• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا وفد پاکستان کی مالیاتی کارکردگی کا جائزہ لینے کیلئے اسلام آباد آرہا ہے جو گیارہ مارچ تک یہیں رہے گا اور وفاقی حکومت کے ان اقتصادی اور انتظامی اقدامات کو تفصیل سے دیکھے گا جو ملکی معیشت کی بحالی کیلئے کیے جارہے ہیں۔ آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر جولی کوزیک نے واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران حکومت کی معاشی اصلاحات کی خاص طور پر تعریف کی ہے اور بتایا ہے کہ اصلاحات کے نتیجے میں نہ صرف ملک کو معاشی استحکام ملا بلکہ اسکی اقتصادی پالیسیوں پر عالمی اداروں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوا، مہنگائی پر کافی حد تک قابو پانے میں مدد ملی اور پچھلے سال کے مقابلے میں پہلی مرتبہ کرنٹ اکائونٹ خسارہ جی ڈی پی کے 1.3فیصد کے مساوی منافع میں تبدیل ہوا۔ تاہم انہوں نے ٹیکسوں اور سرکاری خریداری نظام پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے شفافیت پر زور دیا تاکہ حکومتی اقدامات کے فوائد کو پائیدار بنایا جاسکے۔

پاکستان نے اگرچہ آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کی کڑوی گولی نگل کر ملک کی معاشی بحالی کا بیڑا اٹھایا اور اسے دیوالیہ ہونے سے بچاکر بہتری کی راہ پر ڈالا، مگر زمینی حقائق اب بھی عام آدمی کے تفکرات میں کمی کی بجائے اضافہ ہی کررہے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں 2024ء کے مقابلے میں غربت کی شرح بڑھ کر 28.9فیصد تک پہنچ گئی ہے اور تقریباً25کروڑ کی آبادی میں سے6 کروڑ 97لاکھ افراد خط افلاس سے نیچے چلے گئے ہیں۔ یہ ایک تشویش ناک بات ہے۔ اس کی وجوہات میں کمزور معاشی پالیسی پہلے نمبرپر ہے جو حکومت کے دعوئوں کے برخلاف غریب آدمی کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکی۔ آئی ایم ایف کے تین بیل آئوٹ پیکیجز سے ایک طرف اقتصادی ابتری پر قابو پانے میں مدد ملی تو دوسری طرف عام آدمی کی مشکلات میں اضافہ بھی ہوا۔ رہی سہی کسرکورونا کی وبا، زرمبادلہ کی کمی اور تباہ کن سیلابی ریلوں نے پوری کردی۔ دیہی آبادی سب سے زیادہ متاثر ہوئی جو پہلے ہی زندگی کی ضروری سہولتوں سے محروم ہے۔ ان علاقوں میں غربت کی شرح28.7 فیصد سے بڑھ کر36.2فیصد ہوگئی۔وزارت منصوبہ بندی کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت سب سے زیادہ غربت خیبر پختونخوا میں ہے جو 35.3فیصد ریکارڈ کی گئی۔ تاہم اضافے کی شرح کےا عتبار سے صوبہ سندھ پہلے نمبر پر رہا۔ وہاں چھ سال میں غربت کی شرح میں 8.1فیصد اضافہ ہوا۔ 2019ء میں یہاں غربت کی شرح 24.5فیصد تھی، جو 2025ء میں بڑھ کر 32.6فیصد ہوگئی۔ مجموعی طور پر سب سے زیادہ غربت رقبے کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں ہے، جہاں اس کی شرح 47فیصد ریکارڈ کی گئی۔ یہ مجموعی قومی شرح سے بھی زیادہ ہے۔ اس کے بعد خیبر پختونخوا ہے جہاں یہ شرح 35.3فیصد ہے۔ سندھ میں یہ شرح 32.3اور پنجاب میں 23.3فیصد ہے۔ غربت کی شرح میں یہ اضافہ اس حقیقت کے باوجود ہورہا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے علاوہ کئی دوسرے پیکیجز کے تحت بھی مستحق افراد کی مالی اعانت کی جاتی ہے۔ ان میں وفاق کے علاوہ صوبائی حکومتوں کے پیکیجز بھی شامل ہیں۔ غربت میں اضافے کی وجوہات میں حکومت کے حاصل کیے گئے اندرونی اور بیرونی قرضے بھی شامل ہیں، جن کی سود سمیت ادائیگی کا بوجھ کسی نہ کسی شکل میں عام آدمی تک پہنچتا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت حکومتی قرض80کھرب روپے سے زیادہ ہوچکا ہے۔ سود کی ادائیگیاں اس کے علاوہ ہیں جو 9کھرب روپے کے قریب ہیں۔ ان کی واپسی کا عمل بھی جاری ہے لیکن ان کا حجم کم ہونے کی بجائے نئے قرضوں کی شکل میں بڑھ رہا ہے۔ حکومت کے حاصل کردہ قرضوں میں 5گنا اضافہ ہوچکا ہے۔ بینکوں سے 49ٹریلین کے قرضے حاصل کئے گئے، جس کے نتیجے میں نجی شعبے کیلئے قرضوں کی گنجائش کم ہوگئی ہے اور نئی سرمایہ کاری متاثر ہوئی، جس کا معاشی نمو پر اثر پڑا۔

وفاقی حکومت آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت اپنے اخراجات کم کرنے کیلئے اقدامات کررہی ہے۔ ان میں رائٹ سائزنگ سب سے اہم ہے، جس سے بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔ نجی شعبہ بھی اس حوالے سے دبائو میں ہے۔ جاری اصلاحات کے تحت اب تک 44ہزار سے زیادہ اسامیاں ختم کی جاچکی ہیں۔ جبکہ 11 ہزار سے زائد موجودہ عملے کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی ختم ہوجائیں گی۔ وفاقی کابینہ نے 2024ء میں تقریباً ایک لاکھ 50 ہزار اسامیاں ختم کرنے کی منظوری دی تھی۔ اتنی تعداد میں اسامیاں ختم ہونے سے بے روزگاری میں اضافہ تو ہوگااور نجی شعبے پر دبائو بڑھے گا جو پہلے ہی مسائل کا شکار ہے۔ گریڈ 16 سے نیچے کے عملے میں کمی پر زیادہ زور ہے۔ وہ یہ طبقہ ہے جس کی وجہ سے غربت میں مزید اضافہ ہوگا۔ پوسٹل لائف انشورنس اور کئی دوسرے محکمے اور ادارے بند کیے جارہے ہیں یا کردیے گئے ہیں۔ اس طرح ایک طرف بیروزگاری بڑھے گی تو دوسری طرف غربت کی شرح میں بھی اضافہ ہوگا۔ ضرورت تو اس بات کی ہے کہ روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں کیونکہ آبادی کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ نوجوانوں کی تعداد میں جنہیں روزگار کی ضرورت ہے، اضافہ ہورہا ہے۔ ہنرمند افرادی قوت بھی بڑھ رہی ہے لیکن اس کیلئے روزگار کے مواقع بہت محدود ہیں۔ لوگ روزی کمانے کیلئے بیرونی ملکوں کا رخ کررہے ہیں۔ کئی ضرورت مند جعلسازوں کے ہتھے چڑھ کر زندگی بھر کی جمع پونجی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ جو چلے جاتے ہیں۔

ان کی ضرورت تو ملک کو بھی ہے مگر یہاں روزگار نہ ہونے سے وہ باہر جانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ مہنگائی نے بھی غربت میں اضافہ کیا ہے۔ لوگوں کی قوت خرید اتنی نہیں رہی کہ گرانی کا مقابلہ کرسکیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے متنبہ کیا ہے کہ جس منصوبے کیلئے حکومت قرض لیتی ہے وہ شروع ہی نہیں ہوتا یا شروع ہوتا ہے تو راستے میں تعطل کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس طرح قرض کی رقم بھی ڈوبتی ہے اور لوگوں کا روزگار بھی ختم ہوتا ہے۔ اس صورت حال پر حکومت کو سنجیدگی سے توجہ دینا ہوگی۔

تازہ ترین