• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امدادی پیکیج یا اعانت چاہے رمضان کے مہینے میں غریبوں کیلئے ہو، سیلاب کے زمانے میں اس وقت کے متاثرین کیلئےہو یا کسی اور مشکل میں مبتلا افراد، شہروں یا ملکوں کیلئے ہو۔ اسے صورتحال کی سنگینی کا دبائو کم کرنے کی فوری تدبیر کے طور پر بروئےکار لایا جاتا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے ماہ رمضان المبارک میں غریبوں اور مستحقین کیلئے 38ارب روپے کے جس امدادی پیکیج کا اعلان کیا، وہ سنگین غربت کا دبائو کم کرنے کا وقتی انتظام بھی ہے اور اس عزم کا اظہار بھی کہ ہمیں اپنے وطن کے ہر فرد کو ترقی و خوشحالی کی شاہراہ پر گامزن کرناہے۔ پیکیج کے تحت ایک کروڑ 21لاکھ ضرورت مند خاندانوں کو 13ہزار روپے فی خاندان کے حساب سے مالی اعانت بینک یا ڈیجیٹل طریقے سے دی جارہی ہے، تاکہ رقم شفافیت کے ساتھ فوری طور پر متعلقہ خاندان کو مل جائے۔

یہ امداد جو بہت سے خاندانوں کو مل چکی ہے یا ملنے والی ہے، مفلسی کا مداوا نہیں۔ مداوا اس وقت ممکن ہے جب روزگار کے مواقع بڑھائے جائیں، تعلیم و صحت کے نظام بہتر ہوں اور معیشت مضبوط بنیادوں پر استوار ہو۔ مذکورہ پیکیج میں رقم ترجیحاً خواتین کے نام بھیجنے کی وجہ عالمی طور پر تسلیم شدہ یہ حقیقت ہے کہ گھر کے خاص اخراجات باورچی خانے یا بچوں سے متعلق ہوتے ہیں اور ان کا صحیح مصرف خواتین ہی جانتی ہیں۔ اس انتظام میں خواتین کو بااختیار بنانے کے علاوہ بیوائوں کے تحفظ کا پہلو بھی مضمر ہے۔ بعض خاندانوں کی طرف سے درخواست نہ دیے جانے کے باوجود رقوم کی ترسیل اس حقیقت کی طرف لطیف اشارہ کرتی محسوس ہوتی ہے کہ حکومت کے پاس سب کی مالی حیثیت کا ڈیٹا موجود ہے۔ بینک ٹرانسفر، موبائل والٹس اور بائیو میٹرک تصدیق کے نظام کے ذریعے رقم کی ادائیگی کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ماضی کی طرح لوگوں کو طویل قطاروں میں کھڑے ہوکر اذیت برداشت نہیں کرنا پڑی۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے لے کر پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان کے مختلف شہروںاور مقامات پر صوبائی حکومتوں، شہری انتظامیہ اور تاجروں کے اپنے حلقوں کی طرف سے لگائے گئے رمضان بازاروں کا اہتمام اگرچہ روایت کا درجہ حاصل کرچکا ہے مگر اس بار شعوری طور پر کئی مقامات پر یہ پہلو پیش نظر رکھا گیا کہ ان بازاروں سے بالخصوص غریب اور متوسط طبقے کے لوگوں کو اپنی استطاعت میں رہتے ہوئے ممکنہ طور پر ضروری اشیا کی خریداری میں مدد ملے۔ تاہم عام گھریلو استعمال کی اشیا، سبزیوں، پھلوں کے حوالے سے مہنگائی کی شکایت کچھ بڑھتی محسوس ہوئی۔

یہ یاددہانی ضروری معلوم ہوتی ہے کہ بہت سے خاندانوں کے لیے نئے کپڑوں، جوتوں سمیت بعض ضروری اشیا کے حصول کے لمحات پورے سال میں صرف رمضان کے مہینے میں اس وقت آتے ہیں جب وہ ماہ مبارک میں زکوٰۃ، فطرے، صدقات یا فدیے کی مد میں ملنے والی رقم ہاتھ میں آنے کے باعث کچھ خریدنے کے قابل ہوتے ہیں۔ یہ غریب خاندان اپنے ہاتھ میں آنے والی اس رقم سے خریداری کے لیے رمضان بازار سمیت ہر اس مقام کا جائزہ لیتے ہیں جہاں انہیں سستی اشیاء مل سکتی ہیں۔ رمضان اور عید بازاروں سے ان غریب افراد کو بھی فائدہ ہوتا ہے جنہیں بازار کے آس پاس یا کسی محدود جگہ پر بعض غریبانہ اشیاء مثلاً چاکلیٹس، پلاسٹک کی عینکیں، کھلونے، یا گھریلو دستکاری کے نمونے بیچ کر کچھ کمانے کا موقع مل جاتا ہے۔

وزیراعظم کے رمضان پیکیج کو بعض حلقے کئی حوالوں سے ایک اچھے مستقبل کی طرف پیش رفت کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ مئی 2025ء کو گزرے ابھی ایک سال نہیں ہوا، مگر اس عرصے میں بہت کچھ تبدیل ہوگیا۔ خطے میں طاقت کا توازن جیسا پہلے سمجھا جاتا تھا، حقیقت اس کے برعکس ثابت ہوگئی۔ پاکستان کے قیام کے وقت سے اس کا وجود ختم کرنے کے کھلم کھلا دعوے کرنے والے ملک نے اسلام آباد کی معاشی کیفیت، آئی ایم ایف کی مشکل شرائط کے دبائو، گورننس کے بعض مسائل اور اپنے فراہم کردہ سرمائے و وسائل پر افغانستان میں پلنے والی پراکیسز کی ہر ممکنہ تخریب کاری و دہشت گردی پر بھروسہ کرتے ہوئے 7مئی کی ابتدائی ساعتوں میں اپنا براہ راست چہرہ بھی دکھا دیا، مہم جوئی یا جنگ چوتھے دن امریکی ثالثی میں سیز فائر معاہدے کی صورت میں ختم ہوئی مگر نئی دہلی کی بدترین ہزیمت پہلے گھنٹے میں ہی متعدد طیاروں کی تباہی، بھارتی فوجیوں اور جنگی مراکز پر لہراتے سفید پرچموں کی صورت میں نمایاں ہوگئی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے پاکستان کا نام مٹانے کی اس مذموم کوشش کو بین الاقوامی سطح پر پاکستانی وقار کی بلندی، سفارتی رسوخ، دفاعی و اقتصادی معاہدوں اور جے ایف تھنڈر طیارے کی بارعب رونمائی میں تبدیل کر دیا۔ تیل اور گیس کے نئے خائر کی دریافت اور پاکستانی معدنیات (بالخصوص رئر منرلز) کی دنیا بھر میں مانگ کے علاوہ نیلی معیشت کے وہ راستے پاکستان کے لیے کھول دیے جو ترقی و خوشحالی کی منزلوں کی طرف جاتے ہیں۔ یہ صورتیں ایسے وقت سامنے آئیں جب ایک خاص پیمانے سے جانچ کرنے والی پاکستانی جائزہ غربت کمیٹی خط افلاس سے نیچے جانے والوں کی شرح تقریباً 29فیصد اور دوسرے پیمانے پر جانچنے والا عالمی بینک اس لکیر سے نیچے جانے والوں کی شرح 40فیصد بتا رہا ہے۔ ان اعداد کو ایک دوسرے کے ہم پلہ سمجھا جائے یا مختلف۔ یہ حقیقت واضح ہے کہ ملک کی بڑی آبادی شدید معاشی دبائو کی کیفیت سے دوچار ہے۔ ہمیں اس دبائو سے باہر آنےکیلئے غریب طبقے کو وقتی ریلیف بھی دیناہے، دوست ملک چین کے اپنی بڑی آبادی کو خط غربت سے نکالنے کے تجربے سے بھی استفادہ کرنا ہے۔

دست قدرت نے ہمارے چاروں طرف دولت کے انبار جمع کر دیئے ہیں۔ ان سے فائدہ اٹھانےکیلئے ہمیں دانشوروں اور ماہرین معیشت کے برسوں سے دہرائے جانیوالے ان اسباق پر توجہ دینا ہوگی جو معاشی بہتری و ترقی کی کلید کہلاتے ہیں۔ ان اسباق کا خلاصہ تعلیم، صحت، صنعتی ترقی کے الفاظ میں سما جاتا ہے مگر ہمارے ہاں کے حالات میں بہتر گورننس اور بدعنوانی کے خاتمے کا ذکر بطور خاص ضروری ہو جاتا ہے۔ ہمیں یہ بات سمجھنا ہوگی کہ غربت کا خاتمہ محض اعدادو شمار میں کمی کا نام نہیں۔ ایسی مضبوط اور پیداواری معیشت کی تشکیل سے عبارت ہے، جو سب کیلئے مواقع فراہم کرے۔

تازہ ترین