سندھ کے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے حال ہی میں کراچی میں نیپا چورنگی پرکے فور واٹر پراجیکٹ کا جائزہ لیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ منصوبے کی جلد تکمیل کیلئے کام کی رفتار مزید تیز کی جائے۔ صوبائی وزیر اعلیٰ متذ کرہ منصوبے پر مسلسل توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں اور قبل ازیں بھی مختلف مواقع پر اس کی بروقت تکمیل کی ضرورت اجاگر کرتے رہے ہیں۔کے فور منصوبے کا مقصد کینجھر جھیل سے کراچی کو روزانہ 260 ملین گیلن پانی فراہم کرنا ہے۔ وزیراعلیٰ کی ہدایات سے واضح ہے کہ حکومت اس منصوبے کو 2026 کے آخر تک مکمل کرنے کی خواہاں ہے اور اس باب میں پیش رفت پر پوری نظر رکھے ہوئے ہے۔ یہ منصوبہ محض ایک ترقیاتی اسکیم نہیں بلکہ کراچی کے مستقبل، اس کی بڑھتی ہوئی آبادی کی ضروریات ، اور معاشی سرگرمیوں کے تسلسل کیلئےبنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ اس وقت کی صورت حال یہ ہے کہ شہر کے کئی علاقوں میں نلکوں سے پانی کی فراہمی محدود اور غیر منظم ہے جسکے باعث شہریوں کی ایک بڑی تعداد مجبور ہے کہ متبادل ذرائع پر انحصار کرے۔ کچی بستیوں میں رہنے والے مزدور اس صورت حال سے شدید متاثر ہیں۔گدھا گاڑی پر ٹنکی رکھ کر پانی فراہم کرنے والوں سے من مانے ریٹ پر پانی خریدنے کے سوا اُن کے پاس کوئی چارہ نہیں۔ مزدور پیشہ اور پسے ہوئے طبقے کیلئے پانی کی قلّت اور مہنگائی پریشان کُن ہے جبکہ شہر کے دوسرے علاقوں بالخصوص فلیٹوں والی آبادیوں کے مکین بھی بار بار پانی بند ہونے ، پائپ لائنوں میں کم پانی آنے کے شاکی ہیں۔ ایسے عالم میں کہ شہریوں کی یومیہ ضرورت کا تخمینہ بارہ ملین اور سپلائی 500 سے 650 ملین گیلن کے درمیان ہو، شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی میں مسلسل اضافے کی صورت حال پانی کی طلب اور دستیابی کے درمیان فرق میں ہر روز اضافے کا موجب بن رہی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کا کے فور واٹر پراجیکٹ کی بروقت تکمیل پر بار بار زور مذکورہ کیفیت کی تشویش انگیزی ظاہر کرتا ہے۔
ایک لحاظ سے دیکھا جائے تو دنیا کے کئی ملکوں کی آبادی سے زیادہ لوگوں کی مکانیت کا حامل شہر کراچی آبی ضروریات کے حوالے سے ملک کے بیشتر شہروں کی نمائندگی کرتا ہے۔ لاہور کے شہری زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک نیچے جانے ، ٹیوب ویلوں کے بڑھتے استعمال ، شہری توسیع اور مستقل مانگ کے دبائو کے باعث پانی کی قلّت کا سامنا کررہے ہیں۔ اسلام آباد میں بڑھتی آبادی، تیزی سے بلند ہوتی عمودی تعمیرات نے آبی منصوبہ بندی کی کیفیت کو مشکل صورتحال سے دوچار کردیا ہے۔ کوئٹہ، جہاں آبی منصوبے کی بہتری کی کسی زمانے میں مثال دی جاتی تھی ، زیر زمین پانی کے ذخائر کے تیزی سے خاتمے کی طرف بڑھنے کے سگنل دے رہا ہے۔ پشاور پانی کی قلت اور اضافی پانی دونوں صورتوں کے منفی اثرات سے دوچار ہے۔ اس شہر میں بارش اور پہاڑی ریلے انفراسٹرکچر پر اثرانداز ہو کر نکاسیِ آب اور شہری سہولتوں کے نظام کو متاثر کرنے کا ذریعہ بنتے رہتے ہیں۔ حیددآباد سمیت اندرونِ سندھ پینے کے پانی کی فراہمی کا مسئلہ آبادیوں کے بیشتر لوگوں کیلئے تشویش کا سبب بنا ہوا ہے۔ فیصل آباد اور کئی دیگر شہروں میں یہ کیفیت الگ الگ صورتوں میں سر ابھار کر پینے کے صاف پانی کی ضرورت اجاگر کرتی اور شہری معمولات پر اثر انداز ہوتی نظر آرہی ہے۔
اگرچہ ہر صوبے اور شہر کی انتظامیہ اپنے اپنے مسائل سے نمٹنے کی ممکنہ کوششوں میں مصروف ہے۔ مگر پانی کی کمیابی کی صورتحال کا پھیلائو واضح کررہا ہے کہ مذکورہ مسائل مقامی نوعیت کے حامل نہیں رہے، وسیع قومی چیلنج بن چکےہیں۔بڑھتی ہوئی آبادی، صنعتی و زرعی ضروریات اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ملک بھر میں پانی کی فراہمی اور طلب کے درمیان فرق مسلسل بڑھارہے ہیں۔اس فرق کو کم کرنے اور پانی کے وسائل موثر طور پر استعمال کرنے کیلئےضروری معلوم ہوتا ہے کہ مرکز اور صوبے مشترکہ و مربوط حکمت عملی بروئے کار لائیں ۔ اس باب میں زیر تعمیر ڈیموں اور ذخائر کی تکمیل ترجیحی اہمیت کی حامل ہے۔ملک کے مختلف حصّوں میں چھوٹے اور درمیانہ درجے کے آبی ذخائر، چیک ڈیم اور برساتی پانی کا ذخیرہ کرنے کے منصوبے قائم کئے جائیں تاکہ پانی ضائع نہ ہو اور زیرزمین ذخائر کو ری چارج کیا جاسکے۔ شہری علاقوں میں پانی کی تقسیم کے نظام کی اصلاح نا گزیر ہے۔ پرانی اور بوسیدہ پائپ لائنوں کی مرمت و تبدیلی، لیکیج کنٹرول سسٹمز، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور غیر قانونی کنکشنوں کی روک تھام کے ذریعے پانی کی فراہمی منظم و موثر بنائی جائے۔ اس کے ساتھ زیر زمین پانی کے بے ہنگم استعمال کو باقاعدہ رجسٹریشن اور ریگولیشن کے ذریعے منظم کیا جانا ضروری ہے تاکہ آبی ذخائر مستقل نقصان سے محفوظ رہیں۔ صنعتی شعبے میں واٹر ری سائیکلنگ اور ٹریٹمنٹ پلانٹس کو لازمی قرار دینا اور زرعی شعبے میں جدید آب پاشی نظام کو فروغ دینا پانی کا موثر استعمال یقینی بنانے کے نا گزیر اقدامات ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کے اس دور کی اہم ضروریات میں سیلاب اور بارش کے غیر متوقع اثرات سے نمٹنے کیلئے حفاظتی اقدامات، فلڈ مینجمنٹ اور ریسکیو پلان کو جدید خطوط پر استوار کرنا بھی شامل ہے۔ یہ اقدامات اگر بر وقت کر لئے جائیں تو ان کے اثرات سب سے پہلے بڑے بڑے شہری مراکز میں محسوس ہونگے۔ کراچی ، جو ملک کی معاشی شہ رگ ہے، اگر مستحکم اور موثر آبی نظام حاصل کرلے تو نہ صرف شہری زندگی میں بہتری آئے گی بلکہ صنعتی ،تجارتی، معاشی سرگرمیوں پر بھی واضح اثرات مرتب ہوں گے۔فیصلہ آج کرنا ہوگا۔ اگر پانی کا نظام مضبوط نہ بنایا گیا تو قلّت صرف انتظامی مسئلہ نہیں رہے گی بلکہ ترقی کی رفتار بھی متاثر ہوگی۔ کراچی اس حقیقت کا سب سے بڑا آئینہ ہے۔ یہ شہر اگر پانی کے موثر انتظام میں کامیاب ہوگیا تو ملک کے دیگر شہروں کے لئے بھی ایک نمونہ بن جائے گا۔