• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان کے ساتھ کیا کر رہا ہے اس کے ثبوتوں کے بارے میں تو سب جانتے ہیں ۔اب امریکا اور اسرائیل مشرقِ وسطیٰ میں مسلمان ممالک کو لڑانے کیلئے کیا جو گھناؤنا کھیل کھیل رہے ہیں اُس کے بھی کچھ ثبوت ملاحظہ فرما لیں ۔ ایران پر امریکی اوراسرائیلی حملوں کے بعد جو صورتحال بنی ہے، وہ محض ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ ایک بڑی سازش ہے جس کا ہدف مسلم ممالک کے درمیان بداعتمادی، خوف اور تصادم کو ہوا دینا ہے۔ میں آپ کے سامنے چند خبروں کا ذکر کرتا ہوں، فیصلہ آپ خود کر لیں۔

ایک خبر کے مطابق امریکا کے قدامت پسند معروف ایکٹیوسٹ ٹوکر کارلسن نے اپنے حالیہ بیان میں دعویٰ کیا ہےکہ قطر اور سعودی عرب میں مبینہ طور پر اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ایجنٹس کو گرفتار کیا گیا، جو دونوں ممالک میں بم دھماکوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ کارلسن نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل صرف ایران ہی نہیں بلکہ قطر، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور عمان کو بھی نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔

دوسری اہم خبر سعودی عرب کی جانب سے اس دعوے کی سختی سے تردید ہے کہ اس نے امریکی صدر ٹرمپ کے ایران پر حملے کیلئےلابنگ کی۔ سعودی سفارتخانے کے ترجمان نے واضح کیا کہ مملکت مسلسل سفارتی حل کی حامی رہی ہے۔ یہ بیان امریکہ کے اہم ترین اخبار واشنگٹن پوسٹ کی اس رپورٹ کے ردعمل میں آیا جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل اور سعودی عرب کی ہفتوں پر محیط لابنگ کے بعد صدر ٹرمپ نے ایران پر حملے کا فیصلہ کیا۔ اگر سعودی عرب واقعی اس پالیسی کا حصہ نہیں تھا تو پھر یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ کون خطے کو ایران بمقابلہ عرب ریاستوں کی جنگ کی طرف دھکیل رہا۔

تیسری خبر کے مطابق ایران کے نائب وزیر خارجہ نے CNN کو انٹرویو دیتے ہوئے واضح طور پر تردید کی کہ سعودی تیل تنصیبات پر حملے میں تہران کا کوئی ہاتھ تھا۔ یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب سعودی عرب میں سب سے بڑے Oil field کو ڈرون حملے سے نقصان پہنچا۔ دنیا نے یہی سمجھا اور رپورٹ کیا کہ یہ حملہ بھی ایران کی طرف سے کیا گیا۔لیکن ایران کی فوری تردید اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ تہران کم از کم خلیجی ممالک کے ساتھ براہِ راست تصادم سے گریز چاہتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ایسے واقعات کے پیچھے کون سے عناصر کارفرما ہیں جو ایران اور عرب ممالک کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کرنا چاہتے ہیں؟

تازہ ترین