کی تفصیلات ایک نئی فعال، شائستہ، دیانتدار اور شفاف سول سروس کی صورت قلب ماہیت کے امکانات نمایاں کررہی ہیں جبکہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ کے فیصلے سے جو رہنمائی سامنے آئی اس کے حوالے سے صوبائی حکومتوں کی سطح پر ہی نہیں، ماتحت عدالتوں ،بار کونسلوں کی سطح پر ذہن سازی اورمعاونت سامنے آنی چاہئے۔ ہماری پویس سمیت تمام سرکاری ادارے ایسا قومی اثاثہ ہیں جس کی حفاظت کا اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں ہوسکتا کہ انہیں صحیح معنوں میں عوامی خدمت کے اداروں کا روپ دیا جائے۔