• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ایک انٹرویو کا ویڈیو کلپ ان دنوں سوشل میڈیا پر بہت وائرل ہورہا ہے۔ اس کلپ میں انہیں یہ کہتے سنا جاسکتا ہے کہ اسرائیل کی ترجیحات میں شامل ہے کہ اپنی سیکورٹی کیلئے شدت پسند اسلامی حکومت کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکا جائے یا ایٹمی ہتھیار کسی شدت پسند اسلامی حکومت کے ہاتھ نہ لگنے دیئے جائیں۔ نیتن یاہو اس ضمن میں پہلی مثال ایران اور دوسری پاکستان کی دیتے ہیں۔ واضح رہے کہ نیتن یاہو نے یہ بیان اس سوال کے جواب میں دیا کہ ’’اسرائیل کی آئندہ نسلوں کو سب سے بڑا خطرہ کس چیز سے درپیش ہے؟‘‘ ان کے بیان سے یہ صاف ظاہر ہے کہ وہ پاکستان کو ایک شدت پسند اسلامی ریاست تصور کرتے ہیں جو ایٹمی ہتھیاروں کے حوالے سے اسرائیل کیلئے خطرہ ثابت ہوسکتی ہے۔ انکے اس انٹرویو سے اس بحث نے جنم لیا کہ کیا ایران کے بعد اسرائیل کا اگلا ہدف پاکستان ہوگا؟ نیتن یاہو اکثر اپنی تقاریر میں یہ موقف پیش کرتے رہے ہیں کہ اسرائیل کی سیکورٹی پالیسی کا مقصد ان گروپوں یا اُن حکومتوں کو روکنا ہے جنہیں وہ انتہا پسندجہادی اسلامی رجیم کہتے ہیں اور اسرائیل ان ممالک کے خلاف دفاعی طاقت کے استعمال کا حق رکھتا ہے۔

اسی دوران سوشل میڈیا پر کینیڈا کی Concordia یونیورسٹی کے بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر ڈاکٹر جولین اسپنسر چرچل کا ایک مضمون ’’اسرائیل کا اگلا ہدف پاکستان‘‘ بھی بہت وائرل ہے۔ اس مضمون میں انہوں نے یہ تجزیہ پیش کیا کہ ایران کے بعد مستقبل میں اسرائیل کا ممکنہ ہدف پاکستان ہوگا۔ پروفیسر چرچل کے مطابق یہ محض قیاس آرائی پر مبنی نہیں بلکہ دستاویزی شکل میں موجودہے کہ امریکہ، اسرائیل اور بھارت مل کرپاکستان کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کی مشترکہ حکمت عملی ترتیب دے رہے ہیں۔ چرچل کے مطابق پاکستان کے پاس تقریباً 170 جوہری ہتھیار ہیں جبکہ اسرائیل جو ایک غیر اعلان شدہ نیوکلیئر ملک ہے، کے پاس تقریباً 90 جوہری ہتھیار ہیں مگر بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) نے کبھی اسرائیل کے جوہری ہتھیاروں کی جانچ پڑتال کی زحمت گوارا نہیں کی جبکہ دوسری طرف ایران کے بارے میں ایٹم بم بنانے کی افواہوں پر پابندیاں اور حملے شروع کردیئے جاتے ہیں۔ چرچل نے اپنے مضمون میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ ٹرمپ جو پاکستان کے ساتھ دوستی کا چہرہ دکھاتے ہیں، وہ محض ایک دکھاوا ہے، بھارت نے گزشتہ سال مئی میں جب پاکستان پر حملہ کیا تو بھارت کی شکست اور پاکستان کی فتح کے بعد اسرائیل اور امریکہ کو یہ احساس ہوا کہ بھارت پاکستان سے اکیلا مقابلہ نہیں کرسکتا بلکہ مستقبل میں اسے امریکہ اور اسرائیل کی ضرورت پڑے گی۔ چرچل کا اپنے مضمون میں مزید کہنا ہے کہ روس کو یوکرین اور چین کو تائیوان کے مسئلے میں الجھانے کی کوششیں جاری ہیں تاکہ یہ ممالک پاکستان کی مدد کو نہ آسکیں۔

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے بیان اور کینیڈین پروفیسر چرچل کے مضمون میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے جن سے یہ صاف ظاہر ہے کہ اسرائیل، پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کو صرف پاکستان کا نہیں بلکہ اسلامی جوہری ہتھیار تصور کرتا ہے اور پاکستان، سعودیہ حالیہ دفاعی معاہدے جس میں پاکستان نے سعودی عرب کو اسرائیل کے خلاف نیوکلیئر چھتری فراہم کی ہے، اس کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے، اسی لئے ایران کے جوہری پروگرام کو نشانہ بنانے کے بعد اس کا اگلا ہدف پاکستان ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان کا جوہری پروگرام شروع دن سے ہی عالمی توجہ کا مرکز اور نشانے پر رہا ہے، بھارت ہمیں ختم کرنا چاہتا ہے اور امریکہ اور اسرائیل اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اسرائیل نہیں چاہتا کہ کوئی اسلامی ملک جوہری ہتھیار رکھے، اس لئے ان ممالک کا منصوبہ ہے کہ پاکستان کو معاشی طور پر کمزور کیا جائے، آئی ایم ایف کو پاکستان کی امداد سے روکا جائے اور ایٹمی ہتھیاروں کو شدت پسندوں کے ہاتھ لگنے کا بہانہ بناکر اس کے خلاف حملے کا جواز پیدا کیا جائے اور اس کے جوہری ہتھیار ختم کئے جائیں۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا پاکستان مخالف بیان اور کینیڈین پروفیسر چرچل کا مضمون اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ صرف افواہیں نہیں بلکہ یہ بات خارج از امکان نہیں کہ ایران کے بعد بھارت اور اسرائیل کا اگلا ہدف پاکستان ہوسکتا ہے۔ اسی تناظر میں پاک فوج کے ترجمان ڈی جی آئی ایس پی آر احمد شریف چوہدری اپنے حالیہ انٹرویو میں دنیا کو یہ پیغام صاف لفظوں میں دے چکے ہیں کہ پاکستان ایک ذمہ دار اور اعلان شدہ ایٹمی طاقت ہے، کسی مستحکم ایٹمی طاقت کے خلاف جنگ چھیڑنا انتہائی خطرناک اور غیر دانشمندانہ ہوگا اور اس کے نتائج صرف دو ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کیلئے تباہ کن ہوسکتے ہیں۔اس طرح پاکستان نے کھلے لفظوں میں یہ واضح کردیا ہے کہ اگر ہمیں دیوار سے لگایا گیا تو ہم باقی دنیا کو آرام سے نہیں بیٹھنے دیں گے، اگر کوئی ہمارے جوہری ہتھیار ختم کرنے کی کوشش کرے گا تو ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے اور ہمارے ایٹمی ہتھیار صرف 7 منٹ میں تل ابیب پہنچ سکتے ہیں۔پاکستان غزہ، ایران، عراق یا لبنان نہیں بلکہ ایک خود مختار ایٹمی صلاحیت رکھنے والی ریاست ہے جس کا جوہری پروگرام ملکی سلامتی کی یقینی بنانے کیلئے ہے، اگر کسی ملک نے پاکستان پر میلی نظر ڈالی اور ملکی بقا کا سوال آیا تو دشمن ملک بھی صفحہ ہستی سے مٹ جائے گا۔

تازہ ترین