• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نئی کہانی، نیا فسانہ: پھولوں والی پہاڑی (پہلی قسط)

مدوّن و مرتب: عرفان جاوید

(مستنصر حسین تارڑ)

’’قدآور‘‘ کی ترکیب دورِ حاضر کے کسی اُردو ادیب پر جچتی ہے، تو وہ بلاشبہ مستنصر حسین تارڑ ہیں۔ بےپناہ تخلیقی صلاحیت، کمال مشاہدہ، تخیّل کی جولانی اور قادرالکلامی اس نادرِ روزگار ادیب کے امتیازات ہیں۔ یوں کہیے، سراسر ادیب، سراپا فن کار۔ گجرات سے تعلق، 1939ء، لاہور کی پیدایش، گورنمنٹ کالج لاہور میں تعلیم، والد کا زراعت سے متعلقہ کاروبار، اٹھارہ برس کی عُمر میں ماسکو کا دورہ، بیس برس کی عُمر میں ہفت روزہ ’’قندیل‘‘ میں سفری رُوداد کی اشاعت سےادبی زندگی کاآغاز، کئی ناولز، افسانوں، سفر ناموں، خاکوں، کالمز اور ڈراموں کے خالق، درختوں، جھرنوں، پہاڑوں، بیابانوں کے رسیا، شمالی علاقے، سندھ، وسطی و جنوبی پنجاب، پوٹھوہار، کشمیر اور پختون خوا کا تخلیقی بیان، یوں قریباً ہر خطّے، پورے پاکستان کے نمایندہ ادیب ٹھہرے۔ اور یہ کہنے میں بھی ہرگز کوئی عار نہیں کہ سحر طراز ادیب، سن رسیدگی میں بھی میدانِ تخلیق میں پُرشباب ہے۔

ایک جہاں گرد نے، جس کے پیروں میں بھنور بندھے تھے، اِک بار کہا تھا کہ ’’عام طور پر ماں، بیٹے کے دل سے زیادہ قریب ہوتی ہے، مگرجب بیٹا بوڑھا ہو جاتا ہے، تو اُسے اپنا باپ یاد، بلکہ بےطرح یاد آتا ہے۔‘‘ مستنصرحسین تارڑنے ’’پھولوں والی پہاڑی‘‘ میں اپنےوالد کے ایک سفر کی رُوداد فسانہ کی ہے۔ جس طرح والد نے چند بیجوں سے درّہ بانہال کی ایک پہاڑی کو گُل وگُل زار کیا تھا، ویسے ہی تارڑ نے اوراق پرحروف کے پھول بُوٹے کاڑھ دئیے ہیں۔ ایک خوش رنگ چمن، اِک مہکتا گلستان، ایک ہرا بھرا باغ آباد کردیا ہے۔

میرے باپ کو مٹّی سے عشق تھا۔ مٹّی میں سے جو کچھ بھی پُھوٹتا تھا، اُس کی کوکھ میں سے جو کچھ بھی جنم لیتا تھا، وہ اُس کا رازداں تھا۔ پتّے پتّے، بُوٹے بوٹے کا حال جانے تھا۔ وہ جب کسی گُل بوٹے کو، گندم کی بالیوں میں پوشیدہ ابھی کچے نرم، سبزمہک والے دانوں کو، پُھولتی سرسوں کے پھولوں، مالٹے کے کھٹّی خوشبو والے اور بادام کی گلابی دُھوم والے شگوفوں کو، مکّی کے بوٹے سے جُڑے دودھ پیتے بچّوں کی مانند جڑے بھٹّوں کے کچے دانوں کو، شرینہہ، کیکر اور دھریک کے زردی پرمائل نازک، ملوک مہکتے پھولوں کو، یہاں تک کہ کسی جوہڑ کی بوٹی میں کھلے کمیّوں کے پھولوں کو چُھوتا، سونگھتا تھا، تو وہ اُس سے اپنا حال بیان کرنے لگتے تھے، اُسے محرمِ راز کرلیتے تھے۔ وہ اگرکسی پژمُردہ بُوٹے یا مرجھائے پھول پر اپنی ہتھیلی کا سایہ ہی کردیتا، تو وہ بُوٹا سیراب ہو کےجیسے جی اُٹھتا، پھول کِھل کِھل جاتا۔ وہ مٹّی سے جنم لیتے پتّے پتّے، بُوٹے بُوٹے کے لیے کسی مسیحا کے مِثل تھا۔ 

پودوں، فصلوں، بُوٹوں، پھل، پھولوں کانبّاض، اُن کےدُکھ سمجھتا اور اُنھیں دور کرنے کی سعی بھی کرتا۔ ایسا تھا، میرا باپ۔ لوگ بہت دُور دُور سے، طویل مسافتیں طے کر کے آتے، اپنے خِطّوں کی مُٹھی بھرمٹّی ساتھ لاتے اور وہ اُس مٹّی کو اپنی مُٹھی میں بھرکرکچھ دیراپنی نیلی آنکھیں ایک سنیاسی کی مانند بند کر کے شانت، ماورا ہوجاتا، جیسے نروان کے سارے سوتے اُس کی مُٹھی میں بند مٹّی میں سے پُھوٹتے اُس کے شان دار سُرخ و سفید جُثّےمیں ایک روحانی آسودگی سے سرایت کرتے چلے جارہے ہوں۔ 

پھر آنکھوں کے ساتھ اپنی مٹّھی بھی کھول کراُسےاپنی ناک کے قریب کرتا اور تا دیر سونگھتا رہتا، جیسے یہ وہ مٹّی ہو، جس سے آدمؑ تخلیق کیے گئے۔ اس دوران اُس کے ہونٹوں پر ایک مسکراہٹ پھیلی رہتی اور پھر وہ طویل مسافت طے کرکے آنے والے شخص سے کہتا۔ تم نے اِس مٹّی کی قدر نہیں کی۔ تم کہتے ہو، یہ بنجر، ناکارہ ہے، اِس میں سے کچھ نہیں پُھوٹتا، دراصل تم نے اِسے نم سے آشنا ہی نہیں کیا، ورنہ یہ بہت قابل اور زرخیز ہے۔ اس میں فلاں فصل کے بیج بکھیردو، تو دیکھنا، فصل دیکھتے دیکھتے تم سے بڑھ کر قد نکالے گی اور تمھیں خوش حال کردے گی۔

فلاں پھل دار درختوں کے بُوٹے لگاؤ گے، تو اس مٹّی کی خصلت کےملاپ سےاُن کی شاخیں پھلوں کی کثرت سے دُہری ہوجائیں گی۔ شاید تمھیں فصلوں کی نسبت پھولوں سے شغف ہو تو اس مٹّی کی ناتوانی کو فلاں کھاد کی آمیزش سے توانا کرو اور پھر دیکھنا کہ موسمِ بہار کے ابتدائی ایّام میں اس پر رنگ وبو کے قافلے اتنی گھناوٹ سے اُتریں گےکہ مرغانِ چمن کے پاؤں گُل زاروں میں الجھ الجھ جائیں گے۔ اگر کوئی پرندہ اس الجھاوٹ سے آزاد ہو کر مائلِ پرواز ہو بھی جائے تو اُس کے پنجے گُلوں سے رنگ بھرے ہوں گے۔

کبھی کبھارایسا بھی ہوتا کہ اُس تک لائی ہوئی مٹّی، دُور دراز کے خطّوں سے لائی ہوئی مُٹھی بھرمٹّی واقعی بےکار ہوتی، اُس کی کوکھ میں نمود کی خیزی پُھوٹنے کا امکان نہ ہوتا، تو بھی وہ مٹّی کو دوش نہ دیتا۔ وہ اُسے بار بارسونگھتا اور پھر دوش مشورہ طلب شخص ہی کو دیتا۔ مجھےشک ہے، تم ایک خُودغرض، متکبّرشخص ہو۔ مٹّی زرخیز ہو تو بھی وہ خُود غرضی اور تکبّر کے مارِسیاہ سے ڈسی جاتی ہے اور ویران ہوجاتی ہے۔ 

تم نے دراصل اس مٹّی سے محبّت نہیں کی، دُور دراز کی اُن مقدس سرزمینوں سے جُڑے رہے، جنھوں نے کبھی تمھیں قبول نہ کیا، اُلٹا دھتکارا۔ تم ہر اُس مُلک کو جو خدا کامُلک ہے، اپنا مُلک سمجھتے رہے اورجو دراصل اپنا تھا،اُس سےغفلت برتی، اُسے محبّت کے قابل نہ سمجھا، تو مٹّی بھی، اگر تم اُس کی قدر نہیں کرتے،تمھیں دھتکار دیتی ہے، اوربنجر، ناکارہ ہوجاتی ہے۔ اس میں کوئی فصل بارآور نہیں ہوتی، کوئی پھول نہیں کِھلتا، بُوٹا اُگتے ہی مرجھا جاتا ہے۔ ہاں، جس روز تم غیر مشروط طور پر اس مٹّی کواپنا کر، اِس کی محبّت میں ڈوبے،اُس روز سے، بےشک اس میں پرانے اور مُردہ بیج بکھیر دینا، اِسی مٹّی سےایسے ایسے گل بُوٹے پھوٹیں گے، جن کا تم تصوّر بھی نہیں کرسکتے۔ 

مٹّی تمھاری محبّت کا جواب دے گی۔ اگر مٹّی سفارش کرسکتی، اُس میں سے پُھوٹتے کُل پودے، درخت، گُل بوٹے گواہی دے سکتے تو اُن کی سفارش اور گواہی رنگ لاتی۔ میرے باپ پر تو جیسے کوئی صحیفہ نازل ہوتا، اُس کے ساتھ کوئی کرامت تھی۔ کسی نیم مُردہ بُوٹے پر اپنی ہتھیلی کا سایہ کردینے سے اُس کا جی اُٹھنا، بنجر مٹی پر اپنی نیلی آنکھیں رکھ دینے سے اُس کا زرخیزی سےبوجھل ہوجانا بھلا اور کیا تھا۔

میرے باپ نے رزق کےلیےبھی مٹّی ہی سے رجوع کیا۔ اُس نے بیجوں کا کاروبار اختیار کیا۔ شام ڈھلے وہ گھر لوٹتا، توتھکا ماندہ یا پژمُردہ نہیں، اُسی طور تروتازہ اور کِھلا ہوتا، جیسا وہ اُس سویر گھرسے نکلا تھا کہ کاروبار جو مٹّی سے محبت کا تھا،جو کبھی مُرجھانے نہیں دیتی۔ ظاہری لباس کے معاملے میں وہ ایک پکا ’’صاحب‘‘ تھا۔ دہلیز پار کرتے ہی اپنا ہیٹ اتار کر میری ماں کے حوالے کرتا، جو اُسے احتیاط سے ایک گتّے کے چوکور ڈبّے میں محفوظ کر لیتی۔ 

اسکاٹش اُون سے بُنا ہوا گرم سُوٹ اپنے تن سے جدا کر کے اُسے ہینگر پر ایسے لٹکاتا کہ پتلون کی کریز نہ ٹوٹے، چینی ہاپسن کے آکسفورڈ شوز کے تسمے کھولتا اور پھر اس ظاہری لباس سےگلوخلاصی کرکے باطن کا پہناوا اوڑھ لیتا۔ کھدّر کے کُرتے، لٹّھے کے کلف لگے تہہ بند میں ملبوس ہوکربان کی ننگی چارپائی پر براجمان ہوجاتا کہ کھیس یا چادر بچھانے سے چارپائی کے مسام بند ہوجاتے تھے۔ جُثّے کو ہوا نہ لگتی تھی اور تب ہم سب بہن بھائی ایک جہازی سائز کے حقّے کو دھکیلتے، جسے ہم تازہ کرچُکے ہوتے اور یہ ہمارے لیےایک پُرلطف تفریح کا سامان تھا کہ باپ کی آمد سے بیش تر ہم اُس حقّے کو پانی سے خوب تروتازہ کرتے۔ 

چاندی رنگ کی تاروں اور سیاہ دھاگوں سے مزیّن اُس کی نال بھگوتے، اُس میں تازہ پانی بھرتے، لیکن ہمیں اُس کی نال سے منہ لگا کر فالتو پانی اپنے گالوں میں بھر کر، خارج کرنے کی اجازت نہ تھی، تو ہم وہ جہازی سائز تروتازہ حقہ اُن کی خدمت میں پیش کردیتے۔ ہمارا باپ نال کو مُٹھی میں بھینچ کر(جس سے اُس کے سُرخ و سپید گال پچک جاتے) سانس کھینچ کے فالتو پانی اپنے گالوں میں بھرتا، تو وہ پھول جاتے۔ اور پھروہ اس پانی کو نہایت احتیاط سے بان کی چارپائی کے پائے کے برابر میں اینٹوں کی فرش پر خارج کردیتا۔ 

جب اُسے اطمینان ہو جاتا کہ کش لگانے سےحقّے میں باقی ماندہ پانی ایک مخصوص لَے میں گڑگڑانے لگا ہے، تو مطمئن ہوکر چارپائی سے اُٹھتا۔ یہ پہلا مرحلہ تھا۔ دوسرے مرحلے میں وہ گھریلو استعمال کے لیےجمع شدہ لکڑی کےچھلکوں کو ایک انگیٹھی میں ترتیب دے کرسلگاتا۔ اُن زمانوں میں کھانے پکانے کے لیے خان صاحب کے ٹال سے لائی یا پہنچائی گئی لکڑی استعمال ہواکرتی تھی،گیس کا نزول نہ ہوا تھا۔

ہر ماہ کی پہلی تاریخوں میں جب گھرکا دیگر سوداسلف خریدا جاتا، بیڈن روڈ پر واقع ٹال کے مالک، خان صاحب اپنی ریڑھی پر دو من لکڑی لادے، اُسے خُود ہی کھینچتے ہمارے ہاں آتے۔ پھر اپنی کمر پر ایک ہی وقت میں مَن بھرلکڑی بوجھ کر کے، پٹ سن کے موٹے رسّےسے باندھ کر نہایت آسانی سے ہماری چھت تک لے جاتے۔

وہ اکثر ناتواں سیڑھیوں پر قدم دھرتے، کوئی پشتو گیت گنگناتے اور چھت کے ایک کونے میں واقع ایک چھپّر تلے اُس بوجھ کو کمر دُہری کر کےاُتار دیتے۔ جب کبھی شدید بارش اُترتی تو وہ چھپّر ٹپکنےلگتا اور تب ہم سب بہن بھائی کم ازکم دو دولکڑیاں گھسیٹتے چھت سے اُتارلاتے تاکہ وہ بھیگ نہ جائیں۔ کیوں کہ ہم یہ نہیں دیکھ سکتے تھے کہ اگلے روز ہماری ماں ہمارے لیے پراٹھے بناتے گیلی لکڑی کو سلگانے کی سعی میں اپنی آنکھیں لال کررہی، زور زور سے کھانس رہی ہے۔ 

جب کہ اِس ماہانہ ایندھن کی آمد پر میرا باپ، لکڑیوں کے چھلکے نہایت اہتمام سے اُتار کر کسی متاع عزیز کی طرح ایک بوری میں محفوظ کرلیتا تھا۔ انگیٹھی میں ترتیب شدہ چھلکے جب سلگنے لگتے، تو وہ مطمئن ہو کر حقّے کی ٹوپی کی گردن کو گرفت میں لے لیتا۔ یہ ٹوپی بھی ایک ورک آف آرٹ ہوا کرتی تھی۔ بیل بُوٹوں سے مصوّر، ٹین کی پتریوں سے مزیّن۔ مجھے یاد ہے، ایک مرتبہ ہماری بےاحتیاطی کے باعث وہ فرش پر گرگئی، اُس کا مٹی بدن ٹوٹ گیا، بیل بوٹے بکھر گئے، لیکن اُس کی پتریوں کی بناوٹ جوں کی توں رہی۔ 

ہمارا باپ سب سے پہلے دیسی کھبڑ تمباکو اپنی ہتھیلیوں میں خُوب مسلتا اور جب وہ موٹے ریزوں میں بدل جاتا، تو اُسے ٹوپی کے پیندے میں جماتا۔ دیسی گڑ کی ایک ڈلی اُس مَسلے ہوئے تمباکو پر دھرتا اور پھر اُس پر سلگتی چھال کو نہایت نزاکت سے ایک چمٹی کی مدد سے جمادیتا۔ نال منہ میں لے کر ایک کش کھینچتا، تو پیندے میں جمع پانی میں ٹوپی میں سےاُترتا کڑوا دھواں، اپنی کڑواہٹ کم کرتا اُس ٹال کے رستے میرے باپ کے منہ تک سفر کرتا اور پھر اُس کے نتھنوں سے خارج ہو کر اُسے ایک الوہی شانتی سے دوچار کرتا۔ اُس کی آنکھیں اس کڑوے نشے کے بدن میں اُترنے سے بند ہونے لگتیں۔ دوچارکش لگانے کے بعد وہ کوئی کتاب کھول لیتا اور اُس کے مطالعے میں غرق ہوجاتا۔ 

وہ کتاب ہمیشہ مٹّی ہی سے متعلق ہوتی۔ زراعت، باغ بانی، پھول پھلواری یا جدید فصلوں کے حوالے سے کوئی کتاب اور ہمیشہ انگریزی میں۔ امریکا، برطانیہ یا ہندوستان میں شائع شدہ تازہ ترین زراعتی تحقیق کی کوئی کتاب۔ کیسے ہم کم سے کم رقبے میں سے زیادہ سے زیادہ فصل حاصل کرسکتے ہیں۔ دنیا بھر میں جہاں جہاں زراعتی تحقیق کے مراکز تھے، وہ ان کی رپورٹس صحیفوں کی مانند پڑھتا۔ اور میری ماں، ہمیشہ گلہ گزار رہتی۔ ’’کتابیں میری سوتنیں ہیں، گھر آکر کبھی نہ پوچھا کہ دن کیسے بیتا، تم کیسی ہو۔ بس کسی نہ کسی سوتن میں غرق ہوگئے۔ مَیں آگ لگاؤں ان کاغذ کی سوتنوں کو۔‘‘

مجھے زندگی بھر تمباکو اور وہ بھی دیسی نوعیت کے کڑوے تمباکو کی بُو بُری نہ لگی کہ وہ میرے باپ کےہونٹوں اور نتھنوں سے خارج ہونے والی ایک ایسی مہک تھی، جس کےلیے مَیں بعد کی زندگی میں، اپنے آخری ایام تک ترستا رہا۔ وہ کب کے، اُس مٹّی میں، جس کے عشق میں مبتلا تھے، مٹّی ہو کے لالۂ گُل میں نمایاں ہوچُکے، لیکن مَیں آج بھی، جب کہ ستّر برس سےتجاوز کر چُکا ہوں، اُن کے بچھڑجانے کے الم میں یک دم خاموش ہوجاتا ہوں۔ 

میرے بچّے فکرمند ہوجاتے ہیں۔ وہ نہیں جانتے، دیسی تمباکوکی ایک مہک پل بھرکے لیے بیتے زمانوں کے فاصلے طے کرتی میرے بدن کے مساموں میں مہکی تھی، تو مَیں خاموش ہوا تھا۔ اورجب رات اُترتی تومیرا باپ ہمیں کہانیاں سُناتا۔ میرا باپ اپنے زراعتی کاروبار کے سلسلے میں غیر منقسم ہندوستان کے بہت سے گوشوں میں جاتا رہتا، وہ نہایت آسانی سے کسی نائب کو مناسب کاروباری ہدایات دے کر ان علاقوں کی طرف روانہ کرسکتا تھا، لیکن اُس کے اندر ایک آوارہ گرد رُوح مقیم تھی، جس کی تشفّی کی خاطر وہ خُود ہی سفر پرنکل کھڑا ہوتا اور وہاں بھی، درجنوں مختلف موسمی خِطّوں میں اُس کے بےشمار شیدائی موجود تھے، جو اُس کی آمد کی خبر پا کر دُور دُورسے بھاگے آتے۔ مُٹھیوں میں اپنی اپنی مٹّی بھر لاتے اور پھر مُٹھیاں اُس کی نیلی آنکھوں کے سامنےکھول دیتے۔

جیسے کوہِ ڈیلفی کا اوریکل، نصیب کی تختی پررقم، مستقبل کا احوال سُنا دیتا تھا، ویسے ہی میرا باپ ہرمٹّی کو حسبِ عادت سونگھ کر، پہلےکچھ دیر آنکھیں بند کر کے کسی دھیان میں گم ہوتا اور پھر اُس کی کوکھ کے نصیب میں جو بھی پُھوٹ اور بڑھوتری ہوتی، اُس کی خبر دے دیتا اور جب کوئی اُس سے پوچھتا کہ ’’اے دراز قامت شخص! تم پانچ دریاؤں کی سرزمین کے باسی، اُس کی مٹّی سے جنم لینے والے ہو، اُسے تو پرکھ سکتے ہو، لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ تم بنگال، آسام اوربہار کی مٹّی کے بھی گن جان جائو؟‘‘ تو وہ کہتا۔ ’’جان لو، مٹّی کی خصلت ونمود کسی ایک خطّےکی قیدمیں نہیں، اس کی کوئی سرحد نہیں، اِسے نہ بانٹا جاسکتا ہے اور نہ ہی تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ درحقیقت، ماٹی ہی سوار ہے اورماٹی ہی سواری ہے۔‘‘

رات گہری ہوتی جاتی۔ ماں دن بھر کی مشقّت اور بھاگ دوڑ سے نڈھال کب کی نیند میں غرق ہوچُکی ہوتی اور ہم سب بہن بھائی ایک بڑی رضائی میں رُوپوش، اپنی ناکیں باہر نکالے کہ سردی بہت ہوا کرتی تھی، اپنے باپ کی کہانیوں میں مگن، نیند سے بوجھل آنکھوں کو بند نہ ہونے دیتے۔ کبھی وہ ہمیں متھرا کے اُن موٹے پانڈوں کے قصّے سُناتا، جوروزانہ سیکڑوں پیڑے ہڑپ جاتے تھے۔ 

دراصل ہندواس اعتقاد کے اسیر تھے کہ ہم متھرا کے پانڈوں کو جتنے پیڑے کھلائیں گے، ہمارے اُتنے ہی پاپ جھڑیں گے اور وہ یہ پیڑے مفت میں نہیں کھاتے تھے، اُن کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات کیے جاتے کہ اگر اتنے پیڑے کھاؤ گے تو اتنی رقم بھینٹ کریں گے اور پانڈے لالچ میں آکر اتنے پیڑے کھاجاتے کہ اُن کے ناک ،منہ سے پیڑے نکلنے لگتے، مگر یاتری اُن کے کُھلے منہ میں پیڑے گھسیڑتے چلے جاتے، یہاں تک کہ پانڈا پیڑوں کی تاب نہ لاکر اوندھا ہوجاتا، لیکن رقم اپنی دھوتی کے پلّو میں اُڑسنےکےبعد۔ ایک بار اُس نے ہمیں اپنے لکھنوی دوست کا قصّہ سُنایا، جس نے اُسے ایک شب کھانے کے لیے مدعو کیا تھا۔ (جاری ہے)

سنڈے میگزین سے مزید