• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے عیدین (عید الفطر اور عیدالاضحٰی) کی راتوں کو ثواب کی اُمید رکھتے ہوئے زندہ رکھا (عبادت میں مشغول اور گناہ سے بچا رہا) تو اُس کا دل اُس (قیامت کے ہول ناک، دہشت ناک) دن نہ مرے گا، جس دن لوگوں کے دل (خوف و ہراس اور دہشت و گھبراہٹ کی وجہ سے) مُردہ ہوجائیں گے۔ خصوصاً ماہِ صیام کی آخری رات/ چاند رات ’’لیلۃ الجائزہ‘‘کوغل غپاڑے یا بازاروں میں گھوم پھر کے ضایع کرنے کے، اللہ کے حضور حاضر رہ کر رمضان المبارک کی محنتوں، ریاضتوں کی اُجرت، انعام لینا چاہیے۔

عید عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی خوشی، جشن، فرحت اور چہل پہل کے، جب کہ فطر کے معنی روزہ کھولنے کے ہیں یعنی روزہ توڑنا یا ختم کرنا۔ چوں کہ عید الفطر کے دن روزوں کا سلسلہ ختم ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ بندوں کوعباداتِ رمضان کاثواب عطا فرماتے ہیں، تو اس تہوار کو ’’عید الفطر‘‘ قرار دیا گیا۔ 

ویسے عید کا لفظ عود سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ’’لوٹنا‘‘ کے ہیں اور یہ دن چوں کہ مسلمانوں پر بار بار لوٹ کر آتا ہے، تو اِس لیے بھی عید کہلاتا ہے۔ ابن العربی کا کہنا ہے۔’’عید کو’’عید‘‘ اِس لیے کہتے ہیں کہ یہ دن ہرسال مسرت کےایک نئے تصوّر کے ساتھ لوٹ کر آتا ہے۔ ‘‘ عید الفطر کے روز روزہ رکھنا حرام، جب کہ غسل کرنا، خوشبو استعمال کرنا، اور اچھا لباس پہننا سنّت ہے۔

عید کی نماز کا وقت سورج کے ایک نیزے کے برابر بلند ہونے سے ضحوہ کبریٰ تک ہے اور ضحوہ کبریٰ کا آغاز صُبحِ صادق سے غروبِ آفتاب تک کے کُل وقت کا نصف پورا ہونے پر ہوتا ہے۔ ہر نمازادا کرنے سے پہلے اذان دی جانا، اقامت کہنا ضروری، مگر عید کی نماز اذان اور اقامت سے مستثنیٰ ہے اور اس نماز کی صرف دو رکعات ہوتی ہیں۔

عیدالفطر خوشی کا دن ہے کہ یہ مبارک دن اللہ تعالیٰ کی جانب سے اپنے بندوں کے لیے بہت بڑا انعام ہے۔ اس کی سعادتوں، برکتوں، رحمتوں، فضیلتوں کے بیان سے صفحوں کے صفحے بھرے پڑے ہیں، مگر حقیقتاً اصل سعادت ومسرت اُسی کو حاصل ہوتی ہے، جس نے رمضان المبارک کے تقاضے پورے کیے، ماہِ صیام کی صداؤں پر لبیک کہا ہو۔ سب سے اہم کام، جو نمازِ عید سے پہلے کرلینا واجب ہے۔

وہ فطرانے کی ادائی ہے کہ صدقۂ فطر رمضان میں ہوجانے والی لغویات کی طہارت کرتا ہے، تو یہ مساکین کی تکمیلِ ضرورت کا ذریعہ بھی ہے۔ ہر صاحبِ نصاب مرد وعورت کے لیےصدقۂ فطرادا کرنا لازم ہے، تو نابالغ بچّوں کی طرف سے اُن کا ولی فطرہ ادا کرے گا،خواہ وہ بچّہ عید کی صُبح تولّد ہوا ہو۔ نمازِعید کی تیاری کے ضمن میں ناخن تراشنا، مسواک، غسل کرنا، نئےکپڑے پہننا، نہ ہوں تو دُھلے ہوئے اچھے کپڑے زیبِ تن کرنا، خُوشبو لگانا سنتِ رسولﷺ ہے۔ کوشش کرکے عید گاہ جلد پہنچیں۔

سواری پر جانے میں بھی کوئی حرج نہیں، لیکن اگر چل سکتے ہوں تو پیدل جانا افضل ہے۔ ایک راستے سے جائیں اور دوسرے سے واپس آئیں۔ اس طرح مختلف راستے آپ کی عبادتوں کےگواہ بنتےجائیں گے۔ عیدالفطر روزوں کی عید ہےاور اِسے روزوں کی عید ہی نظر آنا چاہیے۔ 

یہ بہت سی خوشیوں، رحمتوں کا مجموعہ، فرحت و انبساط کا دن ہے، تو ساتھ ہی اللہ تعالیٰ سے مغفرت کی اُمید رکھنے کا دن بھی۔ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو اپنے فضل و کرم سے اِس دن کے ہر ہر پل سے فیض یاب ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور آئندہ زندگی گناہوں، معصیتوں اور نافرمانیوں سے بچائے رکھے، آمین۔ (محمّد عیسیٰ خان، اسلام آباد)

سنڈے میگزین سے مزید