27 فروری کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اسرائیل کا دورہ کیا۔یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر تھی اور خطے میں جنگ کے بادل منڈلا رہے تھے۔ نریندر مودی اور نیتن یاہو کے درمیان یہ کوئی عام ملاقات نہ تھی بلکہ اس میں اسرائیلی وزیراعظم نے ایران پر حملے کے حوالے سے بھارتی وزیراعظم کو اعتماد میں لے کر اپنے منصوبے میں شامل کرنا تھا۔ ملاقات میں یہ طے پایا کہ بھارت، طالبان حکومت پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے انہیں پاکستان پر حملے کیلئے آمادہ کرے تاکہ پاکستان، طالبان کے ساتھ انگیج ہوجائے اور ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے کی صورت میں اُس کی مدد کو نہ آسکے کیونکہ اسرائیل کو یہ علم تھا کہ گزشتہ اسرائیل، ایران جنگ میں پاکستان نے ایران کو ہر ممکن مدد فراہم کی تھی۔ اس طرح منصوبہ بندی کے تحت بھارت کی پراکسی طالبان حکومت نے 28 فروری کو رات کی تاریکی میں پاکستان پر اچانک حملہ کردیا اور ہماری فوج کی پوری توجہ افغانستان کے ساتھ مغربی محاذ پر مرکوز ہوگئی۔ اس طرح ایران، اسرائیل کے خلاف جنگ میں تنہا رہ گیا اور پہلے ہی اسرائیلی حملے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سینئر عسکری قیادت سمیت شہید ہوگئے۔
اطلاعات ہیں کہ امریکی سی آئی اے گزشتہ کئی ماہ سے ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کی جاسوسی کررہی تھی جبکہ اسرائیل نے کئی سال سے تہران کے سیف سٹی کیمروں کو ہیک اور موبائل نیٹ ورکس کے ٹاورز پر کنٹرول حاصل کررکھا تھاجن سے خامنہ ای کے محافظوں اور ڈرائیوروں کی نقل و حرکت کی نگرانی کی جاتی تھی۔ ان ذرائع سے امریکہ اور اسرائیل کو یہ معلومات حاصل ہوئیں کہ ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای ہفتے کی صبح عسکری قیادت کے ساتھ اہم میٹنگ کرنے جارہے ہیں۔ ایران کو آخر وقت تک یہ غلط فہمی تھی کہ اس پر حملہ رات کی تاریکی میں ہوگا، اس طرح اسرائیل نے صبح 9 بجکر 40 منٹ پر ایرانی سپریم لیڈر کے کمپائونڈ کو نشانہ بنایا۔ حملے کے وقت ایران کی عسکری قیادت کے علاوہ قومی سلامتی کے اعلیٰ حکام بھی میٹنگ میں شریک تھے جو خامنہ ای کے ساتھ شہید ہوگئے۔
بھارتی وزیراعظم کے حالیہ دورہ اسرائیل میں نریندر مودی اور نیتن یاہو کے درمیان 6 ملکی سیکورٹی اتحاد قائم کرنے پر بھی اتفاق رائے ہوا اور اس اتحاد میں اسرائیل، بھارت، یونان، قبرص، متحدہ عرب امارا ت اور صومالی لینڈ جیسے ممالک کو شامل کرنے کے حوالے سے منصوبے کو حتمی شکل دی گئی۔ اسرائیلی حکومت کی ویب سائٹ پر اس اتحاد کو الائنس آف Hexagonale (یعنی 6 کونوں والا ستارہ) کا نام دیا گیا ہے جو خطے میں بڑھتے ہوئے اسرائیلی توسیع پسندانہ عزائم کا حصہ ہوگا۔ بھارتی اور اسرائیلی پیشرفت کو پاکستان سمیت دیگر علاقائی ممالک ترکی اور سعودی عرب کیلئے خطرہ تصور کیا جارہا ہے، اسرائیل تیزی سے اپنے عزائم کی طرف بڑھ رہا ہے، پاکستان وہ واحد نیوکلیئر اسلامی ملک ہے جسے اسرائیل اپنے جارحانہ عزائم میں بڑی رکاوٹ اور خطرہ تصور کرتا ہے جبکہ پاک سعودیہ حالیہ دفاعی معاہدے جس میں پاکستان نے سعودی عرب کو نیوکلیئر چھتری فراہم کی ہے، کے بعد اسرائیل، بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف عمل ہے۔ اسرائیلی وزیراعظم پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل، ایران اور پاکستان کو اپنے لئے خطرہ تصور کرتا ہے۔ حال ہی میں ایک سابق اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ’’خطے میں ایک نیا محور ابھر رہا ہے جس میں ترکی، قطر، سعودی عرب اور ایٹمی ہتھیاروں سے لیس پاکستان شامل ہے، یہ اتحاد اسرائیل کے خلاف دشمنی کو ہوا دے رہا ہے اور اسرائیل کیلئے نیا خطرہ بن کر ابھرا ہے۔‘‘
سابق اسرائیلی وزیراعظم کے بیان سے یہ بات خارج از امکان نہیں کہ ایران کے بعد اسرائیل بھارت اتحاد سے پاکستان کی سیکورٹی کیلئے سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں تاہم ایسی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ہماری افواج ہر لمحہ تیارہیں۔ افغانستان جس نے بھارت کی ایما پر پاکستان پر حملہ کیا تھا، اسے پاک فوج نے وہ سبق سکھایا ہے جو وہ ہمیشہ یاد رکھے گا اور اب طالبان حکومت، قطر اور دیگر ثالثی ممالک کی منتیں کررہی ہے کہ پاکستان کو سیز فائر پر آمادہ کیا جائے۔
ایران کے سپریم لیڈر خامنہ ای کی عمر 86 سال تھی اور وہ کینسر کے مرض میں مبتلا تھے۔ جنگی صورتحال کے پیش نظر خامنہ ای کی سیکورٹی نے ان سے درخواست کی تھی کہ وہ کچھ عرصے کیلئے بنکرز میں منتقل ہوجائیں لیکن خامنہ ای نے صاف انکار کردیا تھا۔ بظاہر خامنہ ای کی خواہش تھی کہ وہ رمضان المبارک میں شہادت کا رتبہ حاصل کریں۔ جب ان کی شہادت ہوئی تو وہ روزے تھے اور یوں انہیں شہادت کا وہ اعلیٰ مقام حاصل ہوا جو خوش نصیب لوگوں کو ملتا ہے۔ خامنہ ای کو یہ معلوم تھا کہ ان کی شہادت منتشر ایرانی قوم کو متحد کردے گی اور ایران کی موجودہ صورتحال نے اس بات کو درست ثابت کردیا ہے۔ آج ایرانی قوم پہلے سے زیادہ یکجہتی کا مظاہرہ کررہی ہے اور امریکہ، اسرائیل نے ایران میں جس رجیم چینج کا خواب دیکھا تھا، وہ شرمندہ تعبیر ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ اس طرح خامنہ ای نے اپنی جان کی قربانی دے کر قوم کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کردیا ہے اور ان کی شہادت کے بعد ان کی فکر اور بیانیہ امریکہ اور اسرائیل کیلئے پہلے سے زیادہ خطرناک ثابت ہورہا ہے۔