• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نئی کہانی، نیا فسانہ: پھولوں والی پہاڑی (دوسری قسط)

(مستنصر حسین تارڑ)

مدوّن و مرتب: عرفان جاوید

اُس کا ناتواں باورچی نہایت نفیس ہلکے پُھلکے،پُھلکے ایسے بناتا کہ وہ میرے باپ کے لیے ایک آدھ لقمہ ہی ہوتے کہ وہ ایک شان دار، تنومند، بلند قامت نوجوان ہواکرتاتھا۔ یک دم باورچی خانے سے گرم پھلکوں کی آمد کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔ لکھنوی دوست نے قدرے انتظار کیا اور پھر باورچی کو پکارا کہ’’میاں کہاں مرگئے ہو؟‘‘ تواُس کی منحنی سی آوازآئی۔’’حضرت! آپ نے پہلےسےہمیں خبردار کیوں نہ کیا کہ مہمان پنجاب سے آیا ہے۔

لِلّٰہ ذرا صبر کر لیجیے، مزید آٹا گوندھ رہا ہوں۔‘‘میراباپ یہ قصّے سناتا بےحد مسرور رہتا۔ حقّے کا ایک طویل کش لگا کر اپنے آپ میں مُسکرانے لگتا۔ وہ کلکتہ کی اُس وسیع سرائے کا تذکرہ کرتا، جہاں چنیوٹ سے چمڑے کا کاروبار کرنے والے شیخ حضرات قیام کیا کرتے تھے۔ اُن شیخوں میں چوں کہ اپنے ہندو آباء واجداد کی کاروباری ذہانت اورکنجوسی منتقل ہوچُکی تھی، اس لیےوہ نہایت کام یاب بیوپاری تھے۔ 

ہر شب سرائے میں قیام کرنے والوں کے لیے ایک مشترکہ ہانڈی چولھے پر چڑھتی اور اُس میں بُھونا گیا گوشت بوٹی بوٹی تقسیم کیا جاتا۔ اور ہر ایک کےحصّے میں وہی بوٹی آتی، جسے وہ بصد اہتمام بازارسےخرید کرلایا ہوتا۔ یہ پیچیدہ نظامِ تقسیم کچھ یوں ہوتا کہ ہر چنیوٹی اپنی پسند کے مطابق چھوٹی یا بڑی گول بوٹی یا بکرے کے سینے، ران کی بوٹی خرید کر لاتا اور اُس مشترکہ ہانڈی میں ڈال دیتا، لیکن اِس سے پیش تر اِس خدشے کے تحت کہ کہیں وہ بوٹی کسی اور کی تھالی میں نہ اُتر جائے، اُس کی چربی والی قدرے وزنی بوٹی کسی اورکے حصّے نہ آجائے، وہ اپنی ذاتی بوٹی کےگرد دھاگا باندھ کر کچھ گرہیں لگاتا تھا۔ 

چناں چہ ہانڈی تیار ہونے پراُس میں سے کوئی ایک بوٹی ڈوئی سے برآمد کی جاتی۔ اُس کےگرد بندھےدھاگےکی گرہیں کھول کراُنھیں شمارکیا جاتا اور پھراُسے حق دار کی تھالی میں منتقل کردیا جاتا۔ میرے باپ نے کہانیاں کہتے کہتے اڑیسہ کے ہزاروں برس قدیم ایک ایسے مندر کا قصّہ بیان کیا، جس میں نہایت ہول ناک شکلوں والے جان وَروں کے دل دہلا دینے والے بُت اِستادہ تھے۔ وہ کلکتہ میں قیام کے دوران ایک روز اپنے کچھ ہندو کاروباری دوستوں کے ہم راہ وہاں کی کالی دیوی کے مندرجا نکلا کہ یہ شہر، جیسے لاہور داتا گنج بخشؒ کا شہرکہلاتا ہے، کالی دیوی کا شہر کہلاتا ہے۔ 

اُس قدیم معبد میں کالی کےہول ناک مجسّمے تھے، سُرخ زبانیں لٹکی ہوئیں، گلے میں کھوپڑیوں کے ہار، آنکھیں خُون آلود، لیکن وہاں جو پجاری اور معتقد تھے، وہ اُس کے خون آشام چرنوں سے سر نہ اُٹھاتے۔ میرے باپ نے بھی شاید اِسی ہول میں مبتلا ہوکر ماتا کے چرنوں میں گیندے کے چند پھول رکھ دیے۔ میرا باپ اگر اِن زمانوں میں ہوتا تو شاید قتل کیا جا چُکا ہوتا۔ پر،وہ اِن زمانوں میں ہوتا ہی کیوں، یہ زمانے تو صرف ہمارے مقدرمیں لکھے گئے ہیں۔

حقّے کی ٹوپی میں کڑوے تمباکو اور گڑ کی ڈلی پہ سلگتے چھلکوں پر راکھ کی سُرمئی مُردنی جمنے لگتی، تو اُسےایک اور کش لگانے کے لیے اپنا سانس کھینچنا پڑتا، تب کچھ دیر پہلے نیند سے، وہ اپنی ’’پھولوں والی پہاڑی‘‘ کا قصّہ بیان کرنے لگتا۔ اگرچہ ہم یہ قصّہ باربار سُن چُکے تھے، اِس کے باوجود ہم اِسے ایک اور بار نہایت انہماک اور اشتیاق سے سنتے۔ ’’تمھاری یادداشت میں تو وہ زمانے محفوظ نہیں، جب مٹّی تقسیم نہیں ہوئی تھی۔ اُن زمانوں میں سری نگر سے کچھ فاصلے پر جھیل ڈل کے کناروں پہ پھولوں کے بیج تیار کرنے کے لیے ہمارا ایک وسیع فارم ہوا کرتا تھا کہ وادیٔ کشمیر کے خواب ناک موسم پھولوں کی نمود کے لیے اپنی خنکی اورخوش گواری کے باعث نہایت موزوں ہوا کرتے تھے۔ 

تمھیں تویاد نہ ہوگا۔‘‘اس پر مَیں رضائی سےاپنی ناک کےساتھ پورا سرباہر نکال کرشورمچا دیتا۔ ’’مجھےیاد ہے، مجھے یاد ہے۔‘‘ ’’تمھیں کیا یاد ہے؟‘‘میرا باپ ایسے مُسکراتا جیسے کوئی اور باپ اپنے بیٹے کے لیے کبھی نہ مُسکرایا ہوگا۔ ’’آپ تو مجھے لےکر نہیں جاتے تھے، کہتے تھےمجھے وہاں بہت کام ہوتے ہیں، تمھیں کہاں کہاں لیے پھروں گا اور میری واپسی بھی تین ماہ کے بعد ہوگی تو تمھاری ماں اتنی طویل جدائی کیوں کر سہہ سکے گی تو مجھے ماموں جان لے گئے۔‘‘ ’’ہاں وہ دو تین ہفتوں کے سیرسپاٹے کے لیےگئے تو تمھیں بھی لے گئے۔‘‘ ’’ہاں، ہاں!‘‘مَیں ہیجان میں آجاتا۔ ’’مجھے یاد ہے اور ہم سری نگر سے پہلگام گئے تھے، جہاں ہروقت بادل چھائے رہتے تھے اور ایک پُرشور ندی پر برف کا ایک پُل تھا اور ہم گھوڑوں پر سوار اُس کے پارایک جنگل میں گئے تھے اور اور، اور ہم چنن واڑی میں آپ کے ایک پنڈت دوست کے لکڑی کے گھرمیں ٹھہرے تھے، جس کے اندر ہمہ وقت بادل تیرتے پھرتے تھے۔

گھر کی چوبی گیلری پراُمڈتا ہوا ایک اخروٹ کا چھتنار درخت تھا اور مَیں ماموں جان کے منع کرنےکے باوجود گیلری میں داخل ہوتی اُس کی ایک شاخ پر بندروں کی مانند چڑھ جاتا تھا، ہرے بھرے اخروٹوں کوچھیل کراُن کےاندر جو سفید گِری ہوتی تھی، اُسے کچرکچر کھاتا تھا۔ ایک بار ماموں جان نےمیرا چہرہ دیکھ کر کہا۔ ’’مَیں نے تمھیں منع کیا تھا، کچے اخروٹ نہیں کھانے، پیٹ میں درد ہوگا، توکیوں کھائے؟‘‘ مَیں صاف مُکرگیا۔ ’’نہیں کھائے۔‘‘ اُنھوں نے مجھے ایک زور دار تھپڑ جڑ دیا کہ وہ بچّوں کو زدوکوب کرنےکےماہرتھے،اور مَیں حیران کہ آخر اُنھیں کیسے علم ہوگیا کہ مُیں نےصُبح سویرے کچے اخروٹ کھائے ہیں۔ 

وہ مجھے کان سے پکڑ کر ایک بادلوں کی نمی سے بجھتے آئینے کے سامنے لے گئے۔ میرے ہونٹ رنگے ہوئے تھے، جیسے گاؤں کی عورتیں اپنے ہونٹوں پر سک (دنداسہ) ملتی ہیں۔ پہلگام کے ہوٹل میں جو ویٹر تھا، وہ انگریز تھا، انگریزی بولتا تھا اور…‘‘ اِس دوران بقیہ بچّوں کے صبر کا پیمانہ لب ریز ہو جاتا اور وہ احتجاج کرنے لگتے کہ یہ قصّہ ہم بہت بار سُن چُکے ہیں، تو میرا باپ کہتا۔ 

ایک بار اورسُن لو، کیا حرج ہے اور مَیں اُس کی شہ پاکر پھر شروع ہو جاتا۔ ’’اور جب ہم سری نگر کی ڈل جھیل میں ایک ہاؤس بوٹ میں ٹھہرے تھے اور ایک سجے سنورے شکارے میں جھیل کی سیر کرتے تھے اور آم کھاتے تھے اور مَیں اُن کے چھلکے اور گٹھلیاں جھیل کے پانی میں پھینکتا تھا تو سُرخ مچھلیوں کے غول کے غول اُنہیں نوچنے کے لیے شکارے کے پیچھے چلے آتے تھے اور جب ہمارا شکارا کنول کے ایک آبی جنگل کو چیرتاچلاجاتا تھا تو مَیں نے ایک کنول کو توڑنے کے لیے مُٹھی میں لیا۔ 

مَیں نہیں جانتا تھا کہ اِس کی جڑیں تو جھیل کی اتھاہ گہرائی میں کہیں پوشیدہ ہیں، تووہ کنول کچھ دیر میرے ہاتھ میں رہا اور پھر مجھے ایک زوردار جھٹکا لگا کہ اُس کی جڑکہاں اکھڑسکتی تھی اور مَیں جھیل میں گرتا گرتا بچا۔‘‘’’اب وہ ڈہلیا کے پھولوں والا قصّہ بھی سُناؤ اور ہماری جان چھوڑو۔‘‘میرا چھوٹا بھائی، جو ہمیشہ سے بدتمیز تھا، کبھی لحاظ نہ کرتا تھا کہ میں اُس سے بڑا ہوں، بےزاری سے کہتا۔ ’’ہاں، ہاں سناؤ۔‘‘ میرا باپ میری ہمّت بندھاتا۔ 

مَیں پھر پُر اشتیاق تو ہوتا، پربُجھے دل سے۔ ’’سری نگر کے باہر جو ہمارا فارم تھا، ہم وہاں گئےتو ہمارے موٹے ہندو منیجر صاحب نے ہمیں مٹھائی کھلائی۔ وہاں دو تین ایکڑوں میں صرف ڈہلیا کے پھولوں کی فصل بچھی ہوئی تھی اور وہ اتنے بڑے بڑے تھے کہ منیجرصاحب صرف تین پھول توڑ کر لائے تو وہ گُل دان میں سماتے نہ تھے اتنے بڑے تھے، مجھے یاد ہے۔‘‘’’مجھے قلق ہے کہ مَیں کبھی تمھیں اپنے ساتھ نہ لے جاسکا۔ 

تم چھوٹے بھی تو بہت تھے، مَیں تمھیں تین ماہ تک کیسے سنبھال سکتا تھا۔ تمھاری ماں پل بھر کے لیےتمھاری نظروں سے اوجھل ہوتی، تو تم اچھے بھلے کھیلتے کھلاتے، اودھم مچاتے یک دم دشت میں تنہا رہ جانے والے ہرن کی مانند ہراساں ہوجاتے۔ امّی امّی، پکارنے لگتے۔ اچھا ہوا، ماموں کے ساتھ ہو آئے۔‘‘ میرا باپ میرے سر پر وہی ہتھیلی رکھ دیتا، جس کے لمس سے پژمُردہ گُل بُوٹے جی اُٹھتے تھے اور مَیں بھی توابھی ایک بُوٹا ہی تھا۔ مَیں اپنے آپ کو بڑھتا، سربلند ہوتا محسوس کرنے لگتا، کِھلنے لگتا۔ ’’

میری روانگی کے دن قریب آنے لگتے، تو تیری ماں کو چُپ لگ جاتی۔ گھر میں کھوئی کھوئی پِھرتی، مجھ سے کچھ کلام نہ کرتی، مَیں کشمیرمیں تین ماہ کے قیام کے لیے اپنا بستر بند باندھتا اور دیگرسامان اسٹینڈرڈ لیدر ورکس، انار کلی کے سوٹ کیسوں میں پیک کرتا، تو میری مدد نہ کرتی۔ اُن زمانوں میں لاہور کے آج کے کراؤن سنیما کے برابر میں، نندہ بس سروس کا اڈا تھا، جہاں سے ہر صُبح سری نگر کے لیے ایک خصوصی بس نکلا کرتی۔ 

نندہ بس سروس کا ہندو منیجر بےحد ملن سار اور میٹھی باتوں والا تھا۔ وہ میرے لیے ہمیشہ ڈرائیور کے برابر والی نشست مخصوص کردیا کرتا۔ اِس لیے بھی کہ مَیں راستے میں اُتر جانے والا نہیں، آخری منزل کامسافر ہوتا تھا۔ جوں ہی بس لاہور شہر سے نکل کر راوی پار ہوتی، مَیں ڈرائیور کے ساتھ میل جول بڑھانے لگتا۔ اُس کے بال بچّوں کے بارے میں پوچھتا، اُس کی ڈرائیونگ جیسی بھی ہوتی، اُس کی توصیف کرتا اور پھر اپنے سفر کا پہلا سگریٹ سلگاتے ہوئے اُسے کیپسٹن کا ایک سگریٹ پیش کرتا۔ 

عام لوگ اُن دنوں بیڑیاں پھونکتے تھے، سگریٹ اور وہ بھی کیپسٹن برانڈ کا،صرف صاحبِ حیثیت لوگ ہی پیا کرتے۔ مَیں چوں کہ سُوٹڈ بُوٹڈ ہوتا اور اُس پر اُسے سگریٹ کی پیش کش بھی کرتا، تو وہ مجھ پر مہربان ہوجاتا۔ راستے میں جہاں کہیں مجھے حاجت پیش آتی، بھوک تنگ کرتی، چائے کی طلب ہوتی، مسلسل سفر سے بدن اکڑنے لگتا، وہ بخوشی بس روک دیتا۔ البتہ ایک بار ایک سانحہ ہوگیا۔‘‘ میرا باپ اُس سانحے کو یاد کرتے ایک بچّے کی طرح ہمکنے، ایک کبوتر کی مانند غوں غوں کرنے لگتا۔ اُس کی نیلی آنکھوں سے شرارت بھرے شرارے پُھوٹتے محسوس ہوتے۔ 

اگرچہ ہم خُوب جانتے تھے، وہ سانحہ کیا تھا، اس کے باوجود بھولے بنے بیٹھے رہتے اور معصومیت سے پوچھتے۔ ’’کیا سانحہ ہوا تھا؟‘‘ میرا باپ اپنے پورے تنومند وجود کے اندر کھلکھلا کر کہتا۔ ’’ڈرائیور سِکھ تھا۔ اُس نے میری سگریٹ کی پیش کش کا بُرا تو نہ مانا، لیکن مجھ سے ذرا پرے ہو کر بولا۔ ’’خالصے تمباکو نہیں پیتے مالکو۔‘‘ اور مَیں نے بھی اس طویل سفر کے دوران اُس کے عقیدے کے احترام میں سگریٹ سلگانے سے اجتناب کیا۔ 

دوپہر تک ہم جمّوں کے نواح میں داخل ہو جاتے۔ یہ شہر کبھی میرے دل کو نہ لگا۔ نہ کوئی بُو باس تھی، نہ ہی رہن سہن اور طرزِ تعمیر میں کچھ کشش۔ اور پھرلاہور ہی کی مانند گرمی سے سُلگتا تھا۔ البتہ وہاں پہنچ کرمجھے ہمیشہ ملکہ پکھراج یاد آتی، جو جمّوں کے مہاراجے کے دربار کی ایک بےمثل گائیکہ تھی۔ تقسیم کے بعد وہ اکثر مجھ سے زراعتی مشورے کرنے آیا کرتی۔ اُن دنوں اُس نے موروں کا ایک فارم بنایا ہوا تھا۔ وہ بھی مٹّی سےعشق کرنے والوں میں سے ہے۔ 

پھر درّہ بانہال کی پُرپیچ چڑھائیوں، موڑوں، خطرناکیوں اورگھاٹیوں کا سرکو گھما دینے والا سلسلہ شروع ہوجاتا۔ یہ وہی موت کا درّہ تھا، جس پرڈوگرہ فوجیوں کی کڑی پہرے داری تھی اورجہاں سےموسمِ سرما میں بھوک وافلاس کے مارے، سیکڑوں کشمیری ہاتو (مزدور) فرار ہو کر، محنت مزدوری کی خاطرپنجاب کے میدانوں (امرتسر اور لاہور) کی طرف جانے کی کوشش کرتے تھے، مگر کچھ ڈوگرہ فوجیوں کی سنگینوں میں پروئے جاتے کہ وہ اُن پر گولی ضائع نہ کرتے تھے اور بہت سے بانہال کی برفوں میں دفن ہوجاتے۔ 

ڈوگرہ فوج میں قانون تھا کہ اگر باربرداری کا خچّر بیمار پڑجائے تو اُس کا علاج کرو اور اگر ایک کشمیری بوجھ اٹھانے والا بیمار ہو جائے تو بوجھ اُس کی کمر سے اُتار کر اُسے کسی کھائی یا دریا میں دھکیل دو۔ اب تو شنید ہے، ہندوستان والوں نے اس درّے میں سرنگ لگا کر اُسے وادی سے ملا کے مسافت بہت کم کردی ہے، لیکن تب درّہ بانہال ایک ہول ناک رکاوٹ تھی اور نندہ بس سروس کی ہرموسم میں کوئی نہ کوئی بس بہرطور کسی موڑ پربے قابو ہو کر نیچے گہرائیوں میں جاگرتی تھی۔‘‘

’’بانہال کے پار ہوتے، بس بلندی سے نیچے ہولے ہولے وادی کی سطح پرآتی تو اُس کے اندر سرد موسموں کے سندیسے سرایت کرنے لگتے۔ زعفران کے کشت کی مہک داخل ہونے لگتی۔ پنجاب سے آنے والے مسافروں کے جھلسے ہوئے بدن نیم سرد ہواؤں کے نوبہار قافلوں کی ٹھنڈک سے جی اُٹھتے۔ وہ اپنے ٹین کے ٹرنک اور گٹھریاں کھول کر اُن میں سے اونی پہناوے برآمد کرکے اوڑھ لیتے۔ جھیل ڈل کے کناروں پرایک پرانی طرز کا ’’پنجاب مسلم ہوٹل‘‘ ہوا کرتا تھا، جس کا لاہوری مالک کشمیر میں بھی اپنی خصلت نہ بھولا تھا۔ 

دودھ، دہی کا شوقین تھا اور ہوٹل کے داخلے پرایک تھڑے پہ آلتی پالتی مارے، مہمانوں کے صُبح کے ناشتے کے لیےبذاتِ خُود لسّی رڈھک رہا ہوتا تھا۔ مجھے لسّی یا دہی سے ٹھیٹھ پنجابی ہونے کے باوجود کچھ رغبت نہ تھی، مجھے ان کے استعمال سے بلغم لاحق ہوجاتی تھی۔ مَیں پہلا ہفتہ تو اس ہوٹل میں قیام کرتا اور پھر عین اُس کے سامنے جھیل میں لنگر انداز ہاؤس بوٹ ’’لنڈن ڈریمز‘‘ منتقل ہو جاتا، جو پانیوں پر ہولے ہولے ڈولتا لکڑی کے منقّش گُل بوٹوں اور بیلوں سے مزیّن ایک ایسا عجائب گھر تھا، جس کا کشمیری مالک یاسین بھاٹ انگریزوں کی اتنے عرصے سے مہمان داری کررہا تھا اوراُن کے مزاج کا ایسا شناسا تھا کہ خود بھی کسی حد تک ایک پکّا صاحب ہو چُکا تھا۔ 

ہاؤس بوٹ میں دیسی کھانوں پر مکمل پابندی تھی کہ اُن کے بھوننے، تڑکا لگانے سے جو بُو اُٹھتی ہے، وہ انگریز مہمانوں کو ناگوار گزرتی تھی۔ وہ بڑے فخر سے ایک خصوصی انگلستانی ناشتا پیش کرتا، جو بقول اُس کے نہرِسویز کے اس طرف بہترین انگلش بریک فاسٹ تھا۔ توے پر سینکے گئے ٹوسٹ یا رکشائر مارملیڈ، مکشن اور بیکڈ بینز۔ البتہ وہ قدرے ناگواری سے، اگر کوئی صاحب اصرار کرتا، تو اُس کے لیے ایک عیسائی باورچی سے ہاؤس بوٹ سے کچھ فاصلے پر’’بیکن اینڈ ایگز‘‘ بھی تیارکروالیتا لیکن اُسےخُودنہیں بلکہ باورچی کے ہاتھوں صاحب کے آگے رکھوا دیتا۔

ناشتے کے دوران یاسین بھاٹ مجھ سے مسلسل انگریزی میں گفت گو کرتا رہتا اورہر دوسرے فقرےکےبعد جُھک کرکہتا۔ ’’یورموسٹ اوبیڈئنٹ سرونٹ سَر۔‘‘ وہ میرے رینکن کے سوٹ اور آکسفورڈ شوز سے بھی متاثر ہوتا۔ ناشتے کے بعد مَیں اپنے سیڈ فارم کا رُخ کرتا، جہاں میرا ہندو، حساب کتاب کا ماہر، وفادار اور ایمان دار منیجر میرا منتظر ہوتا اور وہاں کیسی رنگینیٔ نوبہار ہوا کرتی تھی۔ 

جھیل ڈل کے کناروں پر رنگارنگ پھولوں کی فصل ہواؤں کی خنکی میں مست ہوتی، جھومتی، مہکتی۔ وہاں ہزاروں نہیں لاکھوں بُوٹے اور پودے ہوں گے، جن کے سروں پردل کو موہ لینے والی بناوٹوں اور مہکار کے بوجھ ہوا کرتے۔ کیا تم یقین کروگے کہ مَیں اس سیرِچمن کے دوران ہر ایک بُوٹے کو نہ صرف پہچانتا، بلکہ ہر نئی سویر اُن میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو بھی فوراً جان جاتا۔ کل تو نہ تھی آج اِس بُوٹے کے باطن میں سے ایک کلی پُھوٹ رہی ہے اور یہاں ایک کومل کونپل نمودار ہورہی ہے۔‘‘ (جاری ہے)

سنڈے میگزین سے مزید