• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ڈائجسٹ: عمرِرواں مسکرائی، جب بچپن یاد آیا!

نادیہ احمد

خوشبو، موسم اور یادوں کا تعلق بہت پرانا ہے۔ کل تیز برستی بارش کی خُوشبو نے متوجّہ کیا، تودلِ مضطرب نےایک انگڑائی لی، جیسے کوئی معصوم بچّہ نیند سے جاگتے ہی اپنی پسندیدہ چیز دیکھ لے۔ کھڑکی سے برستی موسمِ سرما کی بارش کا نظارہ میرے لیے بے حد دل فریب تھا۔ اچانک موبائل کی ٹوں ٹوں سنائی دی، دیکھا تو بارش کے اسٹیٹس مختلف کیپشنز کے ساتھ نظر آرہے تھے۔

بچّے الگ اپنے موبائلز سے ویڈیوز بنانے میں مصروف تھے کہ اسٹیٹس لگانے کی دوڑ میں پیچھےنہ رہ جائیں، مگر مَیں شاید پیچھے رہ جانے والے منظر ہی میں رہ گئی تھی۔ میرے بچپن کا منظر،1990 ء کی دہائی کا بچپن، شاید اس صدی کا آخری بچپن تھا، جو اِس دَور کے بچّوں نے اپنی پوری معصومیت کے ساتھ جیا۔ اُس وقت کی خوشیاں نہ آسائشات سے مربوط تھیں، نہ ہی کسی اسٹیٹس کی مرہونِ منت۔ اب تو سب کچھ ہی بدل گیا ہے۔ نہ وہ لوگ رہے، نہ وہ زمانے، ہاں، مگر موسم اور فطرت کی خوشبو وہی ہے۔

آج بھی جب موسمِ سرما کی ٹھٹھرتی راتوں میں ریڑھی والا مونگ پھلی لے کر گزرتا ہے، تو کتاب کی ورق گردانی کرتے میرے ہاتھ رُک سے جاتے ہیں۔ سرما کی چُھٹیوں میں جب سب بہن بھائیوں کے بچّے جمع ہوتے ہیں اور کافی، پیزا کے پیسز اور اپنا اپنا موبائل لے کر بیٹھتے ہیں تو کافی کے مگ سے اُٹھتی بھاپ کے پس منظر میں مجھے ابلے انڈوں اور میوے سے سجی گاجرکےحلوے کی پیالیاں نظر آتی ہیں۔

کافی کی خوشبو مجھے اس خُوشبودار دودھ کی یاد دلاتی ہے، جو خاص ہمارے لیے بنتا تھا۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے، آج کے میٹرس، کمفرٹر اور کمبل اُن نرم و گرم، روئی کے گدّوں، رضائیوں کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتے، جن کی بُنت کے ایک ایک ڈورے میں مائیں اپنے بچّوں کے پُرسکون مستقبل کے خواب بُنتی تھیں۔ کونٹیننٹل ہوٹلز میں ڈائن اِن کرتے ہی رنگا رنگ، اشتہا انگیز مسالے دار کھانوں کی خوشبو جوں ہی مجھ تک پہنچتی ہے، دادی کے ہاتھ کا مزے دار ساگ، مکئی کی روٹی اور دیسی مرغ کی یخنی یاد آجاتی ہے۔

ابھی کل ہی کی تو بات ہے، جب کینو کی پیٹی گھر میں آئی اور بچّوں نے “ اورنج ڈیلائٹ“ کی فرمائش کی تو کینو چھیلتے ہوئے اُس کی خُوشبو نے مجھے دھوپ میں بیٹھ کر نمک، مرچ کے ساتھ کینو کھانے کی ایسی یاد دلائی کہ آنکھیں بھر آئیں۔ وہ سادہ سا بچپن کہ جب ایک ٹوتھ پیسٹ اور ایک پرفیوم ساری فیملی کے لیے مختص ہوتا تھا۔

آج بھی جب کوئی نیا پرفیوم ہاتھ آتا ہے، تو مجھے وہ ایک پر فیوم یاد آجاتا ہے، جو کسی تقریب کے موقعے پرامّی ہم سب پر ایک ایک اسپرے کی صُورت کیا کرتی تھیں۔ سادہ سا لباس، جس پہ دادی کےہاتھ کا بُنا خُوب صُورت، رنگارنگ اونی سویٹر پہن کر اُن کی محبّت وخلوص کی حدّت اندر تک محسوس ہوتی تھی۔ 

بادل گرجتے ہیں، برکھا رُت برستی ہے اور گیلی مٹّی کی خُوشبو نانی کے کچّے آنگن میں کھیلے گئے پہل دُوج، چُھپن چُھپائی، برف پانی اور بارش کے پانی میں کشتیاں چلانے جیسے کھیلوں کی اور لیے چلتی ہے۔ سُرمئی بارش کے ساتھ میرے دو آنسو بھی رَل مِل سے جاتے ہیں۔ ؎ کہیں دریا، کہیں دھارا، کہیں پر پانی بارش کا…کہیں تھی کشتی کاغذ کی، وہ ہی تو یار بچپن تھا…کبھی ہنسنا، کبھی رونا، کبھی لڑنا، کبھی گرنا…شکایت بھی نہیں کرنا، وہ ہی تو یار بچپن تھا۔

وقت بدل گیا، موسم بدل گئے۔ بس، ہواؤں میں بسی خوشبوئیں ہی یادوں کا خزانہ ہیں۔ وہ بچپن تو اب لوٹ کر نہیں آئے گا، مگرمَیں اکثر ڈھونڈ لیتی ہوں، اُسی بچپن کو، برستی بارش میں، بدلتے موسموں کی ہواؤں میں، اپنے ارد گرد پھیلی خوشبوؤں، دُور تک بکھری یادوں میں۔

ناقابلِ اشاعت کلام اور اُن کے تخلیق کار برائے صفحہ ’’ڈائجسٹ‘‘

قطعات، نظم (شگفتہ بانو، لالہ زار، واہ کینٹ) مقبوضہ کشمیر کے مسلمانوں کے نام، جس کی لاٹھی، اُس کی بھینس، غزل (زین صدیقی، کراچی) سلام، نعتِ پاکؐ (الویراء) پاکستانی مجاہد، غزل ( معین قریشی بریلوی) سمندرو! تم گواہ رہنا (اسماء صدیقہ، کراچی ) یہ کیسی زندگی ہے، غزلیں (ریطہ فرحت) بچپن کی چُھٹیاں (صبا احمد) غزہ کے آنسو(حرا خان، جہلم) غزل (تحریم فاطمہ)امن کا معاہدہ، امن قائم کریں، قائد کے حضور (صدیق فنکار، راول پنڈی کینٹ) چھے ستمبر، انتخابِ کلام (محمّد صفدر خان ساغر، گوجرانوالہ) بےحس سرکار (محمد رفیق غوری، حیدرآباد) حمدِ باری، یادوں کے جھروکے، انسان کی عظمت، چراغ تلے اندھیرا (نوردین محمّد جہانگیر) معصوم کلیاں (جمیل ادیب سیّد) غزل (ریاض ندیم نیازی، سبّی) غزل (نیّر رضوی، لیاقت آباد، کراچی) منقبت (شبینہ گل انصاری، کراچی) خلاصۂ سورۂ حجرات، حضرت لقمان (ارسلان اللہ خان ارسل، حیدرآباد) مرحبا مصطفٰیؐ (کوثر یوسف زئی) غزل (سیف الاسلام، کراچی) نمبر ون فوج (ظفر محمود انجم راجا، قصور) غزل (کاظم رشید کاظم، کوہاٹ) المیہ (محمّد علی سحر، محمودآباد، کراچی) ماں (سید احمد انور، اسلام آباد) دوست (حسنین احمد،علی پور) غزل ( عائشہ آصف) ماں، باپ، رشتوں کی مالا، سحر کِھلنے کے لیے، باپ کی نصیحت(عاجز ریاض احمد رانا، شادباغ، لاہور)۔

سنڈے میگزین سے مزید