• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نئی کہانی، نیا فسانہ: بے دیارم (آخری قسط)

مدوّن و مرتب: عرفان جاوید

(مبین مرزا)

ایک شام، مَیں گھنٹا گھر جا نکلا۔ ارے یہ کیا۔ بھلا یہ کون سا گھنٹا گھر ہے۔ شہر کی بلدیہ کی عمارت پر گھڑیال تو اب بھی نصب تھا، لیکن اطراف میں سب کچھ بدل گیا تھا۔ نہ وہ مٹکے والی قلفی کی دکان، نہ تلی ہوئی مچھلی والے اورنہ ہی وہ موٹے موٹے گیندے کے پھولوں والے ہار بیچنے والے لوگ۔ 

ڈریم لینڈ سنیما کی طرف جاتے ہوئے وہ فالودے والوں کی دُکانیں بھی اُٹھ چکی تھیں۔ گھنٹا گھر تو اب ایلوپیتھک دوائیں بیچنے والوں کا بازار بن گیا تھا۔ قلفی، فالودہ، مچھلی اور کڑاہی کھانے کا شوق ختم ہوا لوگوں میں اور دوائوں کا شوق بڑھ گیا، مَیں نے سوچا اور تیز قدم اٹھاتا کچہری کی طرف جانے والے راستے پر ہولیا۔ 

مجھے یاد آیا، اِسی راستے پر ذرا آگے پولیس چوکی ہے، جو چوکی چہلیک کہلاتی تھی۔ اُس سے ذرا آگے منشی عبدالرحمٰن صاحب نے اپنا مکتبہ قائم کیا ہوا تھا۔ منشی صاحب اس زمانے کی یادگار تھے، جب اس معاشرے میں اصلاحِ احوال کا کام کرنے والے لوگ لکھنے لکھانے پر انحصار کیا کرتے تھے۔ 

منشی صاحب نے بھی چھوٹے بڑے رسائل اور درجنوں کتب قلم بند کیں۔ اُن کےآخری زمانے میں مجھے بھی ملاقات کا موقع ملا۔ حوصلہ بڑھاتے اور تحفے میں کتابیں دیتے تھے۔ بعد میں دریافت بھی کرتے کہ کتاب پڑھی، تو بتاؤ کیا سمجھ آیا۔

ذرا سا آگے بڑھیں، تو بائیں ہاتھ پر ہوٹل فاران تھا۔ اُس کے سامنے روڈ کے دوسری طرف قاسم العلوم (للبنات) تھا اور اُس کےبرابر کی گلی میں ایڈووکیٹ چوہدری شفیق کا دفتر تھا۔ وہ اپنے زمانے کے نامی وکیل عبداللطیف امرتسری کے شاگرد تھے اور استاد کا ذکر بہت احترام سے کرتے۔ 

چوہدری شفیق شام کو دفتر سے اُٹھ کر ہوٹل فاران میں بیٹھک کرتے۔ اس بیٹھک میں وکیل، ادیب، مصور، صحافی، شاعر، گائیک، طلبہ نواز اور علماء و دانش وَر کون کون شریک نہ ہوتا۔ مجھےاس محفل میں حضرت عطا اللہ شاہ بخاری کےسب سے چھوٹے بیٹے عطاالمومن، طبلہ نواز بلّے خان، مصور زوار حسین سے ہونے والی ملاقات آج بھی یاد ہے۔

یہ بیٹھک کیا تھی، اپنے دَور کا ایک سماجی ادارہ یا آپ کہہ لیجیے کہ ایک تِھنک ٹینک جیسی محفل تھی۔ جہاں مختلف شعبوں کےلوگ اکٹھےبیٹھ کر اپنے وقت کی سیاست، سماجی، ثقافتی اور مذہبی صورتِ حال پر بات کرتے تھے۔ اُس زمانے کا ایک قصّہ مجھے آج بھی یاد ہے، جو میرے ایک دوست ندیم نے مجھے سُنایا تھا۔ وہ خُود شعر و شاعری کرتا تھا اور اُس بیٹھک میں اُس کا آنا جانا تھا۔ ایک دن وہ گیا، تو اُس کے برابر والی کرسی پر ایک چوڑے جثّے اور لمبی داڑھی والے ایک صاحب بیٹھے تھے۔ 

میزبان چوہدری شفیق نے حسبِ معمول اس نووارد مہمان یعنی میرے شاعر دوست اور اہلِ محفل کا آپس میں تعارف کروایا اور یہ بھی بتایا کہ وہ شاعری کرتا ہے۔ تھوڑی دیر میں چائے آگئی۔ چائے کے دوران اس کے برابر بیٹھے داڑھی اور چوڑے جثّے والے شخص نے، جو بتایا گیا تھا کہ مولانا عطا اللہ شاہ بخاری کے سب سے چھوٹے بیٹے عطاء المومن ہیں، اُس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا اور تازہ غزل سُنانےکی فرمائش کی۔ 

میرا دوست ندیم ذرا بےباک بلکہ منہ پھٹ طبیعت کا نوجوان تھا۔ اُس نےگردن گُھما کرمولانا کی طرف دیکھا اور بولا۔ ’’حضرت!مَیں تو عاشقانہ، فاسقانہ اورفاجرانہ قسم کی غزلیں کہتا ہوں۔ میری شاعری آپ کے مطلب کی نہیں۔‘‘ عطا المومن فوراً بولے۔ ’’بھائی ندیم! ایسی ہی غزلوں پر تو ہم زیادہ داد دیتے ہیں۔ آپ سنائیے تو سہی۔‘‘اُس نےشعر سنائے تو واقعی شاہ جی نے دل کھول کر داد دی۔ اُس کے بعد ندیم کی شاہ جی سے دوستی ہوگئی۔ وہ اُن کے’’دارِ بنی ہاشم‘‘ بھی جانےلگا۔ یہ ایک مدرسہ تھا اور اُس کے ایک حصّے میں شاہ جی اور ان کے بڑے بھائی عطا المحسن کی رہائش بھی تھی۔ 

دونوں بھائی ادب وشعرکے بڑے رسیا تھے۔ اُن کے ہاں بھی ادیبوں، شاعروں، صحافیوں اور دانش وَروں کا آنا جانا رہتا تھا۔ ندیم کےساتھ ان دونوں بیٹھکوں میں دو چار بار مَیں بھی گیا تھا۔ ایسی ہی ایک بیٹھک آرٹس کونسل، ملتان میں بھی جمتی تھی، جہاں ’’مِرے عزیزو! تمام دُکھ ہے‘‘ گوتم بدھ والی نظم کےخالق، شاعر اسلم انصاری ڈائریکٹر تھے۔ یہاں ریڈیو اور اسٹیج کے فن کاربھی خاصی تعداد میں آتےتھے۔ 

ثریا ملتانیکر اور پٹھانے خاں کو مَیں نے یہیں پہلی باردیکھا تھا۔ اور دیکھیے، ابھی مجھے کون یاد آیا۔ اِسی آرٹس کونسل کی بیٹھک میں ایک دن مَیں ندیم کے ساتھ گیا تھا۔ اس وقت وہاں دودھیا سفید بالوں والے ایک صاحب ذرا بلند آہنگ لہجے میں بات کررہے تھے۔ مصوری اور موسیقی کے کسی مشترکہ پہلو پر کوئی گفتگو چل رہی تھی۔ یہ گفتگو ان کی براہِ راست ڈائریکٹر اسلم انصاری سے تھی، جو اُنھیں علامہ صاحب کہہ کر مخاطب ہو رہے تھے۔

بعد میں معلوم ہوا کہ ان کانام علامہ عبدالحمید عتیق فکری ہے اور وہ بہت کتابیں پڑھے ہوئے ہیں۔ اُن لوگوں کی باتیں تو کیا میرے پلّے پڑتیں کہ وہ دانش ورانہ قسم کی تھیں، لیکن یہ لوگ ندیم کے ساتھ مجھے بھی اچھے لگے۔ اس لیے کہ انھوں نے ہم دونوں دوستوں سے نرمی اور شفقت سے دل بڑھانے والی باتیں کی تھیں۔ اِس شہر میں ایسی ہی ایک محفل نواں شہرپہ زینتھ سنیما کے برابر میں واقع بابا ہوٹل میں بھی جمتی تھی۔ وہاں بھی صحافی، شاعر اور ادیب لوگ جمع ہوتے تھے۔

میرے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ کوئی مجھے آج پھر اُن جگہوں پر جمنے والی محفل میں لےجائے اور مَیں دیکھوں کہ اب وہاں کون لوگ اکٹھے ہوتے ہیں اور وہ کیسی باتیں کرتے ہیں۔ ہوٹل فاران، آرٹس کونسل، بابا ہوٹل… ہاں، مجھے اِن جگہوں پرجانا چاہیے۔ مَیں نے خُود سے اصرار کرتے ہوئے کہا۔ پھر مَیں نے سوچا، آرٹس کونسل تو خداجانےاب کہاں ہوگی، لیکن ہوٹل فاران اور بابا ہوٹل کا تومجھے معلوم ہے، مَیں وہاں خُود بھی جا سکتا ہوں۔

اُسی شام کچھ ہی دیر بعد مَیں اپنے حسابوں ٹھیک اُسی جگہ کھڑا تھا، جہاں ہوٹل فاران ہوا کرتا تھا، لیکن یہ کیا، مَیں شاید غلط جگہ آگیا۔ یہاں تو کسی ہوٹل کا نام ونشان بھی نہیں ہے۔ جگہ تو سوفی صد وہی تھی، اِس لیے کہ مدرسہ قاسم العلوم میرے سامنے تھا۔ مَیں نے برابر میں کسی سےدریافت کیا، تو معلوم ہوا کہ ہوٹل فاران تو برسوں پہلے ختم ہوگیا تھا۔ ’’لیکن کیوں ختم ہوگیا؟‘‘ مَیں نے بتانے والے سے پوچھا۔ وہ بولا۔ ’’بھائی! آکر بیٹھنے والے نہ رہیں تو پھر ہوٹل بھی اُٹھ جاتا ہے۔‘‘ آگے پوچھنے، کہنے کو کیا رہ گیا تھا۔ مَیں نے سرجُھکا کر اپنی راہ لی۔ 

خیال آیا کہ بابا ہوٹل کی طرف جاؤں، لیکن پھر یہ سوچ کر کہ وہاں کوئی اور صدمہ نہ میرا منتظر ہو، ارادہ بدل دیا۔ ایک شام مَیں کینٹ چلا گیا۔ وہاں کئی کام تھے۔ ایک بالے میاں کی مٹھائی کھانی تھی، دوسرے حکیم ارتضیٰ خان کے مطب کا چکر لگانا تھا اور آخر میں نذر شاہ کے ہوٹل پر رات کا کھانا۔ بالے میاں کی مٹھائی کے لیے ضروری تھا کہ مَیں مغرب سے پہلے وہاں پہنچ جائوں۔اصل میں بالےمیاں صُبح آکر دکان کھولتا، صفائی کرتا، دکان کے اگلے حصّے میں چار اسٹینڈز لگاتا اور اُن پر چار تھال جماتا۔ 

اس کے بعد پچھلے حصّے میں جاکر چولھے تیار کرتا۔ اتنےمیں اس کےدونوں بیٹے سامان لیے آجاتے۔ اب مٹھائی کی تیاری کا کام شروع ہوتا۔ وہ بس چار طرح کی مٹھائی بناتا تھا، ایک موتی چُور کے لڈو، دوسرابالو شاہی، تیسرا بیسن کا حلوہ اور چوتھا میسو۔ جو مٹھائی تیار ہوجاتی، وہ اُٹھا کر اگلےحصّے میں رکھے گئے تھال میں آجاتی۔ ظہر کی نماز کے وقت سے عام طور پر وہ خُود دکان کےاگلےحصّے میں بِکری کے لیے آبیٹھتا۔ 

ان چار کے علاوہ مَیں نے کوئی اور مٹھائی اُس کی دکان پر نہیں دیکھی تھی۔ مغرب کے وقت تک اس کی بنائی ہوئی مٹھائی ختم ہوجاتی اور وہ دکان بند کرکے چلا جاتا۔ یہی سوچ کر مَیں وہاں جلد پہنچا تھا، لیکن وہاں تو کوئی مٹھائی کی دکان ہی نہیں تھی۔ کہاں گئی وہ بالے میاں کی دکان؟ مَیں نے دائیں بائیں نظر دوڑائی، لیکن نہیں، کہیں بھی وہ دکان نہیں تھی۔ 

مَیں نے آس پاس والوں سے پوچھا، لیکن سب نے ایسی کسی دکان سے لاعلمی کا اظہارکیا۔ میں دبدھا میں پڑ گیا کہ ہو نہ ہو، کسی غلط جگہ آگیا ہوں۔ ایک بارپھر پورے روڈ کا چکرلگایا۔ روڈ تو وہی تھا، لیکن اس کی کایا کلپ ہوگئی تھی۔ مَیں نے حافظے پر زورڈال کراس روڈ کے پرانے نقشے اور وہاں پر ہونے والے کام اور کاروبار کو یاد کرنے کی کوشش کی۔ لیکن عجیب بات تھی، جو مجھے یاد آتا تھا، وہ یہاں نظر نہیں آرہا تھا اور جو نظر آرہا تھا، اُس کا کوئی سراغ حافظے میں نہیں ملتا تھا۔

یوں ہی الجھن اور کوفت میں اس روڈ پر ٹہلتے ہوئے میری نظر کئی روشن اور نئی طرز کی دکانوں کے بیچ دبی ہوئی پنساری کی ایک دکان پر پڑی۔ حافظے نے اُسے فوراً شناخت کرلیا۔ مَیں آگے بڑھا کہ وہاں جا کر بالے میاں کی مٹھائی کا پوچھوں۔ دکان کے آگے ایک تیس بتیس برس کا جواں سال آدمی اسٹول پر بیٹھا تھا۔ مَیں نے اُس سے پوچھا تو وہی جواب ملا،جو اوروں نے دیا تھا۔ 

مَیں قدم آگے بڑھا ہی رہا تھا کہ سر پر دوپلّی ٹوپی درست کرتے ہوئے ایک صاحب دکان سےنکلے۔ وہ ستّر پچھتّر کے تو ضرور تھے۔ مَیں اُنھیں دیکھ کررُک گیا اور بڑھ کر سلام کے بعد کہا۔ ’’صاحب! مَیں کراچی سے آیا ہوں اور بالے میاں کا پوچھ رہا ہوں، پر کسی سےکچھ اتا پتا نہیں ملا۔ 

کیا آپ مجھے کچھ بتاسکیں گے؟‘‘’’بالے میاں مٹھائی والے؟‘‘ اُنھوں نے واسکٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے پوچھا۔’’جی جی، وہی مٹھائی والے۔‘‘’’معلوم ہوتاہے، آپ بہت زمانے بعد تشریف لائے ہیں۔‘‘’’جی کوئی تیس برس سے زیادہ عرصے بعد۔‘‘ ’’ہُوں۔‘‘ اُنھوں نے ہنکارا بھرا اور اثبات میں سرہلایا، بولے۔ ’’مَیں نماز کے لیے اُٹھا تھا، لیکن چلیے، کوئی بات نہیں، بعد میں یہیں دکان میں پڑھ لوں گا۔

آپ فرمائیے، چائے تو پیتے ہیں ناں؟‘‘پھرمیرے جواب کا انتظار کیے بغیر دکان کے باہر بیٹھے شخص سےبولے۔ ’’شمشاد! جائیو، ذرا دودودھ پتی لائیو جلدی سے۔‘‘ اسٹول پر بیٹھا آدمی اُٹھ کر چلا تھا کہ اُنھوں نے بلند آواز میں پھر اُس کا نام پکارا اور کہا۔ ’’چائے میں میٹھا نہ ڈلوائیو، شکردان ساتھ لےلیو۔‘‘ مَیں چائے پینے کے موڈ میں نہیں تھا،لیکن جس طرح میرے میزبان نے چائے کا اہتمام کیا، اس میں انکار کی گنجائش کب تھی۔ 

اب وہ صاحب میری طرف متوجّہ ہوئے۔ ’’اسم شریف؟‘‘’’جی، افتخار احمد… لیکن صاحب، آپ نےچائےکا تکلف کیا اور میری وجہ سے آپ کی نمازبھی رہ گئی۔‘‘ ’’نہیں، نمازنہیں رہےگی، مَیں یہیں پڑھ لوں گا۔ اور دیکھیے مَیں نے چائے منگوائی ہے۔ ہاں بوتل منگواتا تو آپ بے دھڑک کہہ سکتےتھے کہ مَیں نےتکلف کیا ہے۔‘‘ وہ ذرا سا مُسکرائے اور بولے۔ ’’ اللہ بخشے میرے والد صاحب کہا کرتے تھے، میاں! چائے تو چاہت سے پلائی جاتی ہے۔‘‘’’جی عنایت ہے آپ کی۔‘‘ ’’نہیں جناب! آپ کی مہربانی، آپ نے ہمیں یہ عزت بخشی ہے۔‘‘ اُنھوں نے ذرا توقف کیا پھر بولے۔ ’’میرا نام جمال الدین ہے، افتخار صاحب! اس پوری روڈ پر مَیں ہی ایک پرانا آدمی ہوں، باقی جوتھے، اُن میں کچھ اوپر چلے گئے، کچھ اور نےکہیں اورکُوچ کیا اور کچھ کی اولاد کسی اورکام دھندے میں لگ گئی اور اُنھیں ریٹائر کر کےگھر میں بٹھا دیا۔

مَیں تو اب تک دکان پہ آتا ہوں، حالاں کہ میرے چاروں لڑکے کہتے ہیں کہ ابّا اب گھر پہ رہو۔ مَیں کہتا ہوں، بھئی تم مجھے زندہ اور چلتا پِھرتا دیکھنا چاہتے ہو، تو کام دھندے میں لگارہنےدو۔ وہ چُپ ہوجاتے ہیں۔ تھوڑےدن پیچھے پھرآپس میں یہی کہنا سُننا ہوتا ہے۔ بھائی افتخاراحمد! بات یہ ہے کہ ہاتھ پیر ہلا رہا ہے آدمی اس عُمر میں تو سمجھو بیٹھا ہے، ورنہ بس پھر گیا۔ اچھا، آپ کا کیا شغل ہے؟‘‘ ’’جی، مَیں ملازمت کرتا تھا، دو سال پہلے ریٹائر ہوا ہوں۔‘‘ ’’اور اب کیا کرتےہیں؟‘‘ ’’کچھ نہیں۔‘‘ ’’نہیں جناب، یہ تو ٹھیک نہیں ہے۔ کام کی ضرورت نہ ہو تو بھی کوئی ذمّےداری، کوئی مصروفیت ہونی چاہیے آدمی کے پاس۔ 

بےکاری توبیماری ہے افتخار احمد صاحب۔‘‘ اتنے میں وہ آدمی چائے لےآیا۔ جمال الدین بولے۔’’شمشاد میرا سب سے چھوٹا بیٹا ہے۔ بس ایک یہی ہے، جو میرے ساتھ اب آباء و اجداد کے اس کام میں لگا ہوا ہے۔ تین لڑکے اس سےبڑے ہیں۔ دو تو بینک میں ہیں اور ایک بجلی کے محکمے میں۔ دو لڑکیاں بھی ہیں۔ سب اپنے گھربار کے ہیں۔ پوتے، پوتیوں اور نواسے، نواسیوں والا ہوں مَیں۔ اوپر والے کا بڑاکرم ہے۔‘‘ 

اُنھوں نے داہنے ہاتھ سے کانوں کی لویں چھوئیں، پھر ذرا ہنستے ہوئے بولے۔ ’’اب تک تو آپ نے سمجھ لیا ہوگا کہ مَیں تھوڑا سا باتونی ہوں۔‘‘ مَیں ہنس دیا۔ جمال الدین سنجیدہ ہوکر بولے۔ ’’سچ کہوں مَیں آپ سے، بہت دن بعد مَیں اس طرح کسی سے بات کر رہا ہوں۔ یہاں تو اب کسی کو کسی کے پاس بیٹھنے اور دل ٹٹولنے کی فرصت ہی نہیں رہی۔ بس اپنی اپنی میں لگے ہوئے سب کے سب۔ زندگی اور تنہائی کی کھیتی کاٹ رہے ہیں۔‘‘ مجھے یوں لگا، جیسے جمال الدین نے میرے اندر جھانک کر دیکھ لیا۔ شمشاد ہم لوگوں کے سامنے چائے رکھ کر پھر باہر جابیٹھا تھا۔

’’لیجیے، چائے ٹھنڈی ہورہی ہے، بسم اللہ کیجیے۔‘‘ چائے کی اوپر تلے دو تین چسکیاں لے کر اُنھوں نے کپ رکھا اور بولے۔ ’’بالے میاں کا انتقال اکتیس سال پہلے ہوا تھا۔ یہی شروع جاڑوں کے دن تھے۔ ڈیڑھ دو سال بعد اس کے لڑکے لاہور شفٹ ہوگئے تھے۔ آپ ضرور بتیس تینتیس برس بعد آئےہیں۔‘‘ ’’جی، شاید اتناوقت ہورہا ہوگا۔‘‘ ’’دیکھیے، وقت کیسے دبے پاؤں گزرتا ہے۔ 

کل کیا کچھ آنکھوں کے سامنے ہوا ہے اور آج کسی بات کو تیس اور کسی کو چالیس سال ہوگئے۔‘‘ ’’جی ہاں، ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ۔‘‘ مَیں نے ذرا دیر کے بعد پوچھا۔ ’’جمال صاحب، یہاں سے ذرا سا آگے جو چوک ہے، جس سے آگے داہنے ہاتھ مڑکر محلہ لال کُرتی ہے، وہاں ایک ہوٹل ہوا کرتا تھا۔‘‘ ’’نذر شاہ کا ہوٹل، جس کی مرغ شاہی کری کی زمانے بھر میں شہرت تھی۔‘‘ ’’جی جی، بالکل وہی … جمال صاحب، آپ تو اس پورے علاقے سے واقف ہیں۔‘‘ ’’ہاں جناب! کیوں نہ ہوں گا۔ سولہ کا پورا نہیں ہوا تھا، جب والد کے ساتھ سائیکل پر بیٹھ کراس دکان پرآنےلگا تھا۔

اب دو مہینے بعد پورے اسّی کا ہوجاؤں گا۔ سب کو دیکھا ہے، سب سے میل جول رہاہے۔‘‘ وہ خاموش ہوئے، پھر جیسے کچھ سوچتے ہوئے بولے۔ ’’بھائی افتخار احمد! آپ نے دیکھا ہوا ہے، وہ زمانہ بھی ایسا ہی تھا۔ چار محلے اُدھر کے لوگ بھی آپس میں سلام دُعا لیتے تھے۔ آج تو برابر والوں کو ایک دوسرے سے بات کی فرصت ہے اور نہ ہی ضرورت۔‘‘ ’’جمال صاحب! واقعی یہاں بھی ایسا ہی ہوگیا ہے؟‘‘ ’’ہاں، نہیں تو اور کیا۔‘‘ وہ خاموشی سے چائے پینے لگے۔ 

مَیں نے بھی دوبارہ کپ اٹھا لیا۔ ’’نذر شاہ دوستوں کےساتھ گھومنے مَری گیا ہوا تھا۔ وہاں اس کا ہارٹ فیل ہوا۔ میّت برف میں رکھ کرلائی گئی تھی۔ یہ بھی کوئی ستائیس اٹھائیس سال پہلےکا واقعہ ہے۔ ہوٹل تووہ اب بھی ہے، لیکن اب پرانے کھانے نہیں ملتے وہاں۔ بروسٹ، پیزا، برگر…اب تو یہ چیزیں ہیں۔‘‘ چائے ختم ہوچُکی تھی اور باتیں بھی بہت ہوگئیں۔ مَیں نے سوچا اب اُٹھنا چاہیے۔ اُٹھتے اُٹھتے مجھے حکیم ارتضیٰ خان کا خیال آیا تومَیں نے اُن کا پوچھا۔ 

جمال الدین بولے۔ ’’حکیم صاحب، طبیبِ حاذق تو تھے ہی، وہ آدمی بھی بہت بھلے تھے۔ حج پرگئے ہوئے تھے، واپسی سے دودن پہلے فوت ہوگئے۔ جنت البقیع میں جگہ ملی۔ دینے والے نےاُن کی نیک طبیعت کا خُوب صلہ دیا۔‘‘ مَیں نے کلائی پر بندھی گھڑی دیکھی۔ بہت وقت ہوگیا تھا۔ مَیں نے جمال الدین کا شکریہ ادا کیا اور ہاتھ ملاتے ہوئے اُٹھ کھڑا ہوا۔ وہ میرا ہاتھ تھامے دکان سے باہرآئے۔ مَیں نے گرم جوشی سےایک بار پھرمصافحہ کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور رخصت طلب کی۔’’آپ سے مل کر اچھا لگا مجھے۔ 

کون کون سے لوگ اور کیا کیا زمانے یاد آئے۔ کتنےعرصے بعد یوں بیٹھ کرکسی سے بات کرنےکا موقع ملا۔‘‘ پھر وہ ہنسے اور بولے۔ ’’ویسے مَیں نے آپ کی بہت سمع خراشی کی۔ معذرت چاہتا ہوں۔‘‘ ’’ارے جمال صاحب! کیوں شرمندہ کرتے ہیں۔ آپ اگلے وقتوں کے خلوص و مہر کی نشانی ہیں۔ آپ کے پاس بیٹھ کرمَیں نے گئے زمانے کے کیا کیا باب تازہ کیے۔ اللہ آپ کو خوش رکھے۔ آپ سے ملاقات نہ ہوتی تو مَیں کتنے لوگوں سے متعلق ٹامک ٹوئیاں مارتے ہوئے اس بازار سے واپس جاتا۔ آپ کی بےحد عنایت۔‘‘

مَیں نےاُن سےرخصت ہوکرابھی قدم بڑھایا ہی تھاکہ اُنھوں نےآوازدی۔ مَیں پلٹا تو وہ آگے بڑھے اور بولے۔ ’’عرض یہ کرنا تھا کہ اگر اور کوئی مصروفیت حارج نہ ہوتو میرے ساتھ غریب خانے پرچلیے، جو دال ساگ بنا ہوگا، دونوں بھائی مل کر کھائیں گے۔‘‘’’جمال صاحب! آپ کی محبت، آپ کا کرم۔ میرا خیال ہے کہ ابھی یہاں میرا قیام کچھ دن اور ہے، مَیں پھر حاضر ہوں گا۔‘‘نپے تُلے قدم اُٹھاتا مَیں ایم پی چوک پر پہنچا اور ذرا ایک طرف ہوکرکھڑا ہوگیا۔ 

مَیں اس وقت فرحت اور اداسی کی کچھ مِلی جُلی کیفیت میں تھا۔ مزاج پر کبھی ایک اور کبھی دوسری کا غلبہ سا محسوس ہو رہا تھا۔ لیکن کیوں…؟ مَیں نےخُود سے سوال کیا۔ راحت جمال الدین صاحب سے ملنےکی تھی۔ اُن کی صُورت میں اُسی ملتان سے میری ملاقات ہوگئی تھی، جس کی طرف مَیں لوٹ کر آیا تھا اور اُداسی بھی اِسی بات کی تھی کہ اِتنے دنوں میں بس ایک ہی شخص مجھے یہاں اپنے شہر اور اپنے وقت کا ملا تھا اور یہ آخری آدمی ہے۔ باقی سب رخصت ہوگئے یا پھر رُوپوش۔ ایک دَم اُداسی کا غلبہ سا ہوا۔ 

مَیں آتے جاتے لوگوں کو دیکھنے لگا۔ ہر شخص کو شاید کہیں پہنچنے کی جلدی تھی۔ اِس کا اندازہ اکثر لوگوں کے دائیں بائیں کسی طور رستہ بنا کر نکلنے کی کوشش ہی سے نہیں ہورہا تھا، اُن کے چہرے کی کیفیت بھی یہی بتا رہی تھی۔ میرا دل اور بوجھل ہوگیا۔ یہی سب کچھ تو مَیں پیچھے کراچی میں چھوڑ کرآیا ہوں اوراب یہاں بھی… یوں لگا، جیسے یک بہ یک میرا ذہن سُن سا ہو گیا ہے۔ 

مَیں خالی خالی نظروں سے آس پاس دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ اب کیا کروں، کہاں جاؤں؟ اُس وقت میری کیفیت اس شخص کی سی تھی، جو کسی اَن جانے دیار میں ہو اور گم شدگی کےاحساس سے دوچار۔ معلوم نہیں مَیں کتنی دیر اس کیفیت میں رہا، لیکن ایک آواز پر چونکا، ’’بابا! بھوک لگی ہے، کھانےکے لیے کچھ دِلا دو۔‘‘ ایک ضعیف العمرشخص بدن پر میلا کچیلا سا کمبل لپیٹے، ہاتھ پھیلائے کھڑا تھا۔ مَیں نے جیب سے کچھ نکال کر اُسے دیا تو وہ دُعا دیتا آگے بڑھ گیا۔ تب مَیں نے محسوس کیا، بھوک تو مجھے بھی لگی ہے۔

اب مَیں نے اِس خیال سے اطراف کا جائزہ لیا کہ کھانے کے لیے کس طرف قدم بڑھانا چاہیے۔ خیال آیا، یہیں قریب میں، بلکہ عین اُسی جگہ جہاں میں کھڑا ہوں، ایک چھوٹی سی دکان ہوا کرتی تھی، جہاں توے پر آلو اور دال کی ٹکیاں فرائی کی ہوئی ملتی تھیں۔ یہ ایک بنگالی کی دکان تھی۔ بنگال کی تقسیم کے بعد یہاں آکر اُس نے یہ ٹھیّا جمایا تھا۔ ان ٹِکیوں کے ساتھ وہاں املی اور پودینے کی ایک خاص چٹنی بھی دی جاتی تھی، جسے دکان دار اور اس کا بیٹا دونوں ’’سوٹنی‘‘ کہتے تھے اور گرم روٹی کو ’’گورم روٹی‘‘۔ مَیں نے پہلے پیچھے مُڑ کر اور پھر دائیں بائیں دیکھا۔ اُس کے بعد پورے چوک کا جائزہ لیا۔ اب وہ دکان بھی کہیں نہیں تھی۔ 

اُس کے بارے میں کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی۔ مَیں سمجھ گیا وہ بنگالی ختم ہوگیا ہوگا اور اُس کے بعداس کی دکان بھی۔ شاہ رکنِ عالم کے مزار کے احاطے میں لیٹے ہوئے اُس وقت پچھلے ہفتے بھر کے واقعات اور تجربات کومَیں آنکھوں کے آگے سے یوں گزرتے دیکھ رہا تھا، جیسے کوئی فلم سی چل رہی ہے اور یہ سب کچھ میرے ساتھ نہیں ہوا، بلکہ اس فلم میں کسی اور کے ساتھ فلمائے گئے مناظر ہیں۔ معلوم نہیں اس گھڑی میرے لیے وقت کہیں ٹھہرا ہوا تھا یا شاید میں خُود وقت کی حد سے باہر کھڑا ہوا زمانےکی رَوکو گزرتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔

چہرے، آنکھیں، آوازیں اور اُن پر گزرتی کیفیتیں سلسلہ وار میرے سامنے رواں تھیں۔ خُود میرے وجود میں گرم و سرد بیک وقت دو لہریں سی بہے جا رہی تھیں۔ مَیں نے سوچا، کیا یہ سب کچھ میری وہی دو آنکھیں دیکھ رہی ہیں، جو میرے چہرے پر ہیں یا پھر اس وقت کوئی اور آنکھ میرے اندر کُھلی ہوئی ہے، جس کے آگے سے یہ مناظر گزرتے جاتے ہیں۔ تب مجھے ماسٹر عبدالصمد صاحب کی آواز سُنائی دی۔ ’’بیٹا افتخار! تم ابھی تک یہاں لیٹے ہو۔

یوں ٹھنڈ لگ جائے گی تمھیں۔‘‘ مَیں ماسٹر صاحب کو سامنے پا کر فوراً اُٹھ بیٹھا اور اُنھیں سلام کیا۔ ’’اب بھی تمھاری وہی بچپن والی عادت ہے، کن باتوں میں اور کیسے سوالوں میں تمھارا ذہن لگارہتا ہے۔‘‘مَیں نے قدرے تعجب سے ماسٹر صاحب کی طرف دیکھا کہ انُھیں کیسے معلوم ہوا کہ مَیں کیا سوچ رہا ہوں۔ اُن کے چہرے پر وہی مانوس اور دھیمی سی مسکراہٹ تھی اور وہی ٹھہراؤ کی کیفیت۔ بولے۔ ’’بیٹا! بدلتے وقت کے ساتھ ہم بھی بدلتے ہیں، کچھ ہمارے ساتھ اور کسی قدر ہم سے الگ یہ دنیا بھی بدلتی چلی جاتی ہے۔ 

ایسا ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے اور ہمیشہ ہوتا رہے گا۔ اس لیے پلٹ کرگئے زمانے اور گزرے لوگوں کو کھوجنا کیا معنی۔‘‘ ’’لیکن سر! آدمی جن سے بچھڑ جاتا ہے، وہ اُسے کششِ ثقل کی طرح اپنی طرف کھینچتے ہیں۔‘‘ ’’یہ آدمی کے احساس کا، اس کے اندر کا منظر ہے۔ باہر کا قانون الگ ہے۔‘‘ ’’وہ کیا ہے سر!!؟‘‘’’جو بچھڑ گیا، وہ بچھڑ گیا۔ یہ دنیا مل کر بچھڑنے کا میلہ ہے۔ جو ملا ہے، اُسے بچھڑنا ہے۔ جو پایا ہے، وہ کھونا ہے۔‘‘’’لیکن سر!کیوں؟‘‘ ’’یہ آدمی کی ازلی تقدیر ہے، اور اس ازل کی حد ابد تک ہے، اور یہی عناصرکی اس دنیا کا اٹل قانون ہے۔‘‘ ’’مگر سر! آدمی تواشرف المخلوقات ہے…اس شرف کے ساتھ ایسی بےبسی؟‘‘ ’’نہیں، بے بسی نہیں، توازن۔

یہی عناصر کی اس دنیا میں توازن کی کلید ہے۔ یہ تبدیلی بھی آدمی کو آگے سرکاتی ہے۔ خُود سے الگ ہونا سکھاتی ہے، الگ ہو کر خُود کو اور دنیا کو دیکھنا کیسے ممکن ہے، یہ سمجھاتی ہے۔ اِسی لیے تو وقت ہماری صُورتیں ہی نہیں بدلتا، ہماری رُوح کو بھی متغیر کرتے ہوئے آگے بڑھتا ہے۔‘‘ ’’سر! پھر ہم کس لیے کھوئے ہوؤں کی جستجو کرتے ہیں؟‘‘ ’’آہ! میری تمام سرگزشت، تیری تمام سرگزشت، کھوئے ہوئوں کی جستجو۔‘‘ ماسٹر صاحب کے چہرے پر تفکّر کا رنگ گہرا ہوگیا تھا۔ ’’یہ جستجو سب کو نہیں ہوتی۔ 

کسی کسی میں ہوتی ہے۔ اُسی میں جو اپنی تقدیر کے عمل میں اپنی کارگزاری کے حصّے کا آرزومند ہو۔‘‘ پھر وہ مُسکرائے اور بولے۔ ’’بات پھر وہی ہے، مِری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں…‘‘ ’’سر! پھر یہ سادہ دل، یہ آزاد بندے کدھر جائیں۔‘‘ ماسٹر صاحب ہنس کر بولے۔ ’’کہیں بھی نہ جائیں، وہیں رہیں، جہاں اُنھیں رکھا گیا ہے۔ باہر اور اندر میں توازن رکھتے ہوئے۔ آدمی بس اِسی توازن کا مکلف ہے، اور نہیں تو کیا۔‘‘ ماسٹر صاحب نے لمحہ بھر توقف کیا پھر بولے۔ ’’اچھا، اب اُٹھو، اندر جا کر سلام کرو اور جائو، بس جاکر واپسی کی تیاری کرو۔ 

یہاں سردی بڑھ گئی ہے، تم کراچی والے تو ویسے ہی سردی برداشت کرنے کے عادی نہیں ہوتے۔‘‘ ’’واپسی کہاں سر؟‘‘’’بھئی، بیوی، بچّوں میں، اور بھلا کہاں لوٹتا ہے آدمی اس عُمر میں۔‘‘ ’’لیکن سر! مَیں تو اس شہر میں لوٹ کر آیا تھا کہ میرا اوریجن ہے یہ۔‘‘ ’’اوریجن… وہ کیسے ہوگیا یہ؟ اور تم جیسا سمجھ دار آدمی ایسی باتیں کر رہا ہے۔‘‘ ایک ذرا تامل کے بعد گویا ہوئے۔ ’’اوریجن تو ہم سب کا ایک ہی ہے، اور کوئی چاہے نہ چاہے، مانےنہ مانے، اُسے لوٹنا تو وہیں ہے۔‘‘ ’’سر! مگر یہ شہر میرے اندر…‘‘ ’’ہاں تو کون کہتا ہے کہ اُسے اپنے اندر آباد نہ رکھو۔ جو شہر تمھارے اندر جابسا، اُسے ضرور آباد رکھو، لیکن اِس کام کے لیےتمھیں واپس اِس شہر میں آ بسنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ وہ ایک لمحے کو رُکے۔ ملائمت سے میری طرف دیکھا اور بولے۔ ’’بلکہ تم اگر یہاں آؤ گے واپس، تو وہ جو شہر تمھارے اندر روشن ہے، وہ دھندلا ہونے لگے گا۔ 

اس لیے کہ آج تم جس شہرمیں لوٹ کر آئے ہو، یہ وہ ملتان نہیں ہے، جس میں تم بستے تھے۔ یہ کوئی اور شہر ہے، جب شہرمیں بسنے والے لوگ رخصت ہوجاتے یا کہیں اور جا بستے ہیں تو پھر نئے لوگ آجاتے ہیں۔ لوگ چلے جاتے ہیں، شہرکہیں نہیں جاسکتا، وہیں رہتا ہے، لیکن اُس کی رُوح، اُس کےمزاج کا ایک بڑا حصّہ جانے والوں کے ساتھ ہی چلاجاتا ہے۔ پھر جو کچھ شہر میں بچتا ہے، وہ نئے لوگوں کا ہوتا ہے۔ کسی پرانے کا لوٹ کراس شہرپہ حقِ ملکیت کا سوال اُٹھانا درست نہیں ہوسکتا بیٹے۔‘‘ مجھے یوں لگا، جیسے کسی نے ہاتھ پکڑ کرمجھے اُٹھا لیا ہو۔

لیکن یہ کیا… یہاں تو مَیں اکیلا ہوں۔ ماسٹر عبدالصمد صاحب کہاں ہیں، اور یہ جو گفتگو ہو رہی تھی، یہ مَیں کس سے کر رہا تھا… کیا یہ سب کوئی خواب تھا… لیکن مَیں نے ماسٹر عبدالصمد صاحب کے ہاتھ کا لمس محسوس کیا ہے، اُنھوں نے مجھے اٹھا کر بٹھایا ہے۔ مَیں ان کے ہاتھ کی گرمی اور شفقت پہچانتا ہوں۔ وہ ہرگز خواب نہیں ہوسکتی۔ 

ہوا کے جھونکے نے مجھے بڑھتی ہوئی خنکی کااحساس دلایا۔ تب مَیں چکنم میں پڑ گیا، یہ سب کیا ہے۔ مَیں جاگ رہا ہوں یا نیند میں ہوں، مَیں پہلے خواب میں تھا، یا اب خواب میں ہوں۔ کچھ طے نہیں ہے، کچھ بھی تو طےنہیں ہے، اور طے ہو بھی کیسے سکتا ہے… مَیں نے خُود سے کہا اور چھوٹے چھوٹے قدم اُٹھاتا حضرت شاہ رکنِ عالم کے مزار پر سلام کے لیے چل دیا۔

سنڈے میگزین سے مزید