• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کابل نے 27اپریل 1978ء سے27دسمبر 1979ء تک تین خونریز انقلاب دیکھے ،انقلاب ثور کے نتیجے میں سردار دائود خان کا تختہ اُلٹائے جانے کے بعد کامریڈ باہم دست و گریباں ہوگئے ،سرخ انقلاب تو نہ آیا البتہ خلق اور پرچم دھڑوں کی لڑائی نے افغانستان کو انسانی خون سے رنگ دیا۔حفیظ اللہ امین نے نورمحمد ترکئی کو قتل کرکے خود عنان اقتدار سنبھال لی اور پھر سوویت صدر برژنیف نے KGB کی اسپیشل فورس بھیج کر تیسرے فوجی انقلاب کے ذریعے ببرک کارمل کو تخت پر بٹھا دیا۔ہم سنتے آئے ہیں کہ روس گرم پانیوں کی تلاش میں افغانستان آیا مگر حقیقت کیا ہے؟روسی مداخلت کے اسباب کیا تھا؟کابل میں بدلتی حکومتوں اور انقلابات کے دوران پاکستان کا کیا کردار رہا؟ آج ہم یہی گتھی سُلجھانے کی کوشش کریں گے۔

’’انقلاب ثور‘‘کے نتیجے میں سرداردائود خان کی حکومت کا تختہ اُلٹائے جانے کے اگلے روز اخبارات میں خبریں شائع ہوئیں ،نقش کہن مٹ گیا، بادشاہت کی باقیات کا صفایا ہوگیا۔ بتایا گیا کہ نور محمد ترکئی انقلابی کونسل کے چیئرمین جبکہ ببرک کارمل وائس چیئرمین منتخب ہوگئے ہیں ۔نورمحمد ترکئی جنہیں انکی ادبی خدمات کیوجہ سے افغانستان کا میکسم گورکی کہا جاتا ہے۔ظاہر شاہ کے دورِ حکومت میں انکی باغیانہ سرگرمیوں سے تنگ آکر حکومت نے انہیں امریکہ میں پریس اتاشی تعینات کردیا لیکن وہاں بھی نور محمد ترکئی نے وہی سرگرمیاں شروع کردیں تو واپس بلوالیا گیا۔نور محمد ترکئی نے ببرک کارمل اور میر اکبر خیبر سے ملکر ’’حزب دیموکراتیک خلق‘‘یعنی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان کی بنیاد رکھی ۔نور محمد ترکئی کے دور میں زرعی اصلاحات نافذ کی گئیں ۔19اگست کو افغانستان کے یوم ِ آزادی کے موقع پر افغان نیشنل ٹی وی کی نشریات کا آغاز ہوا۔5دسمبر 1978ء کو سوویت یونین کیساتھ دوستی کے20سالہ معاہدے پر دستخط کئے گئے۔حکومت پاکستان نے بھی افغانستان میں قائم نئی انقلابی حکومت کو تسلیم کرلیا ۔جنرل ضیاالحق 9ستمبر1978ء کو وزیر خارجہ آغا شاہی کے ہمراہ دورہ افغانستان پر کابل پہنچے تو حفیظ اللہ امین اورلیفٹیننٹ کرنل اسلم وطن یار نے ان کا استقبال کیا۔جنرل ضیاالحق کی کامریڈ نور محمد ترکئی سے ملاقات زیادہ خوشگوار نہ رہی اور کئی بار افغان صدر نے چٹکی کاٹتے ہوئے ضیاالحق کو یہ باور کروانے کی کوشش کی کہ ان دونوں نے فوجی انقلاب کے نتیجے میں اقتدارپر قبضہ کیا ہے۔

جنرل خالدمحمود عارف اپنی کتاب ’’ضیاالحق کے ہمراہ‘‘کے صفحہ نمبر 438 اور 439پر اس ملاقات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ چہرے پر ایک شریر مسکراہٹ بکھیرتے ہوئے مسٹر ترکئی نے جنرل ضیاپر نگاہیں گاڑ دیں اور کہا،اب آئیے اس بات کا جائزہ لیں کہ ہم دونوں نے انقلاب کو کس کس طرح نافذ کیا۔اس موضوع پر پہلے بولتے ہوئے فرمانے لگے ،ہم گزشتہ تیرہ برسوں سے انقلاب لانے کی تیاریاں کر رہے تھے چند لمحے خاموشی چھائی رہی۔مسٹر ترکئی نے مہر سکوت توڑی ۔جنرل ضیا کی طرف دیکھا اور پوچھا،اب آپ بتائیے کہ آپ نے انقلاب کو کیسے نافذ کیا؟درحقیقت پاکستان میں کوئی انقلاب والی بات ہی نہ تھی ۔میں نے ٹیلیفون پر مسٹر بھٹو کو مطلع کیا کہ میں نے ملک کا نظم و نسق سنبھال لیا ہے۔میں نے انہیں انکی جان کی سلامتی کی ضمانت بھی دی اور بس ۔ضیا نے جواب دیا۔

جنوبی ایشیا میں انقلاب کا موسم عروج پر تھا،جب نور محمد ترکئی برسراقتدار تھے تو ایران میں اسلامی انقلاب آگیا اور شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کو رخصت ہونا پڑا۔کابل میں امریکی سفیر Adolph Dubsکواغوا کے بعد قتل کردیا گیا۔کابل میں سرخ انقلاب پورے جوبن پر تھا ۔سرکاری عمارتیں ،دکانیں ،گھر ،دفاتر کھڑیاں ،گاڑیاں سب لال رنگ میں نہلا دی گئیں ۔سرخ انقلاب کی اس مہم نے اس قدر زور پکڑا کہ کابل میں ریڈ پینٹ کی قلت ہوگئی ۔نور محمد ترکئی کو سرخ پسند تھا ،پھر چاہے وہ رنگ ہو یا پھر سیاسی مخالف کامریڈوں کا خون ۔پل چرخی جیل کے باہر بلڈوزر کھدائی میں مصروف دکھائی دیتے کیونکہ حکومت کیخلاف آواز اُٹھانے والوں کوپھانسی دیکر ان کی لاشیں ٹھکانے لگانا سب سے بڑا مسئلہ بن گیا تھا۔نور محمد ترکئی اور حفیظ اللہ امین کا تعلق خلق دھڑے سے تھا چنانچہ پرچم والوں کو چن چن کر نشانہ بنایا جا رہا تھا۔ببرک کارمل جنہیں شروع میں انقلابی کونسل کا وائس چیئرمین منتخب کیا گیا تھا۔انہیں دیوار سے لگانے کیلئے چیکو سلواکیہ میں افغان سفیر بنا کر بھیج دیا گیا جبکہ ڈاکٹر نجیب اللہ کو ایران میں سفیر تعینات کردیا گیا۔

ببرک کارمل اور ڈاکٹر نجیب کو کابل طلب کیا گیا مگر انہیں معلوم تھا کہ واپسی پر ان کا انجام کیا ہوگا اسلئے دونوں نے واپس آنے کے بجائے یوگوسلاویہ کا رُخ کرلیا اور خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرلی۔حفیظ اللہ امین کو بادشاہ گر کی حیثیت حاصل ہوچکی تھی۔حفیظ اللہ امین کو پہلے وزیر خارجہ بنایا گیا ،پھر داخلہ اور دفاع کی وزارت بھی حفیظ اللہ نے سنبھال لی،یوں فوج پر حفیظ اللہ امین کا اثر و رسوخ بڑھنے لگا۔شروع میں نور محمد ترکئی اور حفیظ اللہ امین کے تعلقات مثالی تھے ،دونوں ایک دوسرے کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے۔نور محمد ترکئی کہا کرتے تھے کہ حفیظ اللہ امین اور وہ Nailاور Fleshیعنی گوشت میں پیوست ناخن کی طرح ہیں جنہیں الگ نہیں کیا جا سکتا۔مگر پھر ان تعلقات میں دراڑ پڑ گئی اور دونوں کے درمیان فاصلے پیدا ہونے لگے۔سوویت یونین کے صدر برژنیف نے ریڈ آرمی کے جنرل Alexi Yepishevجو پولٹ بورو کے اہم ایک رُکن تھے ،انہیں6دیگر جرنیلوں کے ہمراہ فیکٹ فائنڈنگ مشن پر کابل بھیجا۔روسی وفد خلق اور پرچم دھڑوں کی لڑائی اور انتقامی کارروائیوں کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ستمبر 1979ء میں غیر جانبدار ممالک کی چھٹی سربراہی کانفرنس ہوانا میں ہورہی تھی ،نور محمد ترکئی اس میں شرکت کیلئے گئے تو انکی پاکستانی صدر جنرل ضیاالحق سے ملاقات ہوئی ۔اس کانفرنس کے بعد نور محمد ترکئی ماسکو چلے گئے جہاں انہیں زبردست پروٹوکول دیا گیا ۔یہ آئو بھگت ایسی ہی تھی جیسے بکرے کو قربان کیے جانے سے پہلے اسے خوب کھلایا پلایا جاتا ہے ۔نور محمد ترکئی نہیں جانتے تھے کہ انکے مہربان اپنا دست شفقت اُٹھا چکے ہیں اور انکا انجام اب چند ہی دنوں کی بات ہے۔

تازہ ترین