کچھ تصویریں خبر نہیں ضمیر کی عدالت ہوتی ہیں، تصور کریں ایک ننھی سی بچی کا جسکے ہاتھوں میں زبردستی کی مہندی لگی ہو، آنکھوں میں خوف اور ہونٹوں پر خاموشی ہو...تو کیا یہ شادی ہے؟ یا ایک ایسا معاہدہ جس پر اس نے دستخط تو کئے مگر معنی کبھی سمجھے ہی نہیں؟حکومتِ پنجاب نے کم عمری کی شادی کیخلاف نیا آرڈیننس جاری کیا ہے جسکے تحت 18 سال سے کم عمر لڑکے یا لڑکی کی شادی کو قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے، نکاح رجسٹرار، والدین، سرپرست اور بالغ شریک حیات کیلئے سزائیں متعین کی گئی ہیں، کم عمر بچی کے ساتھ رہائش یا ازدواجی تعلق کوقابل سزاقرار دیا گیا ہے، شادی کیلئے بچی کو صوبے سے باہر لے جانا چائلڈ ٹریفکنگ کے زمرے میں آئیگا، یہ صرف قانون نہیں بلکہ ایک اخلاقی اعلان بھی ہے کہ بچپن کو اب بیچا نہیں جا سکتا ۔ سوچیں جو لڑکا خود روزگار سے محروم ہو، قانونی معاہدے پر دستخط کا اہل نہ ہو، ووٹ کا حق نہ رکھتا ہو، ڈرائیونگ لائسنس نہ لے سکتا ہو تو کیا وہ نکاح کی ذمہ داری اٹھا سکتا ہے؟ کیا ہم ایک ایسے بچے سے توقع رکھ سکتے ہیں جو خود کفیل نہیں کہ وہ کسی اور کا کفیل بن جائے؟ فقہ میں مصلحت اور ضرر سے بچاؤ بنیادی اصول ہیں،جب کم عمری کی شادی نقصان کا سبب بن رہی ہو تو ریاست کا مداخلت کرنا عین شرعی تقاضا ہے۔وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر ایک ایسے موضوع پر قانون بنانے کا فیصلہ کیا گیا جس پر ماضی میں خاموشی اختیار کی گئی، یہ قدم ووٹ کی سیاست سے زیادہ بچیوں کے مستقبل کی سیاست ہے، نئے آرڈیننس میں سزائیں ناقابلِ ضمانت اور ناقابلِ راضی نامہ قرار دی گئی ہیں، سیشن کورٹ کو فوری حکمِ امتناع کا اختیار دیا گیا ہے، یہ صرف خوف پیدا کرنے کیلئے نہیں بلکہ معصوم بچپن کو تحفظ دینے کیلئے ہے۔سوال یہ نہیں کہ قانون سخت ہے یا نرم، سوال یہ ہے کہ کیا ہم اپنے ضمیر کے سامنے نرم ہیں یا سخت؟ ایک معاشرہ صرف اپنی سڑکوں، عمارتوں یا منصوبوں سے نہیں، اپنے بچوں کی مسکراہٹ سے پہچانا جاتا ہے، اگر ہم نے ایک بچی کو اسکول میں رکھا، اسے خواب دیکھنے دیا، اسے خود اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے دیا تو یہی ہماری اصل ترقی ہوگی،کم عمری کی شادی کا خاتمہ کسی ایک جماعت، ایک مسلک یا ایک حکومت کی جیت نہیں، یہ انسانیت کی جیت ہے اور شاید آنے والی نسلیں ہمیں اسی فیصلے پر یاد رکھیں کہ ہم نے بچپن کو بچا لیا تھا۔یہ حقیقت قابلِ تحسین ہے کہ حکومت پنجاب نے قانون کو محض علامتی نہیں رکھا بلکہ اسے سخت اور قابلِ نفاذ بنایا، نکاح رجسٹرار سے لے کر سرپرست تک سب کو جوابدہ ٹھہرانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ریاست اب روایت کے نام پر ظلم کو برداشت کرنےکیلئے تیار نہیں، کم عمر بچی کے ساتھ ازدواجی تعلق کو قابل سزا قرار دینا دراصل یہ اعلان ہے کہ بچپن قابلِ فروخت شے نہیں ریاست اس کی حفاظت کرےگی۔وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ہمیشہ کی طرح ایک اور مشکل راستہ چنا ہے، معاشرتی دباؤ، مذہبی ابہام اور روایتی سوچ کے باوجود کمزور کے حق میں کھڑا ہونا آسان نہیں ہوتا،مگر تاریخ انہی فیصلوں کو یاد رکھتی ہے جو طاقتور روایت کے مقابلے میں معصومیت کا ساتھ دیں، معاشرے نے اگر اس قانون پر خلوصِ نیت سے عمل کیا تو یہ بل محض ایک آرڈیننس نہیں رہے گا بلکہ پنجاب کی سماجی تاریخ میں اصلاح اور شعور کا سنگِ میل ثابت ہوگا، وزیرِ اعلیٰ پنجاب نے اس حساس مسئلے پر سیاست کو نہیں انسانی مصلحت کو ترجیح دی جو ووٹ بینک سے زیادہ بچیوں اور معاشرے کے حق میں بہتر ہے۔آج مریم نواز حکومت نے ایک بچی کے ہاتھ پر زبردستی کی مہندی سے زیادہ اس کے خواب اور اسکی تعلیم کو اہمیت دی ہے، مریم نواز حکومت نے واضح پیغام دیا ہے کہ قانون اب محض نصیحت نہیں رہے گا بلکہ نفاذ کی طاقت رکھتا ہے،کم عمری کی شادی عموماً تعلیم کا خاتمہ بن جاتی ہے، ایک بچی جو اسکول بیگ اٹھائے خواب دیکھ رہی تھی، وہ اچانک گھر کی ذمہ داریوں، حمل اور معاشی انحصار کی زنجیر میں جکڑ دی جاتی ہے، گھریلو تشدد کا خطرہ بڑھتا ہے، فیصلہ سازی میں اس کی آواز کمزور رہتی ہے اور غربت کی نسل در نسل منتقلی کا چکر مضبوط ہو جاتا ہے، مریم نواز حکومت کو خراجِ تحسین پیش کرنااس لیے بھی بنتا ہے کہ نکاح رجسٹرار سے لے کر سرپرست تک سب کو جوابدہ ٹھہرانا اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت محض اعلان نہیں بلکہ اس موثر اور قابل عمل قانون پر سنجیدگی سے عمل بھی چاہتی ہے۔