• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا پر امریکی چوہدراہٹ کی ضد نے اس وقت پوری دنیا کو ایک نئی جنگ میں دھکیل دیا ہے۔ایران پر اسرائیلی و امریکی حملے سےڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے ارادے کھل کر سامنے آگئے۔دوسری جانب پاکستان بھی حالت جنگ میں ہے ،افغانستان کی جانب سے بھارتی پشت پناہی پر پاکستان میں دہشت گردحملےکا جس انداز میں پاکستان کے سیکورٹی اداروں نے بھرپورجواب دیا ہے وہ افغان عوام اور حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے۔رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کی امریکی و صہیونی فضائی حملے میں شہادت نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو نہ صرف افسردہ کردیا بلکہ انہیں امریکی اور اسرائیلی اقوام کے خلاف یکجا بھی کردیا، امریکااوراسرائیل نے جدیدترین اورانتہائی خطرناک میزائلوں اور لڑاکا طیاروں سے ایران پر اقوام متحدہ کے چارٹرکی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلاجواز اور بلااشتعال تابڑتوڑ حملوں کانہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کیا جسکے نتیجے میں ہزاروں کی تعداد میں مرد، عورتیں، بچے اوربچیاں شہید وزخمی ہوگئے۔ انہی میزائل اورجنگی طیاروں کے حملوں کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای بھی اپنے قریبی ساتھیوں، رہنماؤں اور اہل خانہ کے ہمراہ شہید ہوئے۔ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت صرف ایران کے عوام کاہی بڑا نقصان نہیں بلکہ پوری ملت اسلامیہ کاعظیم نقصان بھی ہے۔ وہ نہ صرف ایک جیّد عالم دین تھے بلکہ ایک آزادوخودمختارملک ایران کے سپریم لیڈر بھی تھے۔ انہوں نے 1989ء سے اپنی شہادت تک یعنی 37برس تک کڑے سے کڑے حالات، مشکلات اورجبراً لگائی گئی سخت بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود جس طرح ایران کے عوام کی رہنمائی کی اس کی دنیابھرمیں کوئی مثال نہیں ملتی۔یہ ایران کی تاریخ کا ایک اہم لمحہ ہے اس طرح کے نقصان کے گہرے جذباتی، سیاسی اور قومی اثرات ہوتے ہیں۔ایرانی قوم اس ناقابل تلافی نقصان کا مقابلہ کرنے کی ہمت اور استقامت دکھا رہی ہے۔ بہت جلد امریکی عوام، اور ان کے رہنمائوں کواس بات کا احساس ہوجائے گا کہ اسرائیل نے ڈونلڈ ٹرمپ کو استعمال کر کے دنیا بھر میں امریکا کے خلاف نفرت کی نئی لکیر کھینچ دی ہے۔ جن جن ملکوں میں امریکی اڈے تھے وہ حالیہ جنگ میں بری طرح بے نقاب ہوگئے ہیں، خود ان ملکوں کے عوام اب اپنے مسلم حکمرانوں سے سوال کررہے ہیں کہ ان اڈوں کا کیا فائدہ جن کی وجہ سے ہم خوف کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔ اس وقت یہ بات طے ہوگئی ہے کہ اگر مسلم حکمرانوں نے خود کو ایک پلیٹ فارم میں اکٹھا نہیں کیا تو کوئی بھی محفوظ نہیں رہ سکے گا۔اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کا متنازع بیان امت مسلمہ کو جگانے کیلئے بہت اہم ہے کہ مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک گریٹراسرائیل کا حصہ ہیں۔مسلمانوں کے خلاف اس وقت امریکا، اسرائیل اور انڈیا کا اتحاد کھل کرسامنے آگیا ہے۔اسرائیلی فوج کے افسر اسٹیو کوہن نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائی صرف مغرب کی جانب سے نہیں بلکہ اس میں بھارتی ایما بھی شامل ہے۔ اسرائیلی فوج کے افسر نے بھارت کو اسرائیل کا قریبی اتحادی قرار دیا۔ دنیا بھر میں امریکی اور اسرائیلی حکمرانوں کو ایران پر حملے کے خلاف سخت نفرت کا سامناہے جس کااظہار عوامی مظاہروں میں کیا جارہا ہے،عالمی سطح پرحالات خاصے خطرناک ہوگئے ہیںدیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں نتائج کیا نکلتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں تضادات شدید سے شدید تر ہوتے نظر آرہے ہیں۔ عراق اور کویت کا تنازع بھی اپنی جگہ ہے۔ یمن کا کیا ہوگا؟ اس کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔عالمی ایجنڈے کے تحت دنیا بھر میں مسلمانوں کو لڑ وایا جارہا ہے۔موجودہ صورت حال میں اقوام متحدہ کا کردار ختم ہوچکاہے۔ اسلامی ملکوں کیلئے اپنی اقوام متحدہ ، اپنی کرنسی اور اپنا بینک بنانے کا وقت آگیا ہے۔ جب تک مسلم امہ یکجا نہیں ہوگی، عالم اسلام کو اسی قسم کی تباہی اور جنگوں کا سامنا رہے گا۔ افغان حکومت کو اسلامی ملک ہونے کے ناطے اپنے تعلقات پاکستان سے بہتر بنانے چاہئیں، بھارت اور اسرائیل کوپاکستان کے خلاف دہشت گردی کیلئے اپنی سرزمین فراہم کرنا افسوس ناک عمل ہے۔ پاکستان نے مشکل حالات میں افغان عوام کا ساتھ دیا جسکی بھاری جانی اور مالی قیمت بھی ادا کی مگر افغان حکمرانوں نے یکسر ہماری قربانیوں اور تعاون کو فراموش کردیا۔پاکستان کے ساتھ جنگ افغان حکومت اور عوام کے مفاد میں ہر گز نہیں، بات چیت سے مسئلہ کا مثبت حل نکالا جائے۔ مارچ یوم پاکستان کا مہینہ ہے،جس میں اس مملکت خداداد کے قیام کی قرارداد پیش کی گئی، یہ ریاست ہمارے بانیان اور تحریکِ پاکستان کے کارکنوں کی عظیم قربانیوں اور انتھک محنت کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ ملک کو اس وقت سیاسی، معاشی اور سیکورٹی کے بڑے چیلنجز ، پیچیدہ عالمی حالات ، معاشی دباؤ سے نمٹنے اور پائیدار ترقی کےسخت امتحان کا سامنا ہے۔ہم دہشت گردی جیسے عفریت کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ قراردادِ پاکستان کی روح ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ کامیابی کے حصول کیلئے اتحاد، ایمان اور تنظیم کو مشعل راہ بنانا چاہیے۔ ہمارا سفر مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔ وہی جذبہ جس نے پاکستان کو وجود بخشا، ہمیں ایک روشن مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔موجودہ تناظر میں اگرہمارے سیاسی رہنما باہمی مذاکرات کے ذریعے سیاست کی موجودہ شکل کوتبدیل کر دیں جو ہماری معیشت کیلئے موزوں ہو تو آنے والے چند برسوں میں پاکستان کا غیرملکی مالی وسائل پر انحصار ختم ہو سکتا ہے۔پاکستان کے اپنے سیاسی اور معاشی فیصلے کرنے کی خودمختاری میں بھی اضافہ ہوگا اور پاکستان ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کیلئے ایک پُرکشش ملک بن جائیگا۔موجودہ عالمی حالات میں پاکستان کو سنبھل کر فیصلے کرنا ہوں گے،عالمی طاقتوںکے نشانے پر ہم بھی ہیں،جو صرف ہمارےایٹمی ملک ہونے کی وجہ سے ہمارے خلاف صرف پراکسی وار تک محدود ہیں۔

تازہ ترین