سورج……
’’سورج کی روشنی آٹھ منٹ بعد ہم تک پہنچتی ہے۔
یعنی اگر آج سورج تباہ ہوجائے، مٹ جائے،
تب بھی اگلے آٹھ منٹ تک وہ ہمیں روشن کرتا رہے گا۔‘‘
یہ وہ آخری کہانی تھی، جو میرے بابا نے مجھے سنائی۔
وہ بستر پر دراز تھے، اور میں اُن کے قریب کھڑا تھا۔
’’محبت بھی ایسی ہی روشنی ہے بیٹا، آدمی چلا جاتا ہے،
مگر وہ روشنی اُس کے اپنوں تک پہنچتی رہتی ہے۔‘‘
اس پل تو میں بابا کی بات نہیں سمجھ سکا۔
مگر انکے انتقال کے اگلے روز، جب سورج کی کرنیں
کھڑکی سے ان کے خالی بستر تک پہنچیں،
تو مجھے اِس کہانی کا…مطلب سمجھ میں آگیا۔