دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمن ڈکٹیٹر، ایڈولف ہٹلر نے یہودیوں کو جہاں اذیت ناک موت کے گھاٹ اتارا وہاں دس لاکھ کو زندہ بھی چھوڑ دیا۔ ساتھ ہی وضاحت کی کہ زندہ رہنے والےد نیا کو خود بتائیں گے کہ میں نے یہودیوں کا قتل عام کیوں کیا۔ اس وقت تو شاید یہ بات کسی کی سمجھ میں نہیں آئی ہوگی، لیکن آج ساری دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے کہ ہٹلر نے یہ ظلم کیوں کیا؟ دوسری عالمی جنگ میں ہٹلر کی شکست کے بعد برطانیہ نے فلسطین کا سینہ چیر کر22 ہزار مربع کلو میٹر رقبے پر یہودی ریاست اسرائیل قائم کی، پھر دنیا بھر سے یہودیوں کو اکٹھا کرکے یہاں بسایا۔ آج ان کی مجموعی آبادی ایک کروڑ دو لاکھ ہے اور وہ گریٹر اسرائیل کا خواب پورا کرنے کیلئے پوری دنیا کواپنی انگلیوں پر نچا رہے ہیں۔ حتیٰ کہ سپر پاور امریکہ بھی ان کے آگے لگا ہوا ہے۔ ہٹلر نے جو کہا تھا اس کا مطلب اب تو دنیا کی سمجھ میں آرہا ہوگا!
یہ بات عجیب لگے گی کہ تقریباً ایک کروڑ مربع کلو میٹر والا رقبے کے لحاظ سےدنیا کا سب سے بڑا ملک جس کی اپنی آبادی34کروڑ سے زیادہ ہے، ایک چیونٹی جیسی ریاست کا تابع معمل کیوں بن گیا ہے اوراس نے ساری دنیا کا امن خطرے میں کیوںڈال دیا ہے؟ اس کا کریڈٹ صہیونی یہودیوں کو جاتا ہے جنہوں نے اپنی سازشوں، چال بازیوں اور سود خورانہ ذہنیت سے امریکہ کو گھٹنوں کے بل گراکر اسے خاص طور پر اسلامی ممالک پر جارحانہ قبضے کیلئے استعمال کررہے ہیں۔ پہلے اس نے غزہ کو تاراج کیا۔ 80ہزار فلسطینی مسلمانوں کو شہید ، ڈیڑھ لاکھ سے زائد کو مجروح اور لاکھوں کو بے گھر کیا۔ لبنان، شام اور عراق پر بمباری کی۔ ایران کو نشانہ بنایا، اب ایک بار پھر ایران ان کے حملوں کی زد میں ہے اور امریکہ ان کے پہلو بہ پہلو ایرانی شہروں، تنصیبات اور قیادت پر بڑھ چڑھ کر حملے کررہا ہے۔ امریکی صدر دعویٰ کررہے ہیں کہ انہوں نے ایران کو تباہ کردیا ہے۔ ساتھ ہی ایرانیوں کو ہتھیار ڈالنے کا الٹی میٹم دے رہے ہیں اور یہ خواب دکھا رہے ہیں کہ امریکہ اپنے اتحادیوں کی مدد سے ایران کودوبارہ عظیم بنائے گا۔ شاید وہ ویسی ہی مدد کریں گے، جیسی امن بورڈ بناکر فلسطینیوں کی کررہے ہیں۔ اس امن بورڈ کے وہ خود چیئرمین ہیں۔ اس کے رکن ملکوں کو بھی انہوں نے خود ہی نامزد کیا لیکن کسی فلسطینی کو اس میں شامل نہیں کیا۔
امریکہ اور اسرائیل کے درمیان من تو شدم تو من شدی کا یہ تعلق شاید اس لیے پروان چڑھا کہ دونوں ظلم اور جبر کی پیداوار ہیں۔ پانچ صدی قبل امریکہ کا کوئی نام بھی نہیں جانتا تھا۔ ایک عالمی سیاح کولمبس، بحر ہند کا راستہ تلاش کرتے ہوئے بہاماس پہنچا، جس کے آگے امریکہ ہی امریکہ تھا۔ تب کولمبس کو امریکہ دریافت کرنے والے کا تاج پہنایاگیا، لیکن زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ کسی کو یہ بھی کہنا پڑا ’’کولمبس پر خدا کی لعنت جس نے امریکہ دریافت کیا‘‘ کولمبس نے جب امریکہ دریافت کیا تو وہاں تانبے جیسی رنگت کے انسان بستے تھے۔ گوری چمڑی والوں کو اس وسیع سرزمین کا پتہ چلا تو وہ جوق درجوق وہاں پہنچنے لگے۔ مقامی لوگوں نے مزاحمت کی تو ان کا قتل عام کردیا۔ ان سے فارغ ہوکر افریقہ سے سیاہ فام مخلوق کو اغوا کرکے لانے لگے اورانہیں اپنا غلام بنالیا۔ یہ ایک الگ عبرتناک داستان ہے۔ ایک ہی جیسی تاریخ کے حامل امریکہ اور اسرائیل آج ایک ہوچکے ہیں۔ انہیں ایک ایسا امریکی مل گیا ہے جو ان کی ہر خواہش پوری کرنے کیلئے اپنے ملک ہی نہیں پوری دنیا کا امن، معیشت اور معاشرت دائو پر لگانے کیلئے تیار ہے۔ اسرائیل اور امریکہ دونوں نے مل کر دوسری بار ایران کو تختہ مشق بنایا ہے، کیونکہ وہ گریٹر اسرائیل کےشیطانی منصوبے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ دونوں نے مل کر فلسطین اور ایران کی بڑی شخصیات کو شہید کردیا۔ اس قتلِ ناحق کے شراکت دار کو اب اپنی جان کی فکر پڑ گئی ہے۔ چنانچہ اس نے اپنی سلامتی اور اسرائیلی منصوبے کی کامیابی کیلئے دعا کرانے کی غرض سے عیسائی پادریوں کو اپنے محل میں بلایا۔ یہ جنٹلمین جو کسی طور بھی پادری نہیں لگتے تھے۔ دوڑے، دوڑے دربار میں پہنچے کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا، کسی نے پشت پر اور کسی نے زانو پر۔ یہ لوگ اسی پیغمبر کے ماننے والے ہیں جس کو صہیونی یہودیوں نے صلیب پر چڑھایا تھا۔ (یہ الگ بات کہ اللہ نے اپنے نبی کو زندہ آسمان پر اٹھالیا۔) اسرائیل نے امریکہ کی مدد سے جو جنگ چھیڑی اورجسے صلیبی جنگ کہا جانے لگا امریکہ کا خیال تھا کہ وہ چند گھنٹوں میں ختم ہوجائے گی۔ مگر ایران وینز ویلا نہیں تھا۔ اس نے اپنے رہبر آیت اللہ خامنہ ای اور دوسرے بڑے رہنمائوں کی شہادت کے باوجود جم کر مقابلہ کیا، خود 18 امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے اپنی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کا ایران میں رجیم چینج کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ایران میں حکومت کے خلاف کوئی بڑی بغاوت نظر نہیں آرہی۔ کمیونسٹ تو دہ پارٹی سمیت تمام مخالف گروپ ایران کی سلامتی کیلئے حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں۔ ایران پر حملوں کی شدت میں ضرور اضافہ ہورہا ہے مگر ایران کی جوابی کارروائیوں سے امریکہ اور اسرائیل کا بھی برا حال ہے۔ 67فیصد امریکیوں نے ایران پر حملے کی مخالفت اور صدر کے مواخذے کی حمایت کی ہے۔ چند دنوں کے ایرانی حملوں سے امریکہ کو دو ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے۔ دنیا کا تقریباً ہر ملک معاشی بربادی سے دوچار ہے۔ یورپی یونین نے امریکہ کا ساتھ دینے سے انکار کیا ہے اور اسلامی ممالک اپنی اپنی فکر میں غلطاں ہیں۔ ایسے میں بھارت ہی کھل کر ایران کے خلاف حملہ آوروں کا ساتھی ہے وہ بھی پاکستان دشمنی کی وجہ سے۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکہ یہ جنگ ہار رہا ہے اور اس کے صدر کے ستارے گردش میں ہیں۔