• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا کی تاریخ میں بعض جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتیں بلکہ وہ ذہنوں معاشروں اور بیانیوں کے اندر لڑی جاتی ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے گرد اب جو منظرنامہ بن رہا ہےوہ بھی صرف میزائلوں اور بمبار طیاروں کی جنگ نہیں بلکہ طاقت، معیشت، جغرافیہ، نظریات اور عالمی مفادات کی ایک پیچیدہ کہانی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ جنگ کئی دہائیوں سے تیار ہو رہی تھی اور آج اسکا دھماکہ صرف فوجی میدان میں نہیں بلکہ عالمی سیاست کے ہر ستون میں محسوس ہو رہا ہے۔ ایران گزشتہ چالیس برس سے ایک مخصوص حکمتِ عملی پر چل رہا تھا۔ اس حکمت عملی کا بنیادی ستون یہ تھا کہ براہِ راست جنگ کے بجائے خطے میں پراکسی نیٹ ورک کے ذریعے اثرورسوخ بڑھایا جائے۔ لبنان میں حزب اللہ، عراق میں شیعہ ملیشیائیں، شام میں اسد حکومت کی حمایت اور یمن میں حوثی تحریک یہ سب اسی حکمت عملی کے ستون تھے۔ اس ماڈل نے ایران کو کئی برس تک خطے میں ایک بڑی طاقت کا تاثر دیا۔ ایران براہِ راست بڑی جنگ سے بچتا رہا لیکن اپنے حلیف گروہوں کے ذریعے اسرائیل امریکہ اور خلیجی ممالک پر دباؤ ڈالتا رہا۔تاہم اس حکمت عملی کی ایک بڑی کمزوری بھی تھی۔ ایران نے علاقائی اتحاد بنانے کے بجائے پراکسیز پر زیادہ انحصار کیا۔ اسکے برعکس دنیا کی بڑی طاقتیں ہمیشہ بلاکس بناتی ہیں۔ امریکہ نے نیٹو بنایا خلیج میں دفاعی اتحاد قائم کیے اور اسرائیل کو اپنی اسٹرٹیجک شراکت داری کا مرکز بنایا۔ چین نے معاشی بلاک بنایا روس نے سکیورٹی بلاک بنانیکی کوشش کی۔ لیکن ایران اپنے اردگرد ایسے مضبوط اتحادی پیدا نہیں کر سکا جو کسی بڑی جنگ میں اس کیساتھ کھڑے ہوتے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جب بحران آیا تو ایران تقریباً تنہا کھڑا تھا۔

جب موجودہ جنگ کا آغاز ہوا تو ابتدا میں دنیا بھر میں ایک خوف پیدا ہوا کہ شاید یہ جنگ پورے مشرقِ وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے گی۔ بہت سے تجزیہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایران کے پاس ہزاروں میزائل ہیں، ڈرون ہیں اور پراکسی فورسز کا ایک بڑا نیٹ ورک ہے جو خطے کو آگ میں جھونک سکتا ہے۔ لیکن جیسے جیسے جنگ کے ابتدائی دن گزرے، ایک مختلف تصویر سامنے آنے لگی۔ امریکہ نے سب سے پہلے اسٹیلتھ بمبار طیارے میدان میں آئے جنکا مقصد زیرِ زمین تنصیبات اور حساس فوجی اہداف کو نشانہ بنانا تھا۔ ان طیاروں نے ایران کے اندر گہرائی تک جا کر وہ اہداف تباہ کیے جو برسوں سے ایرانی دفاعی حکمت عملی کا مرکزی حصہ تھے۔ اس کے بعد تیز رفتار بمبار طیارے میدان میں آئے جنہوں نے گہرے حملوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ جب فضائی دفاع مزید کمزور ہو گیا تو پرانے لیکن طاقتور اسٹرٹیجک بمبار طیارے استعمال ہونے لگے جو ایک ہی مشن میں ہزاروں پاؤنڈ اسلحہ لے جا سکتے ہیں۔ یہ ترتیب دراصل ایک پیغام تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ایران کا مربوط فضائی دفاعی نظام شدید دباؤ میں آ چکا ہے۔اس کے باوجود ایک حقیقت ایسی ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ امریکہ فضائی جنگ جیت سکتا ہے، لیکن ہر جنگ صرف فضائی برتری سے ختم نہیں ہوتی۔ آبنائے ہرمز کی مثال اسکی سب سے بڑی علامت ہے۔ دنیا کی تقریباً بیس فیصد تیل سپلائی اس تنگ سمندری راستے سے گزرتی ہے۔ اگر یہاں جہاز رانی متاثر ہوتی ہے تو اس کا اثر صرف خلیج یا ایران تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری عالمی معیشت تک پہنچتا ہے۔اس جنگ کا ایک اور پہلو بھی ہے جو اکثر جذباتی مباحث میں نظر انداز ہو جاتا ہے۔ امت مسلمہ کی بیداری کا سوال؟ حقیقت یہ ہے کہ بین الاقوامی سیاست جذبات کے بجائے مفادات پر چلتی ہے۔ ہر ملک اپنی معیشت، اپنی سلامتی اور اپنے قومی مفاد کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔پاکستان کی مثال ہی لے لیجئے۔ پاکستان ایک بڑی فوجی طاقت ضرور ہے لیکن اس کی معیشت شدید دباؤ میں ہے۔ ایسے حالات میں کسی بڑے علاقائی تصادم میں براہِ راست مداخلت پاکستان کیلئے ممکن نہیں۔ خلیجی ممالک کی صورتحال بھی اسی طرح ہے۔ وہ ایران کیساتھ مکمل محاذ آرائی نہیں چاہتے لیکن وہ اپنی معیشت اور توانائی کے نظام کو بھی خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔ ترکی اپنی علاقائی ترجیحات رکھتا ہے، جبکہ مصر اور دیگر عرب ممالک اپنی داخلی معاشی مشکلات سے نبرد آزما ہیں۔ جہاں تک بڑی طاقتوں کا تعلق ہے روس پہلے ہی یوکرین کی جنگ میں الجھا ہوا ہے۔ چین اگرچہ عالمی طاقت ہے لیکن وہ براہِ راست فوجی تصادم میں شامل ہونے سے گریز کرتا ہے۔اس پورے منظرنامے میں سب سے بڑا فائدہ کس کو ہو سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب آسان بھی ہے اور پیچیدہ بھی۔ اسرائیل کیلئے ایران کی فوجی صلاحیتوں کی کمزوری ایک بڑی اسٹرٹیجک کامیابی ہو سکتی ہے۔ امریکہ بھی خطے میںطاقت کے توازن کو اس طرح ڈھالنا چاہتا ہے کہ ایران کی عسکری طاقت محدود ہو جائے اور خلیج میں امریکی اتحادی زیادہ محفوظ محسوس کریں۔ لیکن یہاں ایک خطرہ بھی موجود ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی امریکہ نے کسی خطے میں حکومتیں گرانے یا نظام بدلنے کی کوشش کی اسکے بعد استحکام کبھی نہیں آیا۔ عراق، لیبیا اور شام کی مثالیں اس حقیقت کی گواہ ہیں۔

اس تمام صورتحال کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عام لوگ اکثر جذباتی نعروں اور سوشل میڈیا کے بیانیوں میں الجھ جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگیں نعرے بازی سےنہیں معیشت، ٹیکنالوجی، اتحاد اور طویل المدتی حکمت عملی سے جیتی جاتی ہیں۔ایران نے برسوں تک ایک جارحانہ علاقائی حکمت عملی اختیار کی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ مضبوط علاقائی اتحاد اور مستحکم معاشی بنیادیں نہ بنا سکا۔ یہی وجہ ہے کہ آج جب وہ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر کھڑا ہے تو اس کے پاس جذباتی حمایت تو بہت ہے، مگر عملی مدد بہت کم۔

تازہ ترین