• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ان جاپانی خاتون کی عمر تقریباً 80 سال کے لگ بھگ ہوگی اور وہ بتا رہی تھیں جنگ کی تباہ کاریوں کا آنکھوں دیکھا حال۔’’میرے خدا دنیا میں کبھی ایٹمی جنگ نہ ہو۔ بیٹا میں نے اپنی آنکھوں سے منٹوں سیکنڈوں میں زندہ شہر کو قبرستان بنتے دیکھا ہے‘‘۔ خاتون اپنے چند دوستوں کیساتھ 1998 میں بھارت اور پاکستان کا دورہ کررہی تھیں اسی سال جب بھارت نے پانچ ایٹمی دھماکے کیے اور جواب میں پاکستان نے چھ۔ حال ہی میں پاک بھارت جنگ میں یہ خدشات پیدا ہوگئے تھے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس جنگ کو روکنے کا کریڈٹ لیتے ہوئے یہ بھی کہتے ہیں کہ میں نے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو بچایا۔ مگر اب انہوں نے خود ہی دنیا کو ایک خوفناک تباہی سے دوچار کردیا ہے ایران پر بلا جواز حملہ کرکے۔ یہ جنگ کب اور کیسے رکے گی کہنا قبل از وقت ہے مگر تاریخی طور پر امریکہ آج تک کسی جنگ سے کامیاب ہوکر نہیں لوٹا البتہ اس کی پالیسیوں نے ایک وائرس کی شکل میں لاکھوں لوگ مروادئیے، ویت نام سے عراق اور افغانستان سے شام تک۔

کسی بھی آگ کی تپش دور تک محسوس کی جاتی ہے اور گوکہ ہم اسرائیل امریکہ کے ایران پر حملے میں پارٹی نہیں مگر اس کے اثرات سے محفوظ بھی نہیں، کوشش البتہ یہی ہے کہ جنگ کی آگ جتنی جلدی ہو ختم ہو ورنہ اور کچھ نہیں تو معاشی طور پر تباہی تو صاف نظر آرہی ہے۔ظاہرہے حکمرانوں نے اس کا ’خراج‘ عوام سے ہی وصول کرنا ہے سو انہوں نے عوام کاتیل نکالنے کافیصلہ کرلیا اور یہ تیل ہرہفتے نکالا جائے گا۔کاش ابتدا ’ نئے نویلے جہاز‘ بڑی بڑی گاڑیوں کو خریدنے سے روکنےسے شروع کی جاتی، افسروں کیلئے ’ورک فرام ہوم‘ کے ساتھ پیٹرول فرام پاکٹ، یعنی اپنی جیب سے، جیسے اقدامات کا اعلان ہوتا تو شاید عوام کا غصہ کچھ کم ہوتا، یہاں توویسے بھی وزیر، مشیر، افسران’ورک فرام ہوم‘ ہی کرتے ہیں یقین نہ آئے تو صبح آٹھ یا نوبجے سرکاری دفاتر جاکر دیکھ لیں۔

جنگ نسلیں تباہ کردیتی ہے اس کو ہم نے بھی محسوس کیا ہے ان دوافغان جنگوں میں جسکے اثرات سے ہماری کئی نسلیں تباہ ہوکررہ گئیں۔ جنگ کی تباہ کاریاں بھی اپنے اپنے انداز میں آتی ہیں۔ پہلی افغان جنگ کے نتیجے میں پورا معاشرہ ڈرگ، اسلحہ، مذہبی انتہا پسندی کی لپیٹ میں ایسا آیا کہ آج تک ہم اس کے اثرات سے نکل نہ سکے۔ جبکہ دوسری افغان جنگ کے نتیجے میں فرقہ وارانہ اور دہشت گرد گروپس پیدا ہوئے اور ملک خود کش دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوا۔ اب ریاست نے’افغان طالبان‘ اور اسکی پاکستان پراکسی تحریک طالبان پاکستان اور دیگر گروپس جوپاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہیں کیخلاف آپریشن کا فیصلہ کیا۔ یہ لڑائی تاحال جاری ہے کب تک جاری رہے گی کہنا قبل از وقت ہے مگر بار بار یہ کہنا پڑتا ہے کہ جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف تک آتے آتےیہ ’ وائرس‘پورےجسم میں پھیل گیاتھا۔ خیبرپختوانخوا تو اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوا مگر دیگرصوبے خاص طور پر بلوچستان اور ملک کا سب سے بڑا شہر کراچی اس پھیلتی ہوئی آگ سے محفوظ نہ رہ سکے۔

معذرت کے ساتھ سالہا سال سے ہماری’قومی سلامتی کی پالیسی‘ قومی اتفاق رائے سے نہیں بنائی جاتی ورنہ تو ایسی پالیسی بنانے سے پہلے اس پر بحث ہوتی ہے کیونکہ ہر ایسی پالیسی کے اندرونی اور بیرونی دونوں اثرات کو مدنظررکھا جاتا ہے۔ اسی لیے کبھی ہم افغان جہاد، کبھی دہشتگردی کے خلاف عالمی جنگ تو کبھی پاک بھارت تنازع توکبھی ایران میں آنے والی تبدیلیوں اور تنازعات کے ’ مخمصے‘ میں الجھ کررہ جاتے ہیں۔ ہر بات کو یہ کہہ کر ختم کردیا جاتا ہے کہ یہ ’قومی مفاد‘ میں ہے۔ کبھی کسی وزیر اعظم کو ’ سیکورٹی رسک‘ قرار دیا جاتا ہے اور پھر کچھ عرصہ بعد وہی وزیر اعظم بناکر دوبارہ لے آیا جاتا ہے۔ لہٰذا قومی سلامتی کی پالیسی بناتےوقت جوش وجذبات سے زیادہ ہوش اور دانشمندی کی ضرورت ہے۔

کے پی اور بلوچستان چند دہائیوں پہلے انتہائی پرامن صوبے ہوا کرتے تھے ،یہیں عروس الباد کراچی روشنیوں کا شہر ہوتاتھا پھر اس شہر میں ہم نے پاسداران انقلاب اور مجاہدین خلق کی پراکسی وار بھی دیکھی اور پھر آگے جاکر اسی شہر کو اور دونوں صوبوں کو خون میں لت پت بھی دیکھا۔ سیاسی تاریخ کے ایک ادنیٰ طالبعلم کی حیثیت سے اور صحافت میں چار دہائیوں سے زیادہ وابستہ رہنےکے بعد میں پورے یقین سے یہ کہہ سکتاہوں کہ جن جن کو ہماری ریاست’غدار‘ اور غیر محب وطن اور ملک دشمن کہتی رہی وہی بتارہے تھے کہ خدارا ان جنگوں سے دور رہیں۔ ہم نے سرخ پوش تحریک اور خان عبدالغفار خان، خان عبدالولی خان سمیت بائیں بازوں کی جماعتوں پر ایسے مقدمات قائم کیے مگر ان کی بتائی ہوئی باتیں آج سچ ثابت ہورہی ہیں۔

ایک وقت تھا جب بلوچستان کی حکومت نے پروفیسر کرار حسین کو بلوچستان یونیورسٹی کا وائس چانسلر بنایا اور جب وہ کراچی سے کوئٹہ پہنچے تو ائیرپورٹ پر وزیراعلیٰ عطا اللہ مینگل اور گورنر میر غوث بخش بزنجو خود ایئرپورٹ پر انکے استقبال کیلئے موجود تھے۔ مقصد صرف صوبے میں ایک ماہر تعلیم کو لاکر وہاں تعلیم کا فروغ تھا۔ اگر ملک میں کوئی دوسری ایسی مثال ہوتو بتائیے گا؟۔ خان عبدالقیوم خان کے دور میں کے پی میں بڑی تعداد میں اسکول قائم ہوئے اور یہ پالیسیاں بعد میں بھی جاری رہیں۔ بعد میں ہماری پالیسیوں نے ان دونوں صوبوں کو ’افغان جہاد‘ کی بھینٹ چڑھا دیا۔ آج ہم بلوچستان کا مسئلہ شفیق مینگل اور فارم۔47کی حکومت کے ذریعہ حل کرنا چاہ رہے ہیں۔

افغانستان کی جنگوں اور پالیسیوں سے دونوں ملکوں کے عوام سب سے زیادہ متاثر ہوئےہیں۔ ہم نے روس کے خلاف لاکھوں جہادی تو پیدا کیےاس کے جانے کے بعد ’سول وار‘ نہ روک سکے نہ ہی افغان طالبان اور دیگر تنظیموں کو، نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ ایران میں اس وقت جو کچھ ہورہا ہے اس جنگ نے کوئی خطرناک رخ اختیار کیا تو کیا ہم لاکھوں افغانیوں کے بعد لاکھوں ایرانیوں کو لینےکو تیار ہیں۔ اس جنگ کی تپش کو محسوس کریں اور قومی سلامتی پر قومی اتفاق رائے پیدا کریں کہیں دیر نہ ہوجائے۔

تازہ ترین