• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

عید الفطر: نتیجے کے اعلان، ایمان کا سوت بچانے کا دن

افشاں نوید

عید الفطر کا چاند نظر آنے کی خبر پھیلتے ہی گھر بَھر میں خوشی و مسرّت کی لہر دوڑ گئی تھی۔ گلی میں بچّے شور مچا رہے تھے۔ کوئی خوشی کے مارے چھت کی منڈیر پر چڑھ کر آسمان کی طرف اشارہ کر رہا تھا، تو کوئی موبائل فون سے ہلالِ عید کی تصویر لینے کی کوشش کررہا تھا۔ چاند نظر آتے ہی گھر میں بھی ہل چل بڑھ گئی تھی۔ کچن میں برتنوں کی آواز، گرائنڈر کے شور، موبائل فون پر مبارک باد کی کالز، بیٹیوں کی سرگوشیوں اور فضا میں رچی منہدی کی خوش بُو نے اچانک سارا ماحول بدل کر رکھ دیا تھا۔

’’امتحان‘‘ ختم ہو چُکا تھا اور اب اُس کا ’’نتیجہ‘‘ سامنے آنے والا تھا۔ اپنے ارد گرد شور شرابے اور ہل چل کے باوجود مریم خاموش تھی۔ اُس کے پورے وجود پر ایک عجیب سا سکوت طاری تھا۔ وہ کھڑکی کے پاس کھڑی آسمان پر موجود ہلالِ عید دیکھ رہی تھی اوراُسےایسا لگ رہا تھا کہ جیسے وہ باریک ساچاند اُس سے کسی وعدے کی گواہی لے رہا ہو۔ 

مریم نے دل ہی دل میں کچھ سوچا اور پھر خود کلامی کرنے لگی۔ ’’رمضان واقعی ختم ہوگیا…‘‘یہ احساس ابھی تک اُس کے دِل میں پوری طرح اُتر نہیں پایا تھا۔ رمضان کے آخری عشرے میں اُس نے راتیں جاگ کر گزاری تھیں اور کئی بار سجدے میں آنکھوں سے بےاختیار آنسو نکلے تھے۔ کئی مرتبہ دِل نے اعتراف کیا کہ وہ کم زورو محتاج ہے اور اپنے ربّ کی رحمت و توفیق کے بغیر کچھ بھی نہیں۔ ان راتوں میں اُس نے اپنے دل کے کئی بند دروازے کُھلتے محسوس کیے، لیکن اب کل سے وہی مصروفیات، وہی زندگی، وہی روز و شب اور وہی معمولات دوبارہ شروع ہونے والے تھے۔

پھر اُسے اچانک سورۂ یونس کی یہ طمانیت بخش آیت یاد آئی کہ ترجمہ: ’’کہہ دیجیے، اللہ کے فضل اور اُس کی رحمت پر خوشی مناؤ، یہ اُن تمام چیزوں سےبہتر ہےجو لوگ جمع کرتے ہیں۔‘‘ تب مریم نے سوچا کہ ہم زندگی میں بہت سا سازوسامان جمع کرتے ہیں، کپڑے، زیورات اور ہر قسم کی آسائشاتِ زندگی، مگر ہر جمع کی گئی چیز اثاثہ تو نہیں ہوتی۔ 

اصل اثاثہ تو کتابِ الہٰی سے کسبِ فیض ہے اور رمضان اِسی کمائی کا مہینا ہے۔ یہ مہینا انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اُس کی اصل طاقت اپنے ربّ کے ساتھ تعلق میں پوشیدہ ہے۔ جب بندہ اپنی نیند قربان کر کے سحری کے لیے بےدار ہوتا ہے، دن بَھر بُھوکا پیاسا رہنے کے بعد افطار کے وقت جذبۂ شُکر سے معمور ہو کر پانی کا پہلا گھونٹ پیتا ہے اور رات کی تاریکی و سنّاٹے میں اپنے ربّ کے حضور اپنی جبیں ٹیکتا ہے، تو اس کا دل آہستہ آہستہ بدلنے لگتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ’’جس نے ایمان اور احتساب کی نیّت سے رمضان کےروزے رکھے، اُس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔‘‘(صحیح بخاری)

اب مریم سوچ رہی تھی کہ شاید اصل امتحان تو رمضان کے بعد شروع ہوتا ہے کہ ماہِ صیام تو گویا تربیت کا مہینا ہے۔ یہ ماہِ مقدّس ہمیں نفس کو قابو میں رکھنا، زبان کو فضول گوئی سے روکنا اور دل کو نرم کرنا سکھاتا ہے۔ لہٰذا، یہاں اصل سوال یہ ہے کہ کیا ماہِ صیام کے بعد بھی ہم پر اِس مہینے کے اثرات باقی رہیں گے یا ہم چند روز بعد ہی پھر سے وہی غفلت کی زندگی گزارنا شروع کر دیں گے۔ اِسی کو تو’’ احتساب‘‘ کہتے ہیں۔ 

پھر اُسے وہ آیتِ قرآنی یاد آگئی کہ ترجمہ: ’’اور اُس عورت کی طرح نہ ہوجاؤ، جس نے سُوت کاتا اور پھر خُود ہی اُسے ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔‘‘ (سورۃ النحل) مریم کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی اور وہ دل ہی دل میں سوچنے لگی کہ سُوت ہی تو کاتا ہے، مہینے بھر…عجیب بات ہے کہ ہم عورتیں سُوت کاتنا، رشتے جوڑنا جانتی ہیں، گھربکھرنےنہیں دیتیں، ٹوٹے دِلوں کو بھی جوڑ دیتی ہیں۔ 

بکھرے گھر سمیٹتے سمیٹتے کبھی کبھار خود بکھرنے لگتی ہیں، لیکن پھر اپنے وجود سمیٹ کر کھڑی ہو جاتی ہیں، کیوں کہ عورت مضبوطی، استحکام اور استقامت کا دوسرا نام ہے۔ تو پھر مَیں ایمان کا سُوت کیوں ٹکڑے ٹکڑے کردوں؟ اُسی لمحے دروازے کے باہر سے بیٹی کی آواز آئی۔ ’’امّی! آپ کہاں ہیں؟ کل عید ہے۔‘‘ اپنی بیٹی کی مسرّت بھری کِھلکھلاتی آواز سُن کر مریم مُسکرائی اور پھر سے خیالات کی دُنیا میں کھو گئی۔

ہاں، کل عید ہی توہے…نئے کپڑے، منہدی کے نِت نئے ڈیزائنز، کھنکتی چوڑیاں، بیوٹی پارلر کے چکر، دعوتی کھانوں، مہمانوں کی فہرست اور بہت کچھ… مگر درحقیقت عید ان سب چیزوں سے کہیں بڑھ کرکسی حقیقی جذبے اور احساس کانام ہے۔ یعنی جب بندے کا دل اس یقین سے بھرجائے کہ ’’میرا رب مجھ سے راضی ہے‘‘ تو اُس کے لیے وہی لمحہ، عید کا حقیقی لمحہ ہوتا ہے۔

اس رمضان المبارک نے مریم کو ایک سبق یہ بھی سکھایا کہ رب کو صرف سجدوں ہی میں نہیں، اُس کے بندوں کے درمیان بھی تلاش کرنا چاہیے اور اِسی لیے اسلام نےعید کی نماز سے پہلے صدقۂ فطر ادا کرنے کا حُکم دیا ہے، کیوں کہ خوشی تنہا نہیں منائی جاتی اور پھر ویسے بھی انفاق، اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول اللہﷺ کا پسندیدہ عمل ہے اور یہی بندگی بھی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ ’’رحم کرنے والوں پر رحمٰن رحم کرتا ہے۔ تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔‘‘ مریم نے اپنا پرس کھولا اور اس میں سے فطرے کی رقم نکال کر الگ کر لی۔ اس بار یہ محض رقم نہیں تھی، اُس کے رمضانِ کریم کی حفاظت کا ذریعہ بھی تھی۔

پھر وہ آئینے کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ فیشل کی وجہ سے اُس کا چہرہ تروتازہ تھا، مگر آج وہ آئینے میں گویا اپنا باطن دیکھ رہی تھی۔ اُس نےخُود سے سرگوشی کی۔ ’’مَیں نے اس رمضان میں سب کو معاف کردیا۔ مَیں نے اپنی زبان کی حفاظت کا عزم کیا ہے۔

شکوے، شکایات چھوڑ کر شُکر سے دوستی کا فیصلہ کیا ہے، کیوں کہ عید دراصل باطن کا امتحان اور خُود سے ملاقات کا دن ہے۔ رمضان امتحان ہے اور عید نتیجہ۔ اگر نتیجے میں سُکون ملے، تو سمجھو رمضان قبول ہوا، لیکن اگر دل بےچین و مضطرب، ذہن اُلجھا ہوا اور زبان پر شکوے شکایات ہوں، تو پھر ہمیں شاید دوبارہ رجوع کرنا ہوگا۔‘‘

اگلی صُبح عید کی نماز سے پہلے اُس نے اپنی نند کو، جس سے کئی ماہ سے اُس کی بات چیت بند تھی، یہ پیغام بھیجا کہ ’’اگر میری وجہ سے تمہیں دُکھ پہنچا ہو، تو مُجھے معاف کر دینا۔‘‘ جو جواب آیا، وہ مختصر تھا کہ ’’آج واقعی عید ہے، عید مبارک۔‘‘ اُس لمحے مریم کو اپنا وجود نہایت ہلکا پُھلکا محسوس ہونے لگا۔ 

اُسے ایسا لگا کہ حقیقی خوشی باہر کے شور میں نہیں ہوتی، بلکہ وہ توخاموشی سے دل کے اندر اترتی ہے۔ ’’عید‘‘ دراصل اس بات کا یقین ہے کہ رمضان نے ہمیں بدل دیا ہے۔ یہ عہد ہے کہ شوال اور اس کےبعد بھی ہم نمازِ فجر ادا کرتے رہیں گے۔ یہ دُعا ہے کہ قرآن اب الماری میں نہیں، ہمارے دل میں رہے گا۔ وگرنہ… یہ نئے کپڑے پرانے ہوجائیں گے، شِیرخُرما ختم ہو جائے گا، سیلفیز یادوں میں بدل جائیں گی اور اگر دل پھر سے سخت ہوگیا، تو سب کچھ بے معنی ہوجائےگا۔ 

درحقیقت، عید اُن کے لیے ہے، جو اپنے ایمان کا سُوت ٹوٹنے نہیں دیتے اور اپنی خوشیوں میں دوسروں کو بھی شامل کرتے ہیں۔ عید اُن کے لیے ہے، جو اپنے ربّ سے وعدہ کرچُکے ہیں کہ اُسے ہرحال میں راضی رکھیں گے اور سچی خوشی تو اُس وقت ملتی ہے، جب آسمان پر تمہارا نام پُکار کر کہا جائے کہ ’’تمہاری ریاضت اور مجاہدے کو قبول کر لیا گیا ہے۔‘‘

یہ خیال آتے ہی مریم خوشی سے سرشار ہوگئی۔ اُسے یوں لگا، جیسے چاروں اطراف فضائیں پُرنور اور مترنّم ہوکر یہ ترانہ پڑھ رہی ہیں کہ ’’مریم! مبارک ہو… عید مبارک۔‘‘وہ تیزی سے کچن کی طرف بڑھی، جہاں چولھے پہ رکھا شِیرخُرمے کا دُودھ اُبل کر آدھا رہ گیا تھا۔ 

اُس کی بیٹیاں ہاتھوں پر منہدی لگائے تتلیوں کی طرح صحن میں اُڑتی پِھر رہی تھیں۔ میاں آواز لگا رہے تھے کہ ’’پہلے میرے کپڑے پریس کر دو۔ حمزہ کے کپڑے استری ہیں کہ نہیں؟‘‘ واقعی یہی عید ہے، جس کی ہر خوشی اور تیاری ایک عورت سے جُڑی ہوئی ہے۔

سنڈے میگزین سے مزید