وفاقی وزیر تعلیم کی طرف سے’’ کوئی بچہ تعلیم میں پیچھے نہ رہ جائے ‘‘ کے عنوان سے خصوصی مہم کا سرکاری طور پر باقاعدہ آغاز اس وژن کی عملی صورت گری ہے جس کا اظہار2023ء سے مختلف مواقع پر وزیر اعظم شہباز شریف کے مختلف بیانات کی صورت میں ہوتارہا ہے۔ وزیر اعظم کے مذکورہ بیانات کوان الفاظ میں سمیٹاجا سکتا ہے کہ اسکول تک پہنچنے سے محروم بچوں کی موجودگی کسی بھی معاشرے کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ کیونکہ تعلیم ہی وہ بنیاد ہے جس پر مضبوط معیشت، باشعورمعاشرے اور مستحکم ریاست کی عمارت استوار ہوتی ہے ۔ وزیر اعظم کی لیپ ٹاپ اسکیم سمیت دیگر اقدامات بھی فروغ تعلیم پر ان کی خصوصی توجہ کے مظہر ہیں۔25فروری 2026ء کو ان کی کابینہ کے رکن خالد مقبول صدیقی نے ملک کے نونہالوں کو اسکولوں میں لانے اور زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کے جس نصب العین، موٹو یا عنوان کا اعلان کیا اس کے انگریزی الفاظ’’ نو چائلڈ لیفٹ بہائنڈ‘‘(No child left behind)ایک طرف اس حقیقت کا اعتراف ہیں کہ ہم اپنے بچوں کی قابل لحاظ تعداد کو ( جس کا اندازہ ڈھائی کروڑ لگایا گیاہے) تعلیمی اداروں کی طرف لے جانے میں کسی نہ کسی غفلت کے مرتکب رہے ہیں، دوسری جانب یہ الفاظ اس عزم کا اظہار بھی ہیں کہ ہر بچے کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کی مربوط کاوشیں کی جائیں گی۔ ایسے وقت کہ قیام پاکستان کی 77ویں سالگرہ قریب آرہی ہے ،ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ مختلف شعبوں میں پی ایچ ڈی سمیت اعلیٰ ڈگریوں او ر مہارتوں کے حامل افراد کے فیصد تناسب کا فخریہ اعلان سامنے آتا مگرگزرتے وقت کی کہانیاں بیان کرنے سے بہتر یہ معلوم ہوتا ہے کہ آگے کی طرف دیکھاجائے۔ ارفع منز ل کی طرف پہلا قدم اٹھانا بھی دلیل بنتا ہے اس بات کی کہ اگلی منزلیں ہمارے زیر قدم آئیں گی ۔ ہمارے سامنے خیبر پختونخوا کے ضلع چترال کی مثال موجود ہے۔ ہمالیہ اور ہندوکش پہاڑوں کے درمیان واقع اس دور دراز خوبصورت علاقے میں1980ء میں ایک منصوبے کے ساتھ بچوں کی تعلیم وتربیت کا پروگرام شروع کرتے وقت کمیونٹی کی شمولیت سے فائدہ اٹھایا گیا۔ حکومت اور مقامی تنظیموں نے اسکولوں کی سہولتیں بہتر بنائیں، اساتذہ کی تربیت کی، تعلیمی معیار کی مسلسل اٹھان ملحوظ رکھی، ہر سال بچوں کی تعلیم ، شمولیت اور خواندگی کا جائزہ لیا جاتا رہا، اصلاحات نافذ کی جاتی رہیں اور آج یہ بات فخریہ کہی جاتی ہے کہ مذکورہ کاوشوں کا نتیجہ باقاعدہ تعلیم یافتہ افراد کا تناسب سوفیصد کےقریب پہنچنے کی صورت میں نمایاں ہے۔ علاقے کے بچوں اور نوجوانوں میں تعلیمی شعور اور عملی مہارتیں دونوں یکجا ہیں۔
وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے قبل ازیں سامنے آنے والے بیانات میں بھی اسکولوں سے باہر رہنے والے بچوں کے چیلنج سے نمٹنے کا عزم واضح کررہا ہے کہ25فروری کولانچ کی گئی مہم کیلئے پہلے سے کافی تیاری کی جاچکی ہے۔ وفاقی وزیر نے ہر بچے کو اسکول میں لانے کے جس پروگرام کی نقاب کشائی کی اس کے تحت گھر گھر جاکر بچوں کا سروے کیا جائے گا،موجودہ اسکولوں کا جائزہ لیا جائے گا،جہاں جہاں اسکولوں کی عمارتیں فوری طور پر دستیاب نہیں وہاں مساجد،گھروں یا متبادل مراکز میں کلاسیں لگائی جائیں گی ۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ اس باب میں ایک ٹائم فریم بنالیا گیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوکہ اس ضمن میں پیش قدمی واضح طور پر نظر آئے، کاغذوں اور اعلانات تک محدود نہ رہے۔ یہ بات بہر طور ملحوظِ نظررہنی چاہئے کہ پاکستان وہ ملک ہے جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا اور اسلام حصول تعلیم کو (ہر مرد اور عورت کیلئے ) فریضہ قرار دیتا ہے۔ تاریخ کی کتابیں مسجد نبویﷺ سے ملحق چبوترے (صفہ) کو دنیا کی پہلی اقامتی یونیورسٹی قرار دیتی ہیں جبکہ مسجد نبویﷺ کو عبادت کا مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ ایسی تعلیمی درس گاہ کی حیثیت بھی حاصل رہی جہاں سے صحابہ کرام علم حاصل کرتے اور آگے منتقل کرتے رہتے تھے۔ غزوہ بدر کے بعد جو قیدی اس وقت کے رواج کے مطابق فدیہ نہ ادا کرسکتے تھے انہیں موقع دیاگیا کہ وہ بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھادیں۔ اسکے بدلے میں قیدیوں کی رہائی عمل میں آگئی۔ یہ واقعہ مثالیہ ہےاس امرکا کہ اسلام نےتحصیل علم کو وقتی مالی فوائد پرترجیح دی۔ بعد ازاں بیت الحکمت کے قیام، مختلف زبانوں میں موجود علمی ذخائر کے ترجموں،جزیرہ عرب کی تعلیمی روشنی کے پھیلاؤ سے یورپ کی نشاۃ ثانیہ تک جانے کی مثالیں رہنمائی کرتی ہیں اس امر کی جانب کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی مملکت میں تمام لوگوں کیلئے ہر سطح پر تعلیم تک رسائی آسان بنائی جانی چاہئے۔دستور پاکستان کی شق25۔ اے کا منشا بھی یہی ہے کہ ریاست پانچ سے16سال تک کی عمر کے بچوں کیلئےمفت اور لازمی تعلیم کا بندوبست یقینی بنایا جائے۔
پاکستان میں بچوں کی قابل لحاظ تعداد کے اسکول تک نہ پہنچنے یا وہاں طویل عرصہ تک برقرار نہ رہنے کی بڑی وجہ ان کی معاشی اور سماجی مجبوری ہے۔ مشکل ترین معاشی کیفیت سے دوچار بعض والدین اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے کی بجائے کم عمری میں کسی گھر یا دکان میں مزدوری یا مشقت کے کام پر لگادیتے ہیں۔ یہ ایک پیچیدہ ، سماجی مسئلہ ہے جس کے پس منظر میں غربت ، بے روزگاری، وسائل کی کمی اور سماجی عدم تحفظ جیسے عوامل کارفرما ہوتے ہیں اس لئے اس پہلو پر باریک بینی، ہمدردانہ بصیرت اور مربوط حکمت عملی کے ساتھ کام کرناہوگا۔ جب تک ان معاشی وسماجی رکاوٹوں کا عملی اور پائیدار حل تلاش نہیں کیا جائے گا، صرف مہمات مطلوب اور دیرپا نتائج نہیں دے سکیں گی۔