• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنگ و جدل ازل سے انسانی فطرت میں شامل ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے نے اپنے ہی بھائی کو قتل کرکے اس رسمِ بد کی بنیاد ڈالی۔ پھر چل سو چل۔ انسانی تاریخ بتاتی ہے کہ لاٹھی جس کے ہاتھ میں آگئی بھینسیں اسی کی ہوگئیں۔ ایک زمانہ تھا کہ لاٹھی برطانیہ کے ہاتھ میں تھی۔ پہلی جنگ عظیم کے ہولناک تجربے کے بعد دنیا کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے لیگ آف نیشنز قائم کی گئی مگر وہ دوسری جنگ عظیم کو نہ روک سکی کیونکہ ہٹلر جرمنی کو دنیا کا عظیم ملک بنانا چاہتا تھا۔اٹلی کے مسولینی اور جاپان کے ٹروجیلو نے اس کا ساتھ دیا۔ کروڑوں لوگ مارے گئے۔ دوسری بڑی جنگ کے خاتمے پر یونائیٹڈ نیشنز قائم کی گئی جس کے متفقہ ضابطے چھوٹے بڑے تمام ملکوں کو آزادی اور خودمختاری کی ضمانت دیتے ہیں مگر یہ ضابطے ان کیلئے ہیں جن کے ہاتھوں میں لاٹھی نہیں جو لاٹھی رکھتا ہے اسے سات خون معاف ہیں۔ آج صورتحال یہ ہے کہ تیسری عالمگیر جنگ کا طبل بج چکا ہے۔ اقوام متحدہ عملاً ختم ہوگئی ہے۔ اس کے فیصلے لاٹھی والےکے ہاتھ میں ہیں اور اس نے اپنے ملک کو عظیم تر بنانے کیلئے لاٹھی تیزی سے گھمانا شر وع کردی ہے جو بھی سامنے آیا، اس کی خیر نہیں۔ پہلے اس نے کینیڈا، میکسیکو اور گرین لینڈ پر ہاتھ صاف کرنا چاہا، انہوں نے انکار کردیا اور یورپی یونین بھی آڑے آگئی انہیں اپنے غضب سے ڈرانے کیلئے لاٹھی والے نے وینزویلا پر قبضہ کرلیا جو ایک خودمختار ملک تھا۔ اس کے صدر کو بیوی سمیت گرفتار کرکے اپنے ملک میں لے آیا۔ اب ان کی قسمت کا فیصلہ اسکی عدالت کرے گی۔ کیوبا پر بھی اس کی نظر ہے، دیکھیں کب اس کے قبضے میں آتا ہے۔

لاٹھی والے نے اپنے لے پالک اسرائیل کی فرمائش پر توجہ اسلامی ملکوں کی طرف کرلی ہے۔ د وسر ی جنگ عظیم کےنتیجے میں فلسطین کی سرزمین پر زبردستی قائم کی جانے والی یہ ناجائز ریاست امریکی سرمائے، امریکی اسلحے اور امریکی حمایت سے پورے مشرق وسطیٰ پر قبضے کا خواب دیکھ رہی ہے یہ خواب اسے تل ابیب میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی نے بھی دکھایا ہے جو کہتا ہے کہ دریائے نیل سے فرات تک کی زمین خدا نے اسرائیلیوں کو دی ہے اور اسے اس پورے خطے پر قبضے کا حق ہے۔ اسرائیل نے اگر لبنان، شام، عراق، سعودی عرب، اردن، لیبیا اور مصر پر قبضہ کرلیا تو امریکا کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ ہکابی کو لاٹھی والے نے پچھلے سال اسرائیل میں اپنا سفیر مقرر کیا تھا اس لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ ایسی بات اپنے سرپرست کی منظوری کے بغیر کہہ دے۔

لاٹھی والا بڑی چالاکی اور ہوشیاری سے اپنی لاٹھی چاروں طرف گھما رہا ہے جو بھی اس کی زد میں آجائے۔ اس کی ضرب سے محفوظ نہیں۔ دنیا میں ہاہاکار مچی ہوئی ہے، مظاہرے ہورہے ہیں، احتجاج ہورہا ہے، امریکی قونصل خانوں کے سامنے نعرہ بازی ہورہی ہے، مظاہرے کرنے والے مررہے ہیں، زخمی ہورہے ہیں، مگر لاٹھی والے کو کوئی پروا نہیں، وہ اپنے دوست اور دشمن پر کڑی نظر رکھتا ہے۔الیکشن میں اس کے خلاف بھارتی نسل کی ایک عورت کھڑی تھی ۔ لاٹھی والے نے اپنا غصہ بھارت پر نکالا اور اس پر ٹیرف بڑھادیا، ساتھ ہی پاکستان سے محبت بھری باتیں کرنے لگا اس کے دو مقاصد تھے، ایک بھارت کو جلانا اور دوسرا یہ کہ مستقبل میں اس نے ایران پر جو حملہ کرنا تھا اس سے قبل ایک ایٹمی اسلامی ریاست کو اس سے دور رکھنا۔

اسرائیل اور امریکا نے ایران پر جس جارحیت کا ارتکاب کیا ہے یہ اسی پلاننگ کا حصہ ہے۔ یہ حملہ ایسے وقت کیا گیا جب جنیوا میں دونوں ملکوں کے درمیان ثالثوں کی موجودگی میں پرامن مذاکرات کے ذریعے باہمی تنازعات کا حل تلاش کیاجارہا تھا۔سب کا یہی کہنا تھا اور فریقین کا بھی ماننا تھا کہ سمجھوتہ بس ہونے ہی والا ہے۔ مگر اس دوران سمجھوتے کی بجائے حملہ ہوگیا۔ ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای سمیت اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت کے اہم ستون گرادیئے گئے، دنیا بھر نے اس حملے کی شدید مذمت کی اور مذاکرات پر زور دیا مگر لاٹھی والے نے سب کو دھتکار دیا۔ رستم اور سہراب کی سرزمین اس وقت بے گناہوں کے خون سے سرخ ہے، ایران کی حکومت نے جواب میں مشرق وسطی کے اسلامی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر میزائل برسائے اور اسرائیل کو بھی نشانہ بنایا۔ متاثرہ اسلامی ممالک اب ایران پر برہم ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہماری تو تمہارے ساتھ کوئی جنگ نہیں پھر ہمیں کیوں ماررہے ہو۔ لاٹھی والا یہ تماشا دیکھ رہا ہے اور خوش ہورہاہے کہ اس نے مسلم ممالک کو ایک دوسرے کیخلاف کھڑا کردیا ہے یہی اس کی اصل منشا بھی تھی۔ اب جنگ رک بھی گئی تو یہ ممالک ایران کو اپنا دشمن ہی سمجھیں گے، یہ نہیں دیکھیں گے کہ انہوں نے لاٹھی والے کو اپنے علاقوں میں اڈے کیوں بنانے دیئے جہاں سے وہ نہ صرف عالم اسلام کو کنٹرول کرتا ہے بلکہ دنیا کے دوسرے ملکوں پر حملوں میں بھی انہیں استعمال کرے گا۔

ایران پر حملوں کی منصوبہ بندی سے پہلے اسرائیلی وزیراعظم واشنگٹن گیا تھا پھر بھارتی وزیراعظم مودی اسرائیل گیا اس دوران سارے راز و نیاز ہوئے اور کھچڑی پک گئی۔ مودی کو پچھلے سال پاکستان سے لڑائی میں جو شکست ہوئی اس کےزخم چین نہیں لینے دیتے اس نے اسرائیل کا مکمل ساتھ دینے کا وعدہ کیا اور یہ بھی نہ سوچا کہ جس ایران کیخلاف جارحیت کا ڈول ڈالا جارہا ہے وہ بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ ایران کی چا بہار بندرگاہ میں بھارت بھی شراکت دار تھا مگرتازہ صورتحال کے تناظر میں اس نے اپنی شراکت ختم کردی۔ لاٹھی والے کی بھی لگتا ہے کہ مودی سے مصنوعی خفگی ختم ہوگئی ہے کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کے نئے معاہدے ہوگئے ہیں اور لاٹھی و الے نے بھارت پر ٹیرف کی شرح کم کردی ہے۔

پاک افغان تنازعے کے پس منظر میں کوئی بعید نہیں کہ بھارت بھی ایک بار پھر پاکستان پر چڑھ دوڑے۔ پاکستان کواسی تناظر میں امریکا اور دوسری بڑی طاقتوں سے متوازن تعلقات قائم رکھنے کی کوشش کرنا ہوگی اور اپنے دفاع سے ایک لمحہ بھی توجہ نہیں ہٹانا ہوگی۔جہاں تک تیسری عالمی جنگ کے خطرے کا تعلق ہے تو امر ربانی ہے’ہر کمالِ رازَوال ‘۔برطانیہ عظمی پر کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا لیکن اب طلوع ہوتے ہوئے بھی دیر لگاتا ہے۔ آج لاٹھی اگر کسی کے ہاتھ میں ہے تو کون جانے کل کس کے ہاتھ میں ہوگی۔ لاٹھی والے کو لاٹھی کا استعمال کرتے ہوئے اللّٰہ تعالیٰ کے غضب سے بھی ڈرنا چاہئے۔

نہ جا اس کے تحمل پر کہ بے ڈھب ہے گرفت اس کی

ڈر اس کی دیر گیری سے کہ ہے سخت انتقام اس کا

تازہ ترین