• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نئی کہانی، نیا فسانہ: پھولوں والی پہاڑی (آخری قسط)

مدوّن و مرتب: عرفان جاوید

(مستنصر حسین تارڑ)

ہم بمشکل اپنی آنکھیں کُھلی رکھ پاتے کہ متعدّد بار اِس داستان کو سُن تو سکتے تھے، اس کی طوالت سےب ےزاربھی نہیں ہوتے تھے، مگر نیند بہرحال غالب آنے لگتی تھی۔ ’’اگرتمھیں بہت نیند آرہی ہے‘‘ میرا باپ آگاہ ہوجاتا کہ بچّے بمشکل آنکھیں کُھلی رکھے ہوئے ہیں، بصد کوشش اُنھیں جھپکتے اور پھر کھولتے ہیں۔ ’’تو پھولوں والی پہاڑی کا قصّہ پھر کبھی سہی۔‘‘’’نہیں نہیں‘‘ ہم سب غُل کرنے لگتے کہ اُسی قصّے کو ایک بار پھر سُننے کی خاطر تو ہم نے اتنا صبر، خُود پراتنا جبر کیا تھا، ابھی ہمیں نیند نہیں آرہی۔‘‘ اوراس کے ثبوت میں سب بچے بار بار اپنی آنکھیں جھپکانے لگتے۔

’’تو پھرسُناتا ہوں۔‘‘ میرا باپ سلسلۂ کلام وہیں سےدوبارہ جوڑتا۔ ’’ایک مرتبہ درّہ بانہال سے ادھر،چڑھائی کےآغاز سےذرا پہلے ایک مسافر کے پیٹ میں اتنا شدید مروڑ اُٹھا کہ اُس نے مجبورہوکر ڈرائیور کو فوری طور پر رُکنے کی درخواست کی۔ ہم ایک ایسی کوہستانی بستی میں رُک گئے، جہاں پہلے کبھی نہ رُکے تھے۔ وہاں چند ایک افلاس زدہ جھونپڑے ویران پڑے تھے کہ اُن کے مکین غربت سے عاجز آکر روزگار کےحصول کے لیے نیچے میدانوں میں اُتر چُکے تھے۔ 

صرف ایک چائےخانہ کُھلا تھا، جہاں مقامی طور پر چلنے والی کوئی بس اتفاقاً رُک جاتی۔ بس رُکی تو سب سے پہلے تو وہی مسافر پیٹ پر ہاتھ جمائے لڑھکتا ہوا باہر نکل گیا۔ دوچار مسافروں نے بھی سوچا کہ کیوں نہ اِس موقعے سے فائدہ اُٹھایا جائے، تو وہ بھی سڑک سے اُتر کر گہرائی میں چلے گئے اور ہم میں سے بیش تر اُس چھپّرچائے خانے کی بینچوں پربیٹھ گئے۔ 

اُس کے فاقہ زدہ کشمیری مالک نے متحرک ہو کراپنی واحد دُھویں سےسیاہ ہوچُکی پچکی ہوئی دیگچی کومٹی کےچولھے پرچڑھا دیا، جس کے پیندے میں سیاہ ہوتی چائے کی پتّی جانے کتنی بار ابالی جاچُکی تھی اور اُسے پھر سے ابالنے لگا۔ اس ویران بستی کا نام کچھ بھی نہ تھا۔ درّہ بانہال کے دامن میں چند ویران جھونپڑے، ایک چھپّر چائے خانہ۔ 

ان کے پس منظر میں ایک بنجر سی پہاڑی بلکہ ایک ٹیلا اُبھرتا تھا، جس پر کہیں کہیں گھاس اُگی ہوئی تھی۔ مجھے نہ تو رفعِ حاجت کی طلب تھی اورنہ ہی اُس دھواں آلود دیگچی میں اُبلتی چائے کی خواہش، تو مَیں وقت گزاری کی خاطر چھپّر چائےخانے کے پچھواڑے سے بلند ہوتی اُس پہاڑی کی جانب چلا گیا۔ مَیں تب آج کی نسبت زیادہ دراز قامت تھا، ادھیڑ عُمری نے میری ہڈیوں کو سکیڑا نہ تھا، لمبے لمبے ڈگ بھرتا مَیں اُس پہاڑی پر چڑھنے لگا۔ 

یہ ایسےموسموں کی نم خوش گواری میں سانس لیتی ہے،جن میں نمودو افزائش کے امکانات ہیں تو یہ اتنی ویران اور بےآب وگیاہ کیوں ہے۔ گھاس کےچند تنکوں کے سوا اس کی کوکھ میں کیوں کچھ اور نہیں پُھوٹا۔ مَیں نے حسب خصلت مُٹھی بھر مٹّی سمیٹی، اُسے کچھ دیر آنکھیں بند کرکے سونگھا تو اُس کے ہر ذرّے سے زرخیزی کی مہک آئی، اُس میں پیدائش اور نمود کے جرثومے کلبلاتے تھے۔

مَیں اُس مٹّی کی مہک اور زرخیزی کی پکار سے کچھ دیوانہ سا ہوا، ٹیلے سے اُتر کر، بس کے اندرجاکے اپنے بستر بند میں سے پھولوں کے بیجوں کی وہ پوٹلی نکالی، جنھیں میں اس برس سری نگر کے فارم میں کاشت کرنا چاہتا تھا اور فارغ ہوچُکے، چائے کی چسکیاں سرکتے لوگوں کی حیران اور سوالیہ نظروں سےنظریں چُراتا، پھر سے پہاڑی پر چڑھنے لگا۔ 

مَیں نے چوٹی سے آغاز کیا۔ مَیں اپنے دونوں ہاتھوں سے ایک ہڈی کے متلاشی کتّے کی مانندتیزی سےمٹی کریدتا،زمین کھودکر پوٹلی میں سے مُٹّھی بھر بیج نکال کر اُس میں گراتا اور پھر ہتھیلیوں سے اُسے برابر کردیتا۔ نیچے، بہت نیچے چائے خانے کے چھپّر کے برابر میں بس ساکت کھڑی تھی۔ میرے پاس وقت بہت کم تھا، مجھے پوری پہاڑی پر مختلف اقسام اور رنگوں کے پھولوں کے بیج بکھیرنے تھے، صرف بکھیر دینا تو آسان ہوتا، مٹی اپنے ہاتھوں سے کھود کر اُس میں بیج پوشیدہ کرنا کچھ وقت طلب تھا، جو میرے پاس نہ تھا۔

چائے خانے کے باہر، چائے کےآخری گھونٹ بھرتے مسافر مُنہ اٹھا کر مجھے دیکھتے تھے، وہ ایک درازقامت نوجوان کواُس ٹیلے پر بھاگتے، رُکتے، جُھکتے، ایک پوٹلی میں سے کچھ نکالتے، اُسے دباتے، بکھیرتے دیکھتے تھے، تو شاید اُسے ایک ذہنی مریض سمجھتے تھے، مگر مجھے اُن کے ردِعمل کی چنداں پروا نہ تھی۔‘‘

’’کچھ دیر پہلے تک مَیں اس ٹیلے نُما پہاڑی کے وجود سے بھی آگاہ نہ تھا اور اب میری جان پر بن گئی تھی۔ مَیں کبھی گُھٹنوں کے بل بیٹھ جاتا، اپنی گرے فلینل پتلوں کی کریز کی پروا کیے بغیر دونوں ہاتھوں سے مٹّی کو ایک ایسے حواس باختہ ملاّح کی مانند کھودنے لگتا، جس کے پاس کسی نامعلوم جزیرے میں دفن خزانے کا نقشہ تھا اوراُس نقشے کے مطابق یہی وہ مقام تھا، جہاں خزانے سے بھرا ایک صندوق اُس کی تقدیر بدل دینے کا منتظر تھا۔ 

بلکہ یہ مثال بھی میرے اضطراب کی نقش گری نہیں کرتی، مجھے خزانے کی تلاش نہ تھی۔ مَیں تو اُس میں خُود گُل وگلزار کے خزانے دبانے آیا تھا۔ نصف سے زیادہ پوٹلی ختم ہوچُکی تھی، جب نشیب میں بس کے بھونپو کی بھاں بھاں سے درّہ بانہال کا دامن ایک پرُشور اضطراب کی زد میں آگیا۔ چھپّرچائے خانے کے ٹوٹے ہوئےبینچ خالی ہوچُکے تھے، لکڑی کی جھولتی ہوئی میزوں پرچائے کی پیالیاں خالی پڑی تھیں۔

تمام مسافر بس میں سوار ہوچُکے تھے، صرف میں تھا، جس کی نشست خالی پڑی تھی۔ وہ مجھے وہاں چھوڑ کر جابھی سکتے تھے۔ اُنھیں شام اُترنے سے پہلےدرّہ بانہال کے پرُپیچ عذاب کو عبور کرنا تھا، بےشک مَیں سفر کے آغاز سے لے کر اب تک ڈرائیور کو مسلسل سگریٹ پلاتا چلا آیا تھا، اپنے تئیں اُسے زیرِاحسان کر چُکا تھا، لیکن کوئی بھی شخص آپ کےعنایت کردہ ایک سگریٹ کے شکرانے میں ممنون ہو کے بھی کتنی ڈھیل دے سکتا ہے، فی سگریٹ ایک یا دو منٹ۔ یوں میرے پاس صرف دس بارہ منٹ کی گنجائش تھی، جو مَیں صرف کرچُکا تھا۔ 

مَیں یک دم اتنا متحرک ہوگیا کہ مجھ پر ایک کارٹون کردار کا گمان ہونے لگا۔ ڈرائیور جب بھونپو بجاتا بےزار ہوگیا، تو مَیں نے دیکھا کہ چھپّر کے برابر میں ساکت کھڑی بس ہولے سے رینگنے لگی، وہ ایک احسان نافراموش شخص تھا۔ مَیں نے پوٹلی کے بقیہ بیج دونوں مُٹھیوں میں بھر کر فضا میں اچھال دیئے کہ اُن کی قسمت کہ وہ جہاں بھی گریں، سو گریں۔ 

مَیں بس کی جانب ہاتھ ہلاتا، ڈرائیور کو پکارتا، میراتھون کا آخری مرحلہ طےکرنے والے کھلاڑی کی مانند کانپتا ہانپتا، بےحال، پسینے سے شرابور، ٹیلےسے گرتا پڑتا بمشکل اُس ہولے ہولے سرکتی بس میں سوار ہو کر اپنی نشست پر ڈھیر ہوگیا۔ حواس قدرے بحال ہوئے، سانس میں کچھ اعتدال آیا تو مَیں نے روٹھے بیٹھے ڈرائیور کو ایک سگریٹ پیش کی۔ ’’نہیں‘‘ اُس نے مکمل بے رُخی اختیار کر لی۔ ’’درّہ بانہال کی چڑھائی شروع ہونے کو ہے اور مَیں اسٹیئرنگ دونوں ہاتھوں سے تھام کر پرُپیچ راستے احتیاط سےطے کرنا چاہتا ہوں۔‘‘

مَیں نے پلٹ کر تو نہ دیکھا، لیکن اپنی پشت پر دیگر مسافروں کی نظروں کی چبھن محسوس کرسکتا تھا، وہ یقیناًمجھے اس بےوجہ تاخیر کا مجرم گردانتے ہوں گے۔‘‘ میراباپ کہانی کے اس موڑ پرپہنچ کردراصل ہماری توجّہ اور سماعت سے بےنیاز، ماورا ہوجاتا تھا۔ اگر ہم سب بچّے نیند کے مارے عارضی طور پر مُردہ بھی ہوچُکے ہوتے تو بھی وہ اپنے ایک ذاتی لطف و انبساط میں اتنا مخمور ہو چُکا ہوتا کہ داستان جاری رکھتا۔

’’اگلے برس مَیں ایک مرتبہ پھر موسمِ گرما کے آغاز میں نندہ بس سروس کی اگلی نشست پربراجمان سری نگرکا مسافر تھا۔ بس کا ڈرائیور سِکھ تو نہ تھا لیکن یہ بھی طے نہ ہوسکا کہ وہ ہندو ہے یا مسلمان۔ مَیں اُس کے ساتھ راہ و رسم بڑھانے کی خاطر جو کچھ بھی پوچھتا، وہ اُس کے جواب میں کچھ بڑبڑاتا اور چُپ ہوجاتا۔ سگریٹ کی پیش کش پر البتہ اُس نے صاف انکار کردیا۔ ’’مَیں نشئی نہیں ہوں صاحب۔ پان، سگریٹ، بیڑی وغیرہ کچھ نہیں پیتا۔‘‘ 

سری نگر تک کے طویل سفر کا یہ آغاز کچھ زیادہ مبارک نہ تھا، یہ مسافت خاموشی میں طے ہوئی۔ جمّوں کا شہر ہمیشہ کی طرح بغیر کسی ثقافتی و تعمیراتی شناخت کے بےرُوح اور گرمی میں جھلستا تھا، مسافروں کے بدن پسینے سے بھیگ گئے اور پھر ذرا اورفاصلہ طے ہوا تو درّہ بانہال کی قربت سےخنک ہوا کے پھڑپھڑاتے پھریرے بس کی کھڑکیوں سے داخل ہوکر ہمارے جھلسے ہوئےبدنوں سے لپٹ کے ایک ٹھنڈک بھری راحت سے آشنا کرنے لگے۔ 

ہم میں جان سی پڑگئی، مسافر باتیں کرنےلگے بلکہ بےزارڈرائیوربھی زیرِ لب گنگنانے لگا۔ اگر مَیں منافقت سے کام لے کریہ کہوں کہ مَیں منتظرنہ تھا، تو یہ جھوٹ ہوگا۔ مَیں منتظر تھا، جانتا تھا کہ کچھ دیر بعد سڑک کے کنارے ایک چھپّر چائے خانہ دکھائی دینےلگےگا، جس کےآس پاس کچھ ایسے ویران جھونپڑے ہوں گے، جن کے مکین ان موسموں میں رزق کی تلاش میں نیچے میدانوں میں اُتر چکے ہوں گے اور اُس چائے خانے کے عقب میں وہ پہاڑی ہوگی۔ 

کیا ویسی ہی ہوگی، جیسی وہ پچھلے برس تھی یا اُس کے رُوپ میں کچھ رنگ ہوں گے۔ مَیں نہ صرف منتظر تھا بلکہ میرا دل بیٹھاجاتا تھا۔ تب ہی وہ مجھے نظر آگئی۔ بس کی کھڑکی سے جھانکتے ہوئے وہی چائے خانہ اور ویران جھونپڑے میرے قریب ہوتے گئے اوراُن کے پس منظر میں وہ مجھے نظر آگئی۔ وہ بنجر، ویران نہ تھی، ڈھکی ہوئی تھی۔ وہ رنگ رنگ کے البیلے، چمکیلے، آنکھوں کو بھی اپنی رنگوں سے رنگین کرنے والے پھولوں کے انباروں سے اٹی پڑی تھی۔ 

اُن کے چھیل چھبیلے، رنگ رنگ چہرےبس کی کھڑکی سے جھانکتے میرے چہرے پر بھی پھیلتے چلے گئے۔ واللہ، اَن گنت شکلوں، شباہتوں کے کیا کیا گُل لہلہاتے تھے، جیسے زمین پر قطار اندر قطار پریاں اُتری ہوں۔ وہ رنگارنگ گُل، درّہ بانہال کے دامن سے اُٹھتی، خُوب اِٹھلاتی، مچلتی، اٹکھیلیاں کرتی، مُردہ روحوں کو بھی سرشارکر دینے والی سرد ہواؤں میں جیسے بےخود، مخمور، بےاختیار ہو کے جُھومتے تھے۔ یوں کہیے، پوری پہاڑی ہی اَن گنت پھولوں میں رُوپوش ہوگئی تھی۔

یہاں تک کہ اِن کی گھناوٹ میں کچھ نرالے پنچھی بھی چہکتے تھے، جو یقیناً پچھلے برس تک پہاڑی کی ویرانی، بنجر پن میں اُترنے سے جھجکتے ہوں گے، مگر اب یوں غول کے غول اُترآئے تھے کہ اُن کے پاؤں گُلوں میں الجھ الجھ جاتے تھے۔ نندہ بس سروس کا یہاں رکنا معمول تو نہ تھا، لیکن شاید اس بار بھی کسی مسافر کو حاجت ہوئی اور وہ رُک گئی۔ یاسین بھاٹ کا کملایا، مُرجھایا اور فاقوں سے سکڑا چہرہ کِھل اُٹھا۔ وہی دھواں آلود پچکی ہوئی دیگچی تھی، جس کے پیندے میں شاید وہی پچھلے برس کی چائے کی پتی ابھی تک موجود تھی، جس میں پانی انڈیل کراُس نےاسے چولھے پر رکھ دیا۔

پھر وہ دیگر مسافروں کی موجودگی سے غافل ہوتا میرے قریب آیا، میرے گھٹنوں کو چھوا اور کمر تک جُھک گیا۔ ’’صاحب! آپ کے طفیل ہماری ویرانی رخصت ہوگئی ہے۔ ان جھونپڑیوں کے باسی اس برس رزق کی مجبوری میں میدانوں میں نہیں اُترے۔ لوگ دُور دُور سے ہماری ’’پھولوں والی پہاڑی‘‘ دیکھنے آتے ہیں، یہاں سیاحوں کا ہجوم لگا رہتا ہے، آپ کے طفیل۔ وہ آپ کی آمد کے منتظر تھے۔ 

مَیں اُنھیں بتا چُکا ہوں کہ پچھلے برس ایک دراز قامت، اکہرے بدن کا نیلی آنکھوں والا نوجوان پنجاب سے آیا تھا اور اُس نے ہماری بنجر پہاڑی میں گھوم پھر کر ایک دیوانے کی مانند اپنے ہاتھوں سے مٹّی کُرید کر اس میں پھولوں کے بیج بوئے تھے، جو پہلی بارش کی نمی ہی سے پُھوٹ نکلے اور ہماری بنجر پہاڑی کو پھولوں سے ڈھک دیا۔ صاحب! وہ چلے آتے ہیں۔‘‘ اور وہ چلے آئے۔ ناتواں، خوش شباہت لوگ۔ اُن کی آنکھوں میں اُترتی نمی کے پردوں پر میرے لیے تشکّر کی تصویریں جھلملاتی تھیں۔ 

اُن میں سے کچھ اپنےآباد جھونپڑیوں میں سے باہر آتے تھے اور کچھ پھولوں والی پہاڑی سے اُترتے تھے اور اُن کے ہاتھوں میں میرے بوئے ہوئے پھولوں کے ہار تھے، جو وہ میرے گلے میں ڈالتے تھے، میرے قدموں میں رکھتے تھے۔ بس کے دیگر مسافر ایک تحیّر میں گُم تھے کہ یہ لوگ ہمارے ایک ہم سفر پر کیوں نچھاور ہوتے جاتے ہیں۔ اُن کی محبت اور شُکر گزاری سے بھیگتی آنکھوں نے مجھے بھی بھگو دیا۔ مَیں نہ تو نازاں ہوا اور نہ ہی مجھ میں فخرکی سرخوشی نےسر اُٹھایا کہ مَیں نےکوئی کارنامہ سر انجام نہ دیا تھا۔ 

اگر ایک پہاڑی، مٹّی کی قابلیت کے باوجود ویران پڑی تھی، تو مَیں نےتو بس اُس کی زرخیزی کے احترام میں اُس میں بیج بوئے تھے۔ میرے چوڑے ماتھے پر شرمندگی کے پسینے پھوٹنے لگے، اگر پہاڑ یہاں ہیں تو انسان ہی نے اُن کی چوٹی پر جانا ہے اور وہ انسان کسی پر احسان تو نہیں کرتا، اپنی خصلت سے مجبور ہوتا ہے، تو پھر تشکّر کیسا۔ یک دم میں ایک دھچکے سے دوچار ہوا۔ سب کچھ ایک تبدیلی کی زد میں آچُکا تھا۔ 

اگر مَیں نے پہلی نظر میں وہاں وہی ایک عسرت زدہ چھپّر چائے خانہ دیکھا، وہی پچکی ہوئی دھواں آلود چائے کی کیتلی دیکھی، اُس میں پچھلے برس کی گیلی پتّی محسوس کی، درجن بھر جھونپڑیوں کو بے آباد اور ویران دیکھا تو یہ پچھلے برس کی، میرے ذہن پرثبت شدہ تصویر تھی، وہی تصوّر تھا، جو میری آنکھوں میں اُترا، جب کہ سب کچھ ایک تبدیلی سے دوچار ہوچُکا تھا۔ یاسین بھاٹ کا چہرہ نہ مُرجھایا ہوا تھا اور نہ ہی کملایا ہوا اور نہ ہی اُس پر بھوک کے کچھ آثار تھے۔ چائے خانے کی چھت ہی نہیں، کرسیاں اور میزیں بھی نئی نویلی تھیں، اُن میں سے تازہ پالش کی مہک آتی تھی۔ 

چائے کی نئی پیالیاں کھنکتی تھیں اور متعدّد کیتلیاں نئی نکورحالت میں چولھوں پر چڑھی تھیں۔ دیواروں پرمُلکی و غیر مُلکی سیّاحوں کی تصویریں پھولوں والی پہاڑی کے پس منظر کے ساتھ چسپاں تھیں۔ ہر روز کم ازکم تین چار کوسٹرز اور بسیں سیّاحوں سے لب ریز عین اس چائے خانے کے سامنے رُک کر خالی ہوتی تھیں۔ وہ سارا دن پھولوں والی پہاڑی کی ڈھلوانوں میں گزار کر شام ڈھلے واپس چلے جاتے تھے۔ ظاہر ہے، اُن میں سے ہر ایک یاسین بھاٹ کے ہاتھوں کی بنی ہوئی چائے کی کم ازکم ایک پیالی تو ضرور پیتا ہوگا۔ اوروہ جھونپڑے بھی بےآباد نہیں رہےتھےکہ جسے وطن میں روزی میسّر آجائے، وہ کاہےکو پردیس میں اُترکر دربدر ہو۔ جسے اب ایک دنیا دیکھتی تھی۔‘‘

’’مجھے بھی تو اُسے دیکھنا تھا۔ مَیں ان لوگوں کی شُکرگزاری کے نرغے سے، اپنے ماتھے سے شرمندگی کا پسینہ پونچھتا چائے خانے کے عقب سے پہاڑی کی ڈھلوان پر چڑھنے لگا۔ قدم رکھنے کو کوئی جا نہ تھی، ہر قدم تلے کوئی نہ کوئی گُل یا بُوٹا مسلا جاتا۔اوروہ بھی میرے پیچھے پیچھے چلے آتے تھے، جیسے وہ مجھ سے بندھے ہوں۔ میرے قدموں پر قدم دھرتے خاموشی سےچلےآتے تھے۔ اورجوپھول کھِلتے، جھومتے تھے، اُن سب کے گُل رنگ چہروں کا مَیں شناسا تھا، جُھک جُھک کر اُن کو پہچانتا جاتا تھا۔

مگر پھر میری نظر ایک ایسے پھول پر ٹھہری، جوسراسر اجنبی تھا کہ مَیں جومٹّی کا پجاری تھا، اُس سےجنم لینے والے ہر گُل بوٹے سے آگاہ بلکہ دنیا کے ہر خطّے میں نمو پانے، جنگلوں،صحراؤں میں کِھلنے والے پھولوں کے چہرے مُہرے جانتا تھا، یہاں تک کہ سمندر کی تہہ میں بھی جو پھول کھِلتے تھے، اُن سے بھی واقف تھا، تو اُس ایک پھول سے، جس پرنظر ٹھہری تھی، میری کچھ جان پہچان نہ تھی اور وہ صرف ایک نہ تھا، اُس پہاڑی پرلہلہاتے وجد میں آئی گُل رنگ آب شاروں میں کچھ اور پھول بھی تھے، جن کے بیج مَیں نے تو ہرگز نہ بوئے تھے۔ 

وہ میرے تصوّر کی گُل بہاردنیا سے الگ جانے کن دنیاؤں اور کائناتوں کے باشندے تھے، جواس دنیا میں اُترآئے تھے۔ کسی اور دنیا کے، کسی دُوردراز کی کائنات کے یہ پھول کس نے یہاں بو دیئے، مَیں حیران و پریشان تھا۔ مَیں نے سُن رکھا تھا کہ جب کبھی آپ صدقِ دل سے کسی منزل،کسی مقصد کی بلندیوں تک پہنچنے کا تہیہ کرتے، نیّت کھری کرلیتے ہیں تو پھر زمینوں، آسمانوں کی روحانی قوتیں آپ کی مدد کے لیے آن پہنچتی ہیں۔ توشاید یہ جو الگ دنیاؤں کے انوکھے پھول نظر نواز ہوئے تھے، وہ اُن ہی کا کرشمہ تھے۔ 

وہ سب جُھکے جُھکے میرے پیچھے چلے آتے تھے اور یہی گمان کرتے تھے کہ الگ دنیاؤں کے یہ گُل بُوٹے بھی مَیں نے ہی اس زمین میں بوئے تھے۔ اور ہاں، ان پھولوں کےگھنےکُنجوں میں کئی پکھیرو پوشیدہ چہچہاتے، شور کرتے تھے۔‘‘صرف مَیں ابھی تک اپنی آنکھیں کُھلی رکھے ہوئے ہوتا، باقی سب سوچُکے ہوتے۔ میرے باپ کے لہجے میں تھکن کے آثار نمایاں ہونے لگتے۔ وہ ہم سے بے خبر ماضی کے خمار میں گم باتیں کرتا چلا جاتا۔ اور میری آنکھیں بھی بوجھل ہوتی جاتیں۔

آخر میں میرا باپ کہتا۔’’اُس سے اگلے برس اوراُس کے بعد کئی برس مَیں،نندہ برس سروس میں سوارلاہورکی پگھلتی گرمیوں میں سے سفر کرتا، جب درّہ نہال کے دامن میں واقع، اُس بے نام گاؤں کے قریب ہوتا جاتا تو پھولوں والی پہاڑی بس کی اسکرین پر اُمڈتی آتی اور میری آنکھوں میں، میرے بدن میں اُتر کرنہ صرف اُس دنیا بلکہ اُس سےالگ دنیاؤں کے بھی رنگ بھرتی جاتی۔ پھولوں کی گھناوٹ میں ہر برس اضافہ ہوتا چلا جاتا، یہاں تک کہ کبھی مَیں محسوس کرتا کہ وہ پہاڑی اپنے گُلوں کا بوجھ نہ سہار سکے گی، منہدم ہوجائے گی۔ اور پھر…تقسیم ہوگئی، تومٹّی بھی تقسیم ہوگئی۔ 

میں اِدھر رہ گیا اور میری ’’پھولوں والی پہاڑی‘‘ اُدھر رہ گئی۔ چالیس برس سے زیادہ کا عرصہ بیت چُکا اُسے نہ دیکھے ہوئے، پھولوں والی پہاڑی سے جدا ہوئے، مجھے نہیں معلوم کہ ہندوستان کی گرفت میں آنے کے بعد میری پہاڑی پرکیا گزری۔ ابھی تک اُس کے گُلوں میں رنگ بھرتے ہیں یا وہ بھی میری جدائی سے دل گرفتہ مُرجھا چکے ہیں۔ پہاڑی پھر سے ویران ہوچُکی ہے، مجھے نہیں معلوم۔ ہوسکتا ہے، جب تم جوان ہو تو آنے جانے میں کچھ سہولت ہوجائے۔ اگر تب تک مَیں تمھیں یاد رہا تو ذرا دیکھ آنا کہ وہ پہاڑی ابھی تک گُل و گل زار ہے یا میرے بویا ہوا گلشن اجڑچُکا۔ مَیں یہاں تو نہ ہوں گا، جہاں بھی ہوا، مجھے خبرکردینا۔ ‘‘

میرے باپ کا دَم رخصت ہوگیا۔ اُسے نہلانے کے لیے آنے والے مقامی مسجد کے غسّال کے کھردرے اوراجنبی ہاتھ ہمیں اچھے نہ لگے کہ کیا یہ ہاتھ ہمارے باپ کے بدن کو چھوئیں گے۔ ہم تینوں بھائیوں نے خُود اپنے باپ کو غسل دیا۔ اُس کی نیم وا نیلی آنکھوں میں مجھے شائبہ سا ہوا۔

وہاں عجب رنگ نقش تھے اوراُن میں زندگی تھی۔ وہ جھومتے لہلہاتے تھے، اگرچہ وہ خُود بےحس وحرکت پڑا تھا۔ جب ہم نے اُس کے بدن پر نیم گرم پانی گرایا، تو ایک مہک سارے میں پھیل گئی، جیسے مدّتوں سے پیاسی مٹّی پر بارش کی پہلی بوندیں گرتی ہیں، تو اُس میں سے ایک دھول آمیز مہک اُٹھتی ہے۔ وہ خاک کا محرمِ راز تھا، رزقِ خاک ہوا۔ اگرمٹّی کا کوئی ناخدا ہوتا، تو میرا باپ ہوتا۔